لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب میں رواں سال سانپ ڈسنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں جنوری سے 31 اگست 2026 تک ایک ہزار 60 افراد سانپوں کے کاٹنے سے متاثر ہوئے جبکہ 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو 1122 کی جاری کردہ اٹھ ماہ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق سانپ کے کاٹنے کے ان واقعات میں 614 مرد اور 446 خواتین شامل ہیں۔ طبی و ریسکیو حکام نے متاثرہ افراد کو بروقت امداد فراہم کی تاہم زہر جسم میں پھیلنے کی وجہ سے 6 شہری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ترجمان محکمہ وائلڈ لائف نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ برسات کے موسم میں کچی آبادیوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے سانپ اپنے قدرتی مسکنوں سے نکل کر خشک اور محفوظ جگہوں کی تلاش میں آبادیوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بارشوں کے دنوں میں سانپ ڈسنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ ترجمان نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ برسات کے دنوں میں بالخصوص رات کے وقت احتیاط برتیں اور کچی یا نچلی جگہوں پر جاتے ہوئے روشنی کا استعمال یقینی بنائیں۔
