از قلم: فیصل جنجوعہ
آج کے دور میں موٹیویشن ایک مقبول لفظ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا کھولیں تو کامیابی کے فارمولے، موٹیویشنل ویڈیوز، بڑے بڑے اقوال اور چند منٹوں میں زندگی بدلنے کے دعوے نظر آتے ہیں۔ نوجوان متاثر ہوتے ہیں، جوش پیدا ہوتا ہے، ارادے بنتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے محسوس ہوتا ہے کہ اب زندگی بدل جائے گی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف موٹیویشن انسان کو کامیاب بنا سکتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ موٹیویشن شروعات کروا سکتی ہے، مگر منزل تک ڈسپلن پہنچاتا ہے۔موٹیویشن کا تعلق احساس سے ہے، جبکہ ڈسپلن کا تعلق عادت سے۔ موٹیویشن اس وقت کام کرتی ہے جب انسان کا دل چاہے، لیکن ڈسپلن اس وقت بھی کام کرتا ہے جب دل نہ چاہے۔ آپ کو پڑھنے کا موٹیویشن مل سکتا ہے، مگر روزانہ وقت پر کتاب کھولنا ڈسپلن ہے۔ آپ کو صحت مند ہونے کا شوق پیدا ہوسکتا ہے، مگر روزانہ ورزش کرنا ڈسپلن ہے۔آپ کو کامیاب ہونے کی خواہش ہوسکتی ہے، مگر مسلسل محنت، وقت کی پابندی اور اپنی ذمہ داری پوری کرنا ڈسپلن ہے۔ ہماری ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ ہم جوش کو کامیابی اور مستقل مزاجی کو معمولی چیز سمجھنے لگے ہیں۔ تقریر سن کر جذباتی ہونا آسان ہے، مگر صبح الارم بجنے پر بستر چھوڑ دینا مشکل ہے۔ کامیابی تقریروں سے نہیں، روزانہ کے معمولات سے بنتی ہے۔ایک طالب علم اگر امتحان سے ایک ماہ پہلے موٹیویٹ ہو کر دس گھنٹے پڑھنے کا فیصلہ کرے، لیکن چند دن بعد دوبارہ معمول پر آ جائے تو اس موٹیویشن کی کوئی خاص حیثیت نہیں۔ اس کے برعکس وہ طالب علم جو روزانہ دو یا تین گھنٹے باقاعدگی سے پڑھتا ہے، چاہے اس دن اس کا موڈ ہو یا نہ ہو، وہ اپنی منزل کے زیادہ قریب پہنچتا ہے۔ موٹیویشن کہتی ہے: "میرا دل چاہتا ہے۔” ڈسپلن کہتا ہے: "مجھے کرنا ہے۔” یہی دونوں جملوں کا فرق انسان کے مستقبل کا فرق بن جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی ہمیں اسی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو صرف موٹیویشنل لیکچرز دینے سے ان کی شخصیت نہیں بنتی۔ انہیں وقت کی پابندی، باقاعدگی، ذمہ داری، صفائی، احترام، ہوم ورک، مطالعہ اور اصولوں کی پابندی بھی سکھانا ضروری ہے۔ ایک ایسا طالب علم جو ہر وقت موٹیویشن کی تلاش میں رہتا ہے، وہ اپنے عمل کو اپنے موڈ کا محتاج بنا سکتا ہے۔ جبکہ ڈسپلن انسان کو موڈ کا غلام بننے سے بچاتا ہے۔ زندگی میں ہر دن اچھا نہیں ہوتا۔ کبھی تھکن ہوگی، کبھی ناکامی، کبھی مایوسی، کبھی تنقید اور کبھی حالات انسان کے خلاف ہوں گے۔ ایسے وقت میں موٹیویشن کمزور پڑ سکتی ہے، مگر ڈسپلن انسان کو پھر بھی آگے بڑھاتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب انسان ہر صبح خود سے یہ نہیں پوچھتا کہ "آج میرا موڈ کیسا ہے؟” بلکہ وہ جانتا ہے کہ آج اس نے کیا کرنا ہے۔ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو صرف خواب دیکھنا نہیں، خوابوں کے لیے روزانہ کام کرنا سکھانا ہوگا۔انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ کامیابی کسی ایک شاندار دن کا نتیجہ نہیں بلکہ سینکڑوں عام دنوں کی مسلسل محنت کا مجموعہ ہے۔ موٹیویشن اچھی چیز ہے۔ یہ انسان کے اندر امید، جذبہ اور سمت پیدا کرتی ہے۔ مگر اگر اس جذبے کے ساتھ ڈسپلن نہ ہو تو موٹیویشن بھی چند لمحوں کی آگ بن کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے موٹیویشن کو رد نہیں کرنا، بلکہ اسے ڈسپلن کے ساتھ جوڑنا ہے۔ کیونکہ: موٹیویشن آپ کو شروع کرواتی ہے، ڈسپلن آپ کو جاری رکھتا ہے، اور مستقل مزاجی آپ کو منزل تک پہنچاتی ہے۔ آخرکار زندگی ان لوگوں کو نہیں بدلتی جو صرف متاثر ہوتے ہیں، زندگی ان لوگوں کو بدلتی ہے جو اپنے معمولات بدلتے ہیں۔ جوش چند لمحوں کا ہو سکتا ہے، مگر ڈسپلن پوری زندگی کی طاقت بن سکتا ہے۔
