کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان میں پولیس کا محکمہ ہمیشہ سے ریاستی نظم و نسق، قانون کی عمل داری، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور معاشرتی امن کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ پولیس کا سپاہی ہو یا اعلیٰ افسر، دونوں کی ذمہ داری بظاہر مختلف سہی مگر مقصد ایک ہی ہے کہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رہے اور شہری خود کو محفوظ تصور کریں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں پولیس کے حوالے سے شکایات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ کہیں مقدمہ درج نہ ہونے کی شکایت ہوتی ہے، کہیں تفتیش پر سوال اٹھتے ہیں، کہیں پولیس کی تاخیر عوام کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے اور کہیں چند اہلکاروں کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث پورے محکمے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ لیکن کیا چند افراد کے عمل کی بنیاد پر پورے محکمہ پولیس کو بدعنوان، نااہل یا عوام دشمن قرار دینا انصاف ہوگا؟ میرے نزدیک اس کا جواب نفی میں ہے۔میں نے اپنی صحافتی زندگی میں مختلف محکموں، اداروں اور سرکاری افسران کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ رابطے دیکھے اور محسوس کیے ہیں۔ پولیس میں بھی ایسے افسران اور اہلکار موجود رہے ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں غیر معمولی جرات، فرض شناسی، دیانت داری اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا۔ بعض پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں، مگر ان کی قربانی اکثر خبروں کی بھیڑ میں کہیں گم ہوجاتی ہے۔اسی لیے آج میں محکمہ پولیس کے ایک ایسے افسر کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں میں ان افسران میں شمار کرتا ہوں جو اپنی محنت، لگن، تجربے اور محکمانہ خدمات کے باعث اعلیٰ مقام تک پہنچے ہیں، اور وہ ہیں ڈی آئی جی عرفان بلوچ۔ کسی افسر کی تعریف کرنا میرے لیے محض تعریف برائے تعریف نہیں۔ بحیثیت صحافی میرا اصول یہ ہے کہ جہاں غلطی ہو وہاں اصلاحی تنقید کی جائے، جہاں کمزوری ہو وہاں نشاندہی کی جائے اور جہاں کوئی مثبت اور قابلِ تحسین اقدام سامنے آئے وہاں اسے تسلیم بھی کیا جائے۔ صحافت صرف تنقید کا نام نہیں بلکہ معاشرے میں اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی بھی صحافتی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ چند افراد، پورا محکمہ نہیں ہمیں یہ بنیادی اصول کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کسی بھی بڑے ادارے میں ہر فرد ایک جیسا نہیں ہوتا۔ پولیس کے لاکھوں فرائض، مختلف علاقوں، مختلف نوعیت کے جرائم اور مختلف حالات میں انجام پاتے ہیں۔ کسی تھانے کا محرر، کانسٹیبل، تفتیشی افسر، ایس ایچ او، ایس پی، ایس ایس پی، ڈی آئی جی اور آئی جی ہر سطح پر ذمہ داری کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ایک پولیس اہلکار کئی گھنٹوں تک ڈیوٹی انجام دیتا ہے، عید ہو یا بقر عید، محرم ہو یا کوئی بڑا قومی دن، شدید گرمی ہو یا بارش، اسے اپنی ذمہ داری نبھانا ہوتی ہے۔ سڑک پر کھڑا اہلکار شاید بظاہر معمولی ذمہ داری انجام دیتا دکھائی دے، مگر کسی ہنگامی صورتحال میں سب سے پہلے اسی کو عوام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے پولیس کے پورے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں صرف تنقید نہیں بلکہ اصلاح، وسائل، تربیت، احتساب اور قیادت ان تمام پہلوؤں پر بیک وقت توجہ دینا ہوگی۔

سرجانی ٹاؤن کا واقعہ اور پولیس کا ردعمل
حالیہ دنوں میں سرجانی ٹاؤن میں پیش آنے والے ایک انسانیت سوز واقعے نے شہریوں کو متاثر کیا۔ ایسے واقعات محض ایک خاندان یا چند افراد کا مسئلہ نہیں ہوتے بلکہ پورے معاشرے کے احساسِ تحفظ کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر پولیس کا فوری ردعمل، شواہد کا حصول، ملزمان تک رسائی، قانونی کارروائی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ میرے مشاہدے اور دستیاب اطلاعات کے مطابق اس معاملے میں پولیس کی جانب سے جس سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز کا مظاہرہ کیا گیا، وہ قابلِ ذکر ہے۔ اعلیٰ پولیس قیادت کی نگرانی، احکامات اور ماتحت افسران و اہلکاروں کی عملی کوششوں کے نتیجے میں کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔ اسی تناظر میں ڈی آئی جی عرفان بلوچ کا کردار مجھے قابلِ تحسین محسوس ہوا۔ یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پولیس کی اصل کامیابی صرف کسی ایک واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب جرم کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام قائم ہو، شہری بروقت پولیس سے رابطہ کرسکیں، شکایات پر فوری ردعمل ملے اور قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہو۔
پولیس کو عوام کا اعتماد واپس حاصل کرنا ہوگا
پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کسی بھی معاشرے کے امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ شہری اگر یہ سمجھنے لگیں کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، ان کی عزت کی جائے گی اور قانون ان کے ساتھ کھڑا ہوگا تو جرائم کی اطلاع دینے اور پولیس کے ساتھ تعاون کا رجحان بھی بڑھے گا۔ اسی طرح پولیس اہلکار کو بھی یہ یقین ہونا چاہیے کہ محکمہ اس کے ساتھ کھڑا ہے، اسے مناسب تربیت دی جائے گی، جدید آلات فراہم کیے جائیں گے، اس کی ڈیوٹی کے حالات بہتر ہوں گے اور اسے غیر ضروری دباؤ سے محفوظ رکھا جائے گا۔ ہم پولیس سے بہتر کارکردگی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں پولیس کو بہتر وسائل فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کرنا چاہیے۔
جدید دور، جدید پولیس
آج دنیا بدل چکی ہے۔ جرائم کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔ روایتی جرائم کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم، ڈیجیٹل فراڈ، موبائل اور آن لائن جرائم، جدید اسلحے کا استعمال اور منظم جرائم کے نئے طریقے سامنے آچکے ہیں۔ایسے حالات میں اگر پولیس کو پرانے طریقہ کار، محدود وسائل اور روایتی آلات تک محدود رکھا جائے تو اس سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو جدید کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ سسٹم، جدید مواصلاتی سہولیات، فرانزک معاونت، نگرانی کے مؤثر نظام، ڈیجیٹل تفتیش، جدید ٹریننگ اور دیگر ضروری تکنیکی وسائل فراہم کیے جائیں۔ ہر تھانے کو محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک فعال عوامی خدمت مرکز بنایا جانا چاہیے۔
پولیس اہلکار بھی انسان ہیں
ہم اکثر پولیس اہلکار سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ہر وقت چوکس، مستعد اور مضبوط رہے، مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وردی کے اندر بھی ایک انسان موجود ہے۔ وہ بھی کسی کا بیٹا، بھائی، شوہر، باپ یا بیٹی کا باپ ہوتا ہے۔ وہ بھی تھکتا ہے، اسے بھی گھر کی فکر ہوتی ہے، اسے بھی اپنی جان عزیز ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ وردی پہن کر سڑک پر نکلتا ہے تو اس کی ذاتی پریشانیاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور ریاستی ذمہ داری اس کے سامنے آجاتی ہے۔ اسی لیے پولیس اہلکاروں کی فلاح، بہتر ڈیوٹی اوقات، مناسب سہولیات، تربیت، علاج معالجہ اور خاندان کے تحفظ جیسے معاملات بھی پولیس اصلاحات کا حصہ ہونے چاہئیں۔
تعریف کے ساتھ احتساب بھی ضروری ہے
کسی پولیس افسر کی تعریف کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پورے محکمے کو ہر معاملے میں بری الذمہ قرار دے دیا جائے۔ اسی طرح کسی اہلکار کی غلطی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پورے ادارے کو مجرم قرار دے دیا جائے۔اچھے افسر کی تعریف ہونی چاہیے اور غلط کارکردگی پر قانون کے مطابق احتساب بھی ہونا چاہیے۔ یہی توازن ایک مضبوط ریاست کی علامت ہے۔ اگر پولیس کا کوئی افسر یا اہلکار عوام کے لیے بہترین کام کرتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تاکہ دوسرے اہلکار بھی اس مثال سے سبق حاصل کریں۔ اور اگر کوئی قانون سے تجاوز کرتا ہے تو اسے بھی قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے۔
عرفان بلوچ جیسے افسران کی ضرورت
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے حوالے سے میری گفتگو کا بنیادی مقصد شخصیت پرستی نہیں بلکہ اس اصول کی نشاندہی ہے کہ محکمہ پولیس میں محنت، تجربہ، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور عوامی خدمت کی سوچ رکھنے والے افسران کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ اعلیٰ پولیس افسر صرف اپنے دفتر میں بیٹھ کر احکامات جاری کرنے والا شخص نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اپنے ماتحت افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی، عوامی شکایات اور زمینی حقائق سے بھی باخبر رہنا چاہیے۔ قیادت وہی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں سامنے نظر آئے، اپنے ماتحتوں کو درست سمت دے اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
پولیس اور صحافت کا تعلق
پولیس اور صحافت دونوں کا تعلق براہِ راست عوام سے ہے۔ صحافی معاشرے کے مسائل کو سامنے لاتا ہے جبکہ پولیس قانون کے تحت ان مسائل سے نمٹنے کی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی کا کام پولیس کو بلاوجہ بدنام کرنا نہیں، بلکہ غلطی کی نشاندہی، عوامی شکایات کی ترجمانی اور اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔اسی طرح پولیس کو بھی تنقید سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ مثبت تنقید دراصل اصلاح کا ایک ذریعہ ہوتی ہے۔ جہاں شکایت درست ہو وہاں اصلاح کی جائے اور جہاں پولیس نے اچھا کام کیا ہو وہاں اسے تسلیم بھی کیا جائے۔
میری اپیل
میں ڈی آئی جیز، آئی جیز، پولیس چیف اور بالخصوص انسپکٹر جنرل پولیس سے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر توجہ دی جائے۔ تھانوں کو مناسب فنڈز فراہم کیے جائیں، جدید ٹیکنالوجی دستیاب کرائی جائے، اہلکاروں کی تربیت بہتر بنائی جائے، تفتیشی نظام کو مضبوط کیا جائے، عوامی شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر طریقہ بنایا جائے اور قانون کی عمل داری کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے۔جرائم کے خلاف جنگ صرف پولیس کی جنگ نہیں۔ یہ ریاست، حکومت، عدلیہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بزرگ، بچے اور ہر شہری بلا خوف اپنے گھروں سے نکل سکے۔ بازار، سڑک، اسکول، دفتر اور عبادت گاہ ہر جگہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں پولیس پر اعتماد بھی کرنا ہوگا، پولیس کی اصلاح بھی کرنا ہوگی اور پولیس سے قانون کے مطابق جواب دہی بھی یقینی بنانا ہوگی۔ میری نظر میں محکمہ پولیس کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کی اچھی کارکردگی کو بھی سامنے لانا چاہیے تاکہ معاشرے میں یہ پیغام جائے کہ وردی پہننے والا ہر شخص برا نہیں، بلکہ اسی وردی میں ہزاروں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی جان کی پروا کیے بغیر عوام کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو امن عطا فرمائے، ہمارے شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے، پولیس کے تمام فرض شناس افسران و اہلکاروں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور انہیں اپنے فرائض دیانت، انصاف اور انسانیت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ پولیس ہماری ہے، یہ شہر ہمارا ہے اور اس ملک کا امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
قائدِ اعظم زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!