ستمبر 20, 2026

عمل باتوں سے بہتر ہے

از قلم؛ فیصل جنجوعہ

معاشرے کو دعووں کی نہیں، کردار اور عملی نمونوں کی ضرورت ہے، ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں باتیں بہت ہیں، دعوے بہت ہیں، مشورے بہت ہیں، مگر عمل کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہر شخص دوسروں کو کامیابی، اخلاق، وقت کی پابندی، محنت، دیانت اور ذمہ داری کا درس دیتا ہے، لیکن جب اپنی باری آتی ہے تو وہی اصول اکثر کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے الفاظ سے زیادہ اس کا عمل بولتا ہے۔ آپ کسی بچے کو سو مرتبہ وقت کی پابندی کا درس دے سکتے ہیں، لیکن اگر آپ خود وقت کے پابند نہیں تو آپ کا عملی رویہ اس کے لیے زیادہ طاقتور سبق ہوگا۔ آپ کسی نوجوان کو محنت کی اہمیت بتا سکتے ہیں، لیکن اگر آپ خود آسان راستہ تلاش کرتے رہیں تو آپ کی تقریر بے اثر ہوجائے گی۔آپ دوسروں کو اخلاق، برداشت اور احترام کا درس دے سکتے ہیں، مگر اگر آپ کا اپنا رویہ سخت، تحقیر آمیز اور غیر ذمہ دارانہ ہے تو الفاظ محض آواز بن کر رہ جائیں گے۔ بات کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ اصول بیان کرنا، دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنا اور مشورے دینا ہر شخص جانتا ہے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان کو وہی اصول اپنی زندگی میں نافذ کرنے پڑیں۔ ہم دوسروں سے دیانت چاہتے ہیں مگر اپنے معاملات میں سمجھوتے کرتے ہیں۔ ہم بچوں سے نظم و ضبط چاہتے ہیں مگر خود وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ ہم نوجوانوں کو موبائل سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں مگر خود ہر وقت موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم بچوں سے کتاب پڑھنے کی توقع کرتے ہیں مگر ہمارے اپنے ہاتھ میں کتاب کے بجائے اکثر موبائل ہوتا ہے۔ یہ تضاد صرف گھر تک محدود نہیں۔ تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی زندگی میں بھی ہمیں ایسے رویے نظر آتے ہیں جہاں الفاظ اور عمل ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ بچوں کی تربیت تقریروں سے نہیں، مثال سے ہوتی ہے بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں صرف بتاتے ہیں؛ وہ زیادہ تر وہ سیکھتے ہیں جو وہ ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر والدین گھر میں احترام سے گفتگو کریں تو بچہ احترام سیکھتا ہے۔ اگر استاد وقت کا پابند ہو تو طالب علم وقت کی قدر سیکھتا ہے۔ اگر ادارے کا سربراہ خود نظم و ضبط کا عملی نمونہ ہو تو عملہ بھی ذمہ داری کا احساس کرتا ہے۔ اگر معاشرے کے بڑے قانون، اخلاق اور ذمہ داری کی پابندی کریں تو نئی نسل کے سامنے عملی مثال موجود ہوتی ہے۔ کردار کی تعلیم کتاب سے شروع ہوسکتی ہے، مگر مکمل عمل سے ہوتی ہے۔ استاد کے لیے عمل سب سے بڑی کتاب ہے ۔خصوصاً استاد کے لیے یہ اصول زیادہ اہم ہے۔ استاد اگر صرف لیکچر دے اور خود اس پر عمل نہ کرے تو اس کی تربیتی قوت محدود ہوجاتی ہے۔ ایک استاد طالب علم کو بتاتا ہے کہ وقت قیمتی ہے، مگر خود کلاس میں دیر سے پہنچتا ہے۔ وہ طلبہ کو نظم و ضبط کا درس دیتا ہے، مگر اپنے معاملات میں بے ترتیبی کا شکار ہے۔ وہ کردار سازی کی بات کرتا ہے، مگر غصے میں طالب علم کی تذلیل کر دیتا ہے۔ ایسے تضادات طالب علم کے ذہن میں سوال پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے استاد کی اصل طاقت اس کی آواز نہیں، اس کا کردار ہے۔ معاشرہ تقریروں سے نہیں، عملی کردار سے بدلتا ہے ہم اکثر کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہوگیا ہے، نوجوان بگڑ گئے ہیں، نئی نسل میں اخلاق نہیں، لوگ ذمہ دار نہیں رہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نئی نسل نے یہ سب کچھ سیکھا کہاں سے؟ اگر ہم معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں تو صرف دوسروں پر تنقید کافی نہیں۔ ہمیں اپنے حصے کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ انتظار ختم کرنا ہوگا کہ پہلے دوسرے بدلیں گے، پھر ہم بدلیں گے۔ تبدیلی ہمیشہ کسی دوسرے شخص سے نہیں، اپنے عمل سے شروع ہوتی ہے۔ الفاظ وقتی اثر چھوڑتے ہیں، عمل مستقل نشان، ایک اچھی تقریر چند منٹ کے لیے متاثر کرسکتی ہے، مگر ایک اچھا کردار برسوں تک اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک نصیحت کچھ دیر کے لیے یاد رہ سکتی ہے، مگر ایک عملی مثال پوری زندگی کا راستہ دکھا سکتی ہے۔ اسی لیے والدین، اساتذہ، منتظمین، رہنما اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی نسل کو کیا کہہ رہے ہیں سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اسے کرکے کیا دکھا رہے ہیں۔ کیونکہ بچے ہمارے الفاظ بھول سکتے ہیں، لیکن ہمارے رویے اور عمل ان کی شخصیت میں کہیں نہ کہیں محفوظ رہ جاتے ہیں۔ آخری سوال، ہم سب کو دوسروں سے بہت کچھ چاہیے: اچھا اخلاق، دیانت، وقت کی پابندی، محنت، نظم و ضبط، احترام، ذمہ داری اور کردار۔لیکن اصل سوال یہ ہے: کیا ہم خود وہی بننے کے لیے تیار ہیں جو ہم دوسروں سے توقع کرتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو تبدیلی ممکن ہے۔ ورنہ ہماری بہترین تقریریں بھی محض الفاظ رہ جائیں گی۔ دنیا کو مزید نصیحتوں کی نہیں، مزید عملی نمونوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آخرکار باتیں راستہ دکھاتی ہیں، مگر عمل منزل تک پہنچاتا ہے۔