اکتوبر 2, 2026

"اولاد کا مستقبل، صرف ڈگری نہیں”

تحریر : بنت شبیر احمد قریشی

میں جس مکتب میں پڑھاتی ہوں، وہاں بچوں کی کلاس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی ہوتی ہے۔ یہ ڈیڑھ گھنٹہ محض قرآن پاک پڑھنے کا وقت نہیں، بلکہ بچوں کو قرآنِ پاک،کے ساتھ ساتھ کلمے، دعائیں، نماز، احادیث بنیادی دینی مسائل، آداب، واقعات اور زندگی گزارنے کا وہ شعور دینے کی کوشش ہے۔۔۔ جس کی ضرورت انہیں صرف آج نہیں، پوری زندگی رہتی ہے۔

مگر افسوس! آج بعض والدین کے نزدیک یہی ڈیڑھ گھنٹہ بھی شاید بہت زیادہ ہے۔

بچے اکثر چھٹی مانگتے کہ ٹیوشن کے لیے چھٹی دے دیں۔۔۔۔ لیکن آج ایک بچی کی والدہ آئیں کہنے لگیں:

’’بچی کو ٹیوشن جانا ہوتا ہے، وہاں وقت کم پڑ جاتا ہے، مدرسہ کے لیے تو گھنٹہ بھی بہت زیادہ ہے آپ اسے مدرسے سے جلدی چھٹی دے دیا کریں‘‘

میں نے عرض کیا:

’’سکول میں 6، 7 گھنٹے دینے کے بعد ٹیوشن کے لیے 2 گھنٹے بھی وقت کم پڑ رہا ہے، اور مدرسہ کے لیے آپکو ڈیرھ گھنٹہ بھی زیادہ لگ رہا ہے؟‘‘

وہ کہنے لگیں:

’’آپ کی بات بھی ٹھیک ہے، لیکن آج کا زمانہ ایسا ہے کہ تعلیم بہت ضروری ہے۔ ہماری بچیاں پڑھ لکھی ہونی چاہئیں، انہیں آگے بڑھنا چاہیے ۔ اس لیے سکول بہت زیادہ ضروری ہے اگر آپ اسے جلدی چھٹی دیں تو بہتر ورنہ میں بچی کو مدرسہ سے ہٹا دوں گی کیونکہ ٹیوشن کا وقت کم پڑ جاتا ہے‘‘

انکی اس سوچ نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا،،،، ٹھیک ہے بیٹیوں کا تعلیم یافتہ ہونا یقیناً ضروری ہے۔ میں نے خود بھی دنیاوی تعلیم حاصل کی ہے،کالج تک گئی ہوں۔ ہمیں اسکول، کالج یا ٹیوشن کی تعلیم سے کوئی اختلاف نہیں۔ سوال تو صرف یہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات میں دین کو کہاں رکھتے ہیں؟

ہم اپنے بچوں کے لیے اسکول کے چھ، سات گھنٹے نکالتے ہیں، پھر ٹیوشن اور اکیڈمی کے لیے دو، تین گھنٹے بھی نکال لیتے ہیں۔ امتحان قریب ہو تو بچے کی پڑھائی کے لیے اضافی وقت بھی نکالا جاتا ہے۔ ہر مضمون کے لیے فکر ہوتی ہے کہ کہیں بچہ پیچھے نہ رہ جائے۔

مگر جب قرآنِ پاک کی باری آتی ہے تو ایک ڈیڑھ گھنٹہ بھی زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

ہم چاہتے ہیں ہمارا بچہ ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، استاد بنے، افسر بنے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ یہ سب اچھی خواہشیں ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ: وہ ایک اچھی مسلمان بھی بنے؟

اسے قرآنِ پاک پڑھنا آتا ہو، نماز کا طریقہ معلوم ہو، کلمے اور دعائیں یاد ہوں، حلال و حرام کا شعور ہو، والدین کے حقوق کا علم ہو اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے تعلق کا احساس ہو۔

ایک زمانہ تھا جب… ہماری مائیں اور دادیاں شاید آج کے معنوں میں زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں، مگر ان کے اندر زندگی کا ایک ایسا شعور تھا جو آج بہت سے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی کم دکھائی دیتا ہے۔ انہیں نماز کی فکر تھی، قرآن سے تعلق تھا، حلال و حرام کا فرق معلوم تھا اور اولاد کی تربیت صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے کرتی تھیں۔

آج ہمارے بچوں کے پاس مہنگے اسکول ہیں، ٹیوشن ہیں، اکیڈمیاں ہیں، جدید سہولتیں ہیں، مگر کبھی کبھی قرآنِ پاک پڑھنے کے لیے وقت نہیں۔

اور پھر زندگی ہمیں ایسے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اسکول کی کتابیں اور ڈگریاں خاموش ہو جاتی ہیں۔

کبھی گھر میں ماں یا باپ کی میت سامنے ہوتی ہے اور اولاد کو جنازے کی نماز تک صحیح طرح نہیں آتی۔

کبھی کسی عزیز کے انتقال پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ غسل کیسے دیں قرآن پڑھ کر ایصالِ ثواب کیسے کریں؟

ذرا سوچیے! جن والدین نے اپنی پوری زندگی ہماری دنیا سنوارنے میں لگا دی، اگر ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد ان کے لیے قرآن کی چند آیات بھی نہ پڑھ سکے، دعا بھی نہ کر سکے اور جنازہ بھی نہ پڑھ سکے، تو پھر ہماری تعلیم کہاں مکمل ہوئی؟

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن صرف مدرسے کے استاد کی ذمہ داری نہیں، یہ والدین کی بھی ذمہ داری ہے۔ مدرسہ بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلنے کی فضا گھر سے بنتی ہے۔

دنیاوی تعلیم ہمارے بچوں کو روزگار، مقام اور کامیابی کے مواقع دے سکتی ہے، مگر دینی تعلیم انہیں یہ سکھاتی ہے کہ اس کامیابی کو صحیح راستے پر کیسے استعمال کرنا ہے، والدین کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے، حلال و حرام میں فرق کیسے کرنا ہے اور اللہ کے سامنے اپنی زندگی کا حساب کیسے دینا ہے۔

اس لیے ہمیں اپنے بچوں کے وقت کی تقسیم پر ذرا دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

ٹیوشن کا وقت اہم ہے تو قرآن کا بھی اہم ہونا چاہیے۔

اسکول کی حاضری ضروری ہے تو مکتب کی حاضری بھی ضروری ہونی چاہیے۔

امتحان کی تیاری ضروری ہے تو آخرت کی تیاری بھی ضروری ہونی چاہیے۔

ہم اپنی اولاد کو دنیا کے مقابلے کے لیے تیار کر رہے ہیں، یہ اچھی بات ہے۔ مگر کیا ہم انہیں اس دن کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں جب نہ اسکول ہوگا، نہ ٹیوشن، نہ ڈگری، نہ عہدہ—صرف اعمال ہوں گے؟

والدین سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ بچوں کو دنیا کی تعلیم ضرور دیں، خوب پڑھائیں، آگے بڑھائیں، لیکن قرآن کو راستے میں کہیں پیچھے نہ چھوڑ دیں۔

کیونکہ دنیا کی تعلیم ہمارے بچوں کو کامیاب بنا سکتی ہے، مگر قرآن انہیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی کیا ہے۔

اور شاید ہمیں کبھی اپنی اولاد کے بارے میں یہ کہنے کی نوبت نہ آئے:

’’ہم نے اپنی اولاد کو دنیا کی ہر تعلیم تو دلوائی، مگر وہ ہمارے لیے دعا کرنا، ہماری نماز ِ جنازہ پڑھنا بھی نہ سیکھ سکی۔‘‘

اللہ پاک ہم سبکو دین اور دنیا دونوں کی بھلائیاں نصیب کرے آمین