تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج فیس بک پر مٹر گشت کر رہے تھے کہ اچانک ان کے سامنے ایک پوسٹ آئی۔ پوسٹ پر نظر پڑی تو بندن میاں ایک دم رک گئے۔ چند لمحوں کے لیے انگلی موبائل کی اسکرین پر ٹھہر گئی اور نگاہیں جیسے اس تصویر کے اندر اتر گئیں۔ شعر لکھا تھا۔
یہ لوگ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسیرا
گھر ان کے اگر ہیں تو یہ گھر کیوں نہیں جاتے
بندن میاں نے شعر دوبارہ پڑھا تو جانے کیوں لاہور کی سڑکیں آنکھوں کے سامنے گھومنے لگیں۔ کراچی کے فٹ پاتھ یاد آنے لگے۔ سکھر کی شاہراہوں کے کنارے بیٹھے اور لیٹے ہوئے چہرے نظر آنے لگے۔ پھر منظر پھیلتا چلا گیا۔ اسلام آباد سے کوئٹہ تک اور پشاور سے حیدرآباد تک ملک کی کتنی ہی شاہراہوں کے کنارے ایسے انسان دکھائی دینے لگے جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں مگر شاید کبھی غور سے نہیں دیکھتے۔
یہ کوئی پتھر نہیں ہیں۔ انسان ہیں۔ کسی فٹ پاتھ پر ایک بوڑھا شخص چادر میں خود کو لپیٹے پڑا ہے۔ قریب ہی ایک عورت اپنے بچوں کو سینے سے لگائے رات گزارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کہیں ایک نوجوان دیوار سے ٹیک لگائے خاموش بیٹھا ہے۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا تھیلا ہے جس میں شاید اس کی پوری دنیا سمٹی ہوئی ہے۔ کہیں ایک معذور شخص ہاتھ میں پیالہ لیے گزرنے والوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہے۔ کوئی بچہ خالی آنکھوں سے گاڑیوں کی قطار کو دیکھ رہا ہے اور شاید سوچ رہا ہے کہ ان میں سے کسی گاڑی کا دروازہ کھلے گا اور اس کی قسمت بھی اس کے ساتھ اندر بیٹھ جائے گی۔
دن کے وقت یہی لوگ ہماری نظروں کے سامنے ہوتے ہیں۔ دھوپ ان کے جسموں کو جھلساتی ہے۔ سردی ان کی ہڈیوں میں اترتی ہے۔ بارش ان کے بستر کو بھگو دیتی ہے اور رات کا اندھیرا ان کے گرد ایک ایسی خاموش چادر تان دیتا ہے جس کے نیچے ان کی بے بسی چھپی ہوتی ہے۔ ہم اپنی گاڑیوں کے شیشے بند کرکے ان کے قریب سے گزر جاتے ہیں۔ کبھی کوئی سکہ اچھال دیا۔ کبھی نظر چرا لی اور کبھی یہ سوچ کر آگے بڑھ گئے کہ یہ تو ان کی قسمت ہے۔
مگر بندن میاں سوچتے ہیں کہ آخر قسمت بھی کتنی ظالم چیز ہے کہ کسی کے حصے میں محل اور کسی کے حصے میں فٹ پاتھ لکھ دے۔ کیا واقعی یہ لوگ ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ کیا ان کے ماضی میں کوئی گھر نہیں تھا۔ کیا ان کی کوئی ماں نہیں تھی جس نے انہیں دعائیں دے کر رخصت کیا تھا۔ کیا ان کا کوئی باپ نہیں تھا جس نے ان کی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا۔ کیا ان کی کوئی بہن نہیں تھی۔ کوئی بھائی نہیں تھا۔ کوئی بیوی نہیں تھی۔ کوئی اولاد نہیں تھی۔ کوئی دوست نہیں تھا جو کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ہنسا ہو۔
ذرا اس بوڑھے کے چہرے کو غور سے دیکھیے جو فٹ پاتھ پر سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو رہا ہے۔ چہرے پر پڑی جھریاں صرف عمر کی کہانی نہیں سناتیں بلکہ زندگی بھر کی محنت محرومی اور شکست کی داستان سناتی ہیں۔ ممکن ہے کبھی یہی شخص کسی دفتر کا دروازہ کھولتا ہو۔ کسی دکان پر بیٹھتا ہو۔ کسی ورکشاپ میں پسینہ بہاتا ہو۔ کسی کھیت میں ہل چلاتا ہو یا کسی ریلوے اسٹیشن پر اپنی ڈیوٹی پوری کرکے گھر لوٹتا ہو۔ آج شاید اس کے پاس گھر کا دروازہ نہیں یا دروازہ تھا تو اس کے لیے کھلا نہیں ہے۔
وہ عورت جو اپنے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے اسے صرف ایک بھکاری سمجھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔ ممکن ہے اس نے زندگی میں کبھی کسی گھر کو اپنے ہاتھوں سے سنوارا ہو۔ ممکن ہے اس نے شوہر کے ساتھ غربت میں بھی ہنس کر زندگی گزاری ہو۔ ممکن ہے شوہر دنیا سے چلا گیا ہو۔ اولاد بکھر گئی ہو۔ رشتے دار اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہوگئے ہوں یا حالات نے اسے اس مقام تک پہنچا دیا ہو جہاں عزت کے ساتھ مانگنا بھی مشکل اور بھوک کے ساتھ جینا بھی مجبوری بن گیا ہو۔
اور وہ نوجوان جو سڑک کے کنارے خاموش بیٹھا ہے ضروری نہیں کہ وہ پیدائشی طور پر بے گھر ہو۔ کبھی بیماری انسان سے روزگار چھین لیتی ہے۔ کبھی حادثہ جسم توڑ دیتا ہے۔ کبھی کاروبار ڈوب جاتا ہے۔ کبھی قرض آدمی کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ کبھی گھر کے جھگڑے انسان کو گھر سے باہر نکال دیتے ہیں اور کبھی اپنوں کی بے رخی وہ دروازہ بند کردیتی ہے جہاں واپسی کا راستہ موجود ہوتا ہے۔
ان میں سے کچھ کے رشتے شاید آج بھی زندہ ہیں۔ کسی کا بیٹا کسی شہر میں مزدوری کر رہا ہوگا۔ کسی کی بیٹی اپنے گھر میں بچوں کی پرورش کر رہی ہوگی۔ کسی کا بھائی شاید خود غربت کی چکی میں پس رہا ہوگا۔ کسی کی بہن شاید برسوں سے بھائی کا انتظار کر رہی ہوگی۔ ممکن ہے کسی کے پاس رشتے تو ہوں مگر تعلق نہ ہو۔ گھر تو ہو مگر جگہ نہ ہو۔ دروازہ تو ہو مگر واپسی کی اجازت نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ ایسے ہوں جنہیں وقت نے ایک ایک کرکے سب سے محروم کردیا ہو۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ ان کے گھر والے انہیں کیوں نہیں لے جاتے۔ سوال بظاہر آسان ہے مگر اس کے اندر پوری زندگی کی پیچیدگیاں چھپی ہوئی ہیں۔ ہر بے گھر شخص کے پیچھے ایک جیسی کہانی نہیں ہوتی۔ کوئی غربت سے نکلا ہے۔ کوئی بیماری سے۔ کوئی گھریلو ٹوٹ پھوٹ سے۔ کوئی نشے کی لعنت سے اور کوئی ایسے حالات سے جن کا اندازہ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر لگانا ممکن نہیں ہے۔
بندن میاں کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ ہم نے انسانوں کو بھی سڑک کے مناظر کا حصہ سمجھ لیا ہے۔ ٹریفک سگنل پر گاڑیاں رکتی ہیں۔ لوگ انہیں دیکھتے ہیں۔ سگنل کھلتا ہے اور سب آگے نکل جاتے ہیں۔ فٹ پاتھ پر وہی چہرے رہ جاتے ہیں۔ اگلے دن پھر وہی منظر۔ پھر وہی بھوک۔ پھر وہی ہاتھ۔ پھر وہی خاموش آنکھیں۔ جیسے شہر کی روشنیاں بڑھتی جارہی ہوں مگر ان لوگوں کی زندگیوں میں اندھیرا ویسا ہی قائم ہو۔
کبھی رک کر ان کی آنکھوں میں دیکھیں۔ شاید وہاں آپ کو بھوک سے زیادہ انتظار نظر آئے۔ شاید کوئی اپنی اولاد کا منتظر ہو۔ کوئی اپنے بھائی کا۔ کوئی کسی ایسے شخص کا جس نے برسوں پہلے کہا تھا کہ میں واپس آؤں گا۔ شاید کسی کی آنکھوں میں صرف ایک چھوٹی سی خواہش ہو کہ آج رات پیٹ بھر کر کھانا مل جائے اور سردی سے بچنے کے لیے کوئی چھت نصیب ہوجائے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے بعض لوگ کبھی اپنے خاندان کے ہیرے رہے ہوں۔ کسی گھر کا سہارا۔ کسی ماں کا لاڈلا۔ کسی باپ کا فخر۔ کسی بیوی کا ہم سفر۔ کسی بچے کا ہیرو۔ پھر وقت نے کروٹ بدلی۔ حالات نے رخ بدلا۔ روزگار چھینا۔ صحت چھینی۔ رشتے چھینے اور آخر میں چھت بھی چھین لی۔ انسان جب مسلسل گرتا ہے تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اسے سہارا دینے والا کوئی ہاتھ باقی نہیں رہتاہے۔
لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ انہیں فٹ پاتھ پر کون لایا۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ انہیں وہاں سے اٹھانے کے لیے ہم میں سے کتنے لوگ آگے بڑھے۔ ریاست کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ معاشرے کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور خاندان کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ مگر انسان ہونے کی ذمہ داری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہم کسی کو گھر نہیں دے سکتے تو کم از کم عزت تو دے سکتے ہیں۔ ہر ہاتھ میں پیسے رکھنا ضروری نہیں۔ کبھی گرم کھانا بھی کافی ہوتا ہے۔ کبھی ایک کمبل بھی بہت ہوتا ہے۔ کبھی کسی بیمار کو اسپتال تک پہنچانا بھی زندگی بدل دیتا ہے اور کبھی سب سے قیمتی مدد یہ ہوتی ہے کہ ہم اس انسان کو انسان سمجھ کر اس کی بات سن لیں۔
بندن میاں نے موبائل ایک طرف رکھا تو فیس بک کی وہ پوسٹ اسکرین سے غائب ہوچکی تھی مگر منظر آنکھوں سے غائب نہیں ہوا تھا۔ لاہور کی سڑکیں پھر سامنے تھیں۔ کراچی کے فٹ پاتھ پھر دکھائی دے رہے تھے۔ سکھر کی شاہراہیں پھر خاموش سوال کررہی تھیں اور ان سوالوں کے درمیان وہی شعر گونج رہا تھا
یہ لوگ جو فٹ پاتھ پہ کرتے ہیں بسیرا
گھر ان کے اگر ہیں تو یہ گھر کیوں نہیں جاتے
بندن میاں کے خیال میں اس شعر کا جواب صرف یہ نہیں کہ گھر والے انہیں کیوں نہیں بلاتے۔ کبھی ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم نے ان کے لیے معاشرے میں کتنے دروازے کھلے چھوڑے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنے آرام کے لیے اپنے دل کے دروازے بند کرلیے ہیں اور پھر فٹ پاتھ پر پڑے انسان سے پوچھ رہے ہیں کہ تم اپنے گھر کیوں نہیں جاتے؟
یاد رکھیے انسان کی اصل آزمائش اس وقت نہیں ہوتی جب وہ طاقتور ہو بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب اس کے سامنے کوئی بے بس ہو۔ آج فٹ پاتھ پر کوئی اور ہے۔ کل حالات کا رخ کسی اور طرف بھی ہوسکتا ہے۔ اس لیے کسی ضرورت مند کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ اس کے ماضی کا مذاق نہ بنائیں۔ اس کے حال کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اگر ممکن ہو تو اس کے مستقبل میں ایک چھوٹی سی روشنی ضرور بن جائیں۔
کیونکہ معاشرہ صرف بڑی عمارتوں روشن سڑکوں اور تیز رفتار گاڑیوں کا نام نہیں ہے۔ معاشرہ اس وقت خوبصورت بنتا ہے جب اس کی سب سے کمزور آواز بھی عزت کے ساتھ سنی جائے اور اس کے سب سے بے سہارا فرد کو بھی عزت اور انسانیت کا حق دیا جائے۔ فٹ پاتھ پر سویا ہوا انسان صرف رات کا ایک منظر نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے کھڑا ایک سوال ہے۔
شاید کسی فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے انسان کو ہماری دی ہوئی روٹی سے زیادہ ہماری دی ہوئی عزت کی ضرورت ہو۔ اور شاید اس کی خاموش آنکھیں ہم سے صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ مجھے بھکاری سمجھ کر نہ گزرنا۔ میں بھی کبھی کسی کا اپنا تھا۔
