ڈاکٹر تصور حسین مرزا
زبان میں بعض الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو تلفظ میں ایک دوسرے سے مشابہ محسوس ہوتے ہیں، مگر معنی کے اعتبار سے ان میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ ’’اتائیت‘‘ اور ’’عطائیت‘‘ بھی ایسے ہی الفاظ ہیں۔ ’’اتائیت‘‘ کا تعلق عموماً ایسی صورتِ حال سے ہے جس میں کوئی شخص مطلوبہ علمی، فنی، پیشہ ورانہ یا قانونی اہلیت کے بغیر کسی تخصصی شعبے میں ماہر ہونے کا دعویٰ کرے یا عملی مداخلت کرے، جبکہ ’’عطا‘‘ کا تعلق بخشش، عنایت، نوازش اور کسی نعمت کے دیے جانے سے ہے۔ دونوں الفاظ کی صوتی مشابہت کے باعث بعض اوقات انہیں ایک دوسرے کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ ان کے مفاہیم مختلف ہیں۔
’’اتائی‘‘ کی اصطلاح ہمارے معاشرے میں بالخصوص طب کے شعبے میں استعمال ہوتی ہے۔ عام طور پر ایسے شخص کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے جو مناسب طبی تعلیم، تربیت، پیشہ ورانہ اہلیت یا قانونی اجازت کے بغیر تشخیص یا علاج معالجے کا کام انجام دے۔ اس طرزِ عمل کو ’’اتائیت‘‘ کہا جاتا ہے۔ طبی شعبے میں یہ معاملہ اس لیے زیادہ حساس ہے کہ انسانی صحت اور زندگی براہِ راست اس سے وابستہ ہوتی ہے۔ غلط تشخیص، نامناسب علاج، غیر ضروری ادویات کا استعمال یا کسی سنگین بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہونا مریض کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے طبی خدمات میں تعلیم، تربیت، اہلیت اور متعلقہ قوانین کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم ’’اتائیت‘‘ کو صرف طب تک محدود سمجھنا بھی درست نہیں۔ وسیع تر مفہوم میں یہ اصطلاح ایسے رویے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے جس میں کوئی شخص مناسب علم یا تربیت کے بغیر کسی تخصصی شعبے میں خود کو ماہر ظاہر کرے اور دوسروں کو ذمہ دارانہ نوعیت کے مشورے دینے لگے۔ مثلاً سائنسی بنیاد کے بغیر پیچیدہ طبی دعوے کرنا، مناسب قانونی علم کے بغیر حتمی قانونی مشورے دینا یا مالی معاملات کی مکمل سمجھ کے بغیر لوگوں کو سنجیدہ مالی فیصلوں پر آمادہ کرنا ایسے رویوں کی مثالیں ہو سکتی ہیں۔
لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر کم علم شخص کو ’’اتائی‘‘ قرار دینا درست نہیں۔ علم ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے اور ہر شخص ہر شعبے میں ماہر نہیں ہو سکتا۔ کسی موضوع سے کم واقف ہونا اور مناسب اہلیت کے بغیر خود کو ماہر ظاہر کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اسی طرح عملی تجربہ بھی علم اور مہارت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے محض کسی مخصوص ڈگری کی عدم موجودگی کو کسی شخص کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ شخص کیا کام کر رہا ہے، اس کے پاس اس کام کے لیے مطلوبہ اہلیت اور تربیت موجود ہے یا نہیں، اور اس کے عمل سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا امکان کس قدر ہے۔
اب ’’عطائیت‘‘ کی طرف آتے ہیں۔ یہ لفظ ’’عطا‘‘ سے مشتق ہے۔ ’’عطا‘‘ کے معنی ہیں دینا، بخشنا، عنایت کرنا یا نوازنا۔ اردو اور عربی دونوں میں ’’عطا‘‘ ایک مثبت اور خوبصورت مفہوم رکھتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا فرمائی، علم عطا کیا، صحت عطا کی، صلاحیت عطا کی اور زندگی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ یہاں ’’عطا‘‘ کا تعلق بخشش، نعمت اور عنایت سے ہے۔
انسانی صلاحیتوں کے حوالے سے بھی عطا کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ کسی کو بہترین حافظہ، کسی کو خوبصورت آواز، کسی کو تحریر و تقریر کی صلاحیت، کسی کو فنی مہارت اور کسی کو مشکل حالات میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت حاصل ہو سکتی ہے۔ ایسی صلاحیتوں کو قدرت کی عطا یا اللہ تعالیٰ کی عطا کہا جا سکتا ہے۔ تاہم اردو کے عام اور فصیح استعمال میں ’’عطائیت‘‘ کے بجائے سیاق کے مطابق ’’عطا‘‘، ’’عنایت‘‘، ’’بخشش‘‘، ’’نوازش‘‘ یا ’’عطائی صلاحیت‘‘ جیسے الفاظ زیادہ واضح اور مانوس ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ’’اتائیت‘‘ اور ’’عطا‘‘ کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرنا درست نہیں۔ اگر بات غیر مستند یا بغیر مطلوبہ اہلیت کے کسی تخصصی کام میں مداخلت کی ہو تو ’’اتائیت‘‘ موزوں اصطلاح ہے، جبکہ کسی نعمت، صلاحیت، بخشش یا عنایت کے بیان میں ’’عطا‘‘ اور اس سے متعلق الفاظ زیادہ مناسب ہیں۔
آج معلومات کا دور ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن ساتھ ہی غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہر شخص کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، لیکن ہر رائے علم نہیں ہوتی اور ہر دعویٰ حقیقت نہیں ہوتا۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی محدود معلومات کو مکمل علم سمجھ کر دوسروں کو ایسے مشورے دینے لگے جن کے نتائج سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ خصوصاً طب، قانون، مالیات، انجینئرنگ اور دیگر تخصصی شعبوں میں غیر ذمہ دارانہ مشورہ نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
دانائی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش کرے۔ دانائی یہ بھی ہے کہ جہاں علم یا تجربہ کافی نہ ہو وہاں اپنی حدود کو تسلیم کیا جائے اور متعلقہ ماہر سے رجوع کیا جائے۔ ’’مجھے اس بارے میں مکمل معلومات نہیں‘‘ کہنا کمزوری نہیں بلکہ علمی دیانت کی علامت ہے۔
اسی طرح ’’اتائی‘‘ جیسی اصطلاح کو محض اختلاف، غصے یا ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ کسی شخص کے بارے میں یہ لفظ استعمال کرنے سے پہلے اس کے عمل، اہلیت، تربیت اور متعلقہ قانونی تقاضوں کو دیکھنا ضروری ہے۔
آخر میں بات پھر الفاظ کی طرف آتی ہے۔ ’’اتائیت‘‘ اور ’’عطا‘‘ بظاہر آواز میں قریب محسوس ہوتے ہیں، مگر مفہوم کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ اتائیت ہمیں علم، اہلیت، ذمہ داری اور پیشہ ورانہ حدود کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتی ہے، جبکہ عطا ہمیں بخشش، نعمت، عنایت اور صلاحیت کے خوبصورت تصور سے جوڑتی ہے۔
الفاظ بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں، مگر ان کے معنی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ درست لفظ صرف تحریر کو خوبصورت نہیں بناتا بلکہ خیال کو واضح، مؤثر اور درست انداز میں قاری تک پہنچاتا ہے۔




