تحریر:محمدانوربھٹی
انقلاب کا لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں عموماً حکومتوں کا تختہ الٹنے سڑکوں پر ہجوم نکلنے یا کسی بڑے سیاسی تصادم کا تصور پیدا ہوتا ہے حالانکہ انقلاب کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے انقلاب دراصل اس وقت جنم لیتا ہے جب معاشرے کا موجودہ طریقہ زندگی عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہوجائے اور لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ معمولی اصلاحات سے بنیادی خرابی دور نہیں ہوسکتی انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ سوچ ترجیحات اداروں معیشت حکمرانی اور اجتماعی رویوں میں ایسی بنیادی تبدیلی کا نام ہے جو معاشرے کی سمت تبدیل کردے اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان میں انقلاب کی بحث کو محض سیاسی نعرہ سمجھ کر مسترد کرنا بھی درست نہیں اور اسے فوری طور پر تصادم یا انتشار کا راستہ سمجھ لینا بھی دانش مندی نہیں اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کس نوعیت کی تبدیلی درکار ہے اور وہ تبدیلی کس راستے سے حاصل کی جاسکتی ہے
پاکستان نے اپنی تاریخ میں کئی بڑے بحران دیکھے ہیں سیاسی عدم استحکام معاشی مشکلات جنگیں دہشت گردی قدرتی آفات مہنگائی بے روزگاری اور ادارہ جاتی کمزوریاں بار بار قومی زندگی کو متاثر کرتی رہی ہیں اس کے باوجود یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ صلاحیت کو منظم اور مستقل سمت دینے کا مسئلہ زیادہ نمایاں ہے ملک کے پاس بڑی نوجوان آبادی زرعی وسائل صنعتی صلاحیت جغرافیائی اہمیت سمندر تک رسائی وسیع منڈی اور محنت کرنے والی افرادی قوت موجود ہے لیکن ان امکانات کو پائیدار قومی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل پالیسی تسلسل بہتر حکمرانی انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہے عالمی بینک کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں کمی ہوئی تھی لیکن حالیہ برسوں میں یہ پیش رفت رک گئی اور 2023 اور 2024 کے دوران قومی غربت کی شرح تقریباً 25 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ دیا گیا جبکہ تعلیم صحت بنیادی سہولیات اور روزگار کے مواقع میں کمزوریاں اب بھی بڑے چیلنج ہیں یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ان کے پیچھے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں ہیں جو مہنگائی کے دباؤ روزگار کی غیر یقینی صورتحال بچوں کی تعلیم علاج معالجے اور روزمرہ ضروریات کے مسائل سے گزر رہے ہیں
یہاں انقلاب کی اہمیت سامنے آتی ہے کیونکہ کسی بھی معاشرے میں اس وقت بڑی تبدیلی ناگزیر محسوس ہونے لگتی ہے جب عوام کو یہ یقین نہ رہے کہ موجودہ نظام ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی بے چینی کو تخریب کی طرف لے جانے کے بجائے تعمیر کی سمت دی جائے اگر انقلاب کا مطلب قانون توڑنا ادارے تباہ کرنا مخالفین کو دشمن سمجھنا یا اقتدار پر قبضہ حاصل کرنا ہے تو ایسا انقلاب معاشرے کو مزید تقسیم کرسکتا ہے لیکن اگر انقلاب کا مطلب یہ ہو کہ ریاست کا مرکز عام شہری کی عزت قانون کی بالادستی انصاف تعلیم صحت روزگار اور بنیادی انسانی ضرورتیں بن جائیں تو یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس کی ضرورت ہر ترقی پذیر معاشرے کو محسوس ہوسکتی ہے پاکستان کو شاید سب سے پہلے اسی فکری انقلاب کی ضرورت ہے جہاں ہم شخصیت پرستی سے ادارہ پرستی کی طرف آئیں وقتی نعروں سے مستقل پالیسی کی طرف جائیں سفارش سے میرٹ کی طرف بڑھیں اور حقوق کے ساتھ ذمہ داریوں کو بھی سمجھیں۔
کسی بھی انقلاب کا پہلا محرک صرف غربت نہیں ہوتا بلکہ غربت کے ساتھ ناانصافی کا احساس زیادہ خطرناک محرک بن جاتا ہے جب ایک شہری یہ دیکھتا ہے کہ قانون اس کے لیے کچھ اور ہے اور بااثر شخص کے لیے کچھ اور جب ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم رہتا ہے جب ایک غریب خاندان بیماری کی وجہ سے اپنی جمع پونجی ختم کردیتا ہے جب ایک کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے جب ایک مزدور مہنگائی کے مقابلے میں اپنی آمدنی کو بے بس پاتا ہے اور جب عام آدمی ریاستی اداروں سے بروقت انصاف اور بنیادی سہولت حاصل کرنے میں مشکلات محسوس کرتا ہے تو معاشرے میں بے اطمینانی بڑھتی ہے یہی بے اطمینانی اگر مسلسل نظر انداز ہو تو سیاسی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے لیکن یہی کیفیت اگر سنجیدہ اصلاحات کا ذریعہ بن جائے تو معاشرہ تصادم کے بجائے تعمیر کی طرف بھی جاسکتا ہے
پاکستان میں انقلاب کی ضرورت پر گفتگو کرتے وقت تعلیم کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی کیونکہ ناخواندہ یا ناقص تعلیم یافتہ معاشرہ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو پوری طرح سمجھنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک چوتھائی پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچے اسکول سے باہر ہیں اور اسکول جانے والے بچوں میں بھی سیکھنے کے نتائج ایک بڑا مسئلہ ہیں جبکہ تقریباً 40 فیصد کم عمر بچوں میں نشوونما کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے اگر کسی ملک کی بڑی تعداد میں نئی نسل مناسب تعلیم صحت اور غذائیت سے محروم ہو تو اس ملک کے مستقبل کی بنیاد کمزور ہوجاتی ہے اس لیے حقیقی انقلاب کی پہلی علامت یہ ہونی چاہیے کہ ریاست اپنے بچے کو بوجھ نہیں سرمایہ سمجھے اسکول کو عمارت نہیں مستقبل کی فیکٹری سمجھے استاد کو صرف سرکاری ملازم نہیں قوم کا معمار سمجھے اور تعلیم کو بجٹ میں بچ جانے والی رقم کے بجائے قومی ترجیح قرار دے۔
معاشی انقلاب بھی اسی تبدیلی کا بنیادی حصہ ہے پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خزانہ کم ہے مسئلہ یہ بھی ہے کہ محدود وسائل کو کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے ایسی معیشت جو مسلسل قرض کے دباؤ میں رہے درآمدات اور برآمدات کے درمیان مستقل عدم توازن کا شکار ہو ٹیکس کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم نہ ہو اور نوجوانوں کے لیے معیاری روزگار پیدا نہ کرسکے وہ دیرپا خوشحالی پیدا نہیں کرسکتی عالمی بینک نے بھی پاکستان کے لیے مالیاتی اصلاحات بہتر ٹیکس نظام انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری نجی شعبے کی پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کو بنیادی ترجیحات میں شامل کیا ہے اس لیے معاشی انقلاب کا مطلب صرف کرنسی کی قدر بہتر کرنا یا چند دن کے لیے مہنگائی کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پیداواری معیشت قائم کرنا ہے جہاں صنعت زراعت تجارت ٹیکنالوجی برآمدات اور چھوٹے کاروبار حقیقی روزگار پیدا کریں اور نوجوان اپنی صلاحیت ملک کے اندر استعمال کرنے کو ترجیح دیں۔
انقلاب کا ایک اور بنیادی تقاضا اداروں کی اصلاح ہے کیونکہ کمزور اداروں کے ساتھ مضبوط ملک کا تصور دیرپا نہیں ہوسکتا حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ریاستی ادارے مستقل ہوتے ہیں اگر ادارے قانون کے بجائے شخصیات کے تابع ہوجائیں تو نظام ہر حکومت کے ساتھ نئی سمت اختیار کرتا ہے اس کے برعکس مضبوط ادارے حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود ریاستی پالیسی میں تسلسل پیدا کرتے ہیں اسی لیے پاکستان میں بنیادی تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ ہونا چاہیے کہ اداروں میں میرٹ شفافیت جواب دہی اور قانون کی بالادستی کو مضبوط کیا جائے سرکاری افسر شہری کا حاکم نہیں خادم ہو پارلیمان قانون سازی اور نگرانی کا مؤثر مرکز ہو بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل ملیں اور عام شہری کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ہر چھوٹے کام کے لیے بڑے دفتر کے دروازے پر نہ جانا پڑے عالمی بینک بھی پاکستان میں مقامی حکمرانی بنیادی خدمات اور جواب دہ اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی انقلاب کی بحث بھی اسی حقیقت سے جڑی ہوئی ہے سیاست کا بنیادی مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل حل کرنا ہونا چاہیے اگر سیاسی جماعتیں اپنے منشور کو عملی منصوبوں میں تبدیل کریں ان کے پاس تعلیم صحت روزگار معیشت توانائی زراعت اور مقامی حکومت کے بارے میں واضح اہداف ہوں اور عوام ان کی کارکردگی کا احتساب کرسکیں تو سیاسی نظام بتدریج زیادہ ذمہ دار ہوسکتا ہے اس کے لیے عوام کا کردار بھی بنیادی ہے ووٹ صرف شخصیت برادری ذات یا وقتی جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ کارکردگی کردار منشور اور قابل عمل پروگرام کی بنیاد پر استعمال ہونا چاہیے سیاسی شعور کا یہی ارتقا کسی بھی پائیدار جمہوری تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔
انقلاب کی کامیابی کے لیے صرف عوامی غصہ کافی نہیں ہوتا اس کے لیے واضح منزل بھی ضروری ہے جو لوگ تبدیلی چاہتے ہیں انہیں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ تبدیلی کے بعد نظام کیسا ہوگا ریاستی ادارے کیسے چلیں گے معیشت کس اصول پر قائم ہوگی تعلیم اور صحت کی ترجیحات کیا ہوں گی انصاف کیسے عام ہوگا ٹیکس کا نظام کیسے منصفانہ بنایا جائے گا اور طاقتور و کمزور کے لیے قانون کی یکساں عمل داری کیسے یقینی بنائی جائے گی اگر ان سوالات کے جواب موجود نہ ہوں تو انقلاب صرف پرانے نظام کے خلاف احتجاج بن کر رہ جاتا ہے اور ممکن ہے کہ پرانے مسائل نئی شکل میں دوبارہ سامنے آجائیں تاریخ کا ایک اہم سبق یہی ہے کہ حکومت تبدیل کرنا نسبتاً آسان ہے لیکن حکمرانی کا معیار تبدیل کرنا مشکل کام ہے۔
اس لیے پاکستان میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے قومی اتفاق رائے بھی ضروری ہے انقلاب اگر معاشرے کو مزید تقسیم کردے تو اس کی قیمت عام شہری ادا کرتا ہے لیکن اگر تبدیلی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوامی شعور ادارہ جاتی اصلاح اور پُرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھے تو اس کے امکانات زیادہ دیرپا ہوسکتے ہیں پاکستان کا آئین ریاستی نظم کے لیے پارلیمان انتخابات اور مقامی حکومتوں سمیت باقاعدہ آئینی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے لہٰذا تبدیلی کا پائیدار راستہ آئین کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ آئینی اداروں کو مضبوط اور مؤثر بنانا ہے۔
اصل انقلاب شاید اس دن شروع ہوگا جب پاکستان کا شہری اپنے حق کے ساتھ اپنی ذمہ داری بھی پہچانے گا جب سرکاری ملازم سفارش کے بجائے میرٹ کو ترجیح دے گا جب استاد تعلیم کو محض ملازمت نہیں مشن سمجھے گا جب سیاست دان اقتدار کے بجائے کارکردگی کو اپنی کامیابی کا پیمانہ بنائے گا جب تاجر دیانت دار تجارت کو اپنی ذمہ داری سمجھے گا جب نوجوان مایوسی کے بجائے علم ہنر اور کردار کو اپنا سرمایہ بنائے گا اور جب ریاست شہری کو بوجھ یا ووٹ نہیں بلکہ انسان اور برابر کا شہری سمجھے گی یہی وہ تبدیلی ہے جو کسی بھی سیاسی نعرے سے زیادہ گہری اور کسی بھی وقتی احتجاج سے زیادہ پائیدار ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں انقلاب لایا جاسکتا ہے لیکن اس انقلاب کو سمجھنے کی ضرورت ہے اگر انقلاب سے مراد تشدد انتشار اور ریاستی ڈھانچے کی تباہی ہے تو اس کے نتائج غیر یقینی اور نقصان دہ ہوسکتے ہیں لیکن اگر انقلاب سے مراد قومی سوچ کی تبدیلی آئینی جدوجہد ادارہ جاتی اصلاح معاشی انصاف تعلیم صحت میرٹ شفافیت اور قانون کی بالادستی ہے تو ایسی تبدیلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ پاکستان کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے عالمی بینک کی حالیہ سفارشات بھی اسی سمت میں انسانی سرمائے بنیادی خدمات روزگار مالیاتی نظم مقامی حکمرانی اور شفاف فیصلہ سازی پر زور دیتی ہیں۔
لہٰذا پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ انقلاب آئے یا نہ آئے اصل سوال یہ ہے کہ ہم تبدیلی کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں ہمیں ایسا انقلاب نہیں چاہیے جو صرف چہرے بدل دے ہمیں ایسی تبدیلی چاہیے جو نظام کے رویے بدل دے ہمیں ایسی جدوجہد درکار ہے جو عوام کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑے اداروں کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرے قانون کو طاقتور کے تابع کرنے کے بجائے سب پر یکساں نافذ کرے اور آنے والی نسل کو قرض مہنگائی بے روزگاری اور محرومی کی وراثت دینے کے بجائے علم ہنر روزگار انصاف اور عزت کا مستقبل دے اگر اس مقصد کے لیے قوم اجتماعی شعور پیدا کرے سیاسی و آئینی راستوں کو مؤثر بنائے اور اصلاحات کو حکومتوں کی مدت سے بالاتر قومی ایجنڈا بنادے تو یہی پاکستان کا حقیقی اور پائیدار انقلاب ہوگا کیونکہ قومیں صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں بدلتیں قومیں اس وقت بدلتی ہیں جب ان کی سوچ ترجیحات ادارے اور اجتماعی کردار بدل جاتے ہیں۔
