بحرالکاہل میں جنم لینے والا موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ اب ایک طاقتور ’سپر ایل نینو‘ میں تبدیل ہو کر کرہ ارض کے موسمیاتی ڈھانچے کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندری پانی کا درجہ حرارت 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد بڑھنے سے جون میں شروع ہونے والا یہ نظام ڈیڑھ سال کی عمر رکھتا ہے اور اندازے کے مطابق سال 2027 کے آغاز میں یہ اپنی قوت کے عروج پر پہنچ کر تاریخ کا سب سے مہلک سپر ایل نینو ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق اس کے نتیجے میں جہاں مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کو تباہ کن بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کرنا پڑے گا، وہیں پاکستان، بھارت، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا میں انتہائی شدید خشک سالی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ بھارت میں یکم جون سے 9 ستمبر تک کی مون سون بارشیں اوسط سے 15 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہیں جو اس موسمیاتی تباہ کاری کی واضح علامت ہے۔
عالمی فوڈ پروگرام (WFP) اور اقوام متحدہ کے ادارے (FAO) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سپر ایل نینو کی وجہ سے 2027 کے اختتام تک مزید 49 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے 45 ملکوں میں متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 225 ملین سے بڑھ کر 274 ملین تک پہنچ جائے گی۔ خشک سالی کے باعث مکئی، چاول اور بارش پر منحصر دیگر فصلوں کی پیداوار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی موسمیاتی تنظیم کی پیشگوئی ہے کہ 2027 ریکارڈ توڑ گرم سال ثابت ہو سکتا ہے اور 2030 تک درجہ حرارت میں اضافے کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹنے کا 86 فیصد امکان ہے۔ تاہم ماہرینِ موسمیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تمام تخمینے ہیں اور ہر ایل نینو کا جغرافیائی اثر مختلف ہو سکتا ہے۔
