واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ امریکا نے سعودی عرب کو 48 جدید ترین F-35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں اور ان سے منسلک عسکری آلات کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ 24.3 ارب ڈالر کی اس بہت بڑی اور مجوزہ دفاعی ڈیل میں 48 جنگی طیاروں کے علاوہ 49 ‘پراٹ اینڈ وٹنی’ انجن، جدید مواصلاتی آلات، پرزہ جات اور دیگر متعلقہ عسکری سامان بھی شامل ہوگا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق، اس فروخت کا بنیادی مقصد سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ موجودہ اور مستقبل کے درپیش خطرات کا موثر انداز میں مقابلہ کر سکے، جبکہ اس اقدام سے امریکی اور سعودی افواج کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور تزویراتی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2025 کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان طیاروں کی فراہمی کی درخواست کی تھی، جس پر نومبر 2025 میں امریکی رضامندی کے بعد اب باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی اس منظوری پر اسرائیل کی جانب سے شدید تحفظات اور مخالفت سامنے آتی رہی ہے، کیونکہ اسرائیلی حکام کو تشویش ہے کہ اس معاہدے سے مشرق وسطیٰ میں اس کی روایتی فوجی اور ہوائی برتری کمزور ہو سکتی ہے۔ ایرو اسپیس کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ F-35 طیارہ دنیا کا جدید ترین جنگی طیارہ مانا جاتا ہے، جو اپنی بہترین اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، ایڈوانس سینسرز اور ہائی اسپیڈ کمپیوٹنگ کی بدولت دشمن کے ریڈار پر ظاہر ہوئے بغیر طویل فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب تک اسرائیل دنیا کے ان 19 ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کے پاس F-35 طیارے موجود ہیں یا انہوں نے ان کی خرید کے معاہدے کر رکھے ہیں، تاہم سعودی عرب کے ساتھ اس تاریخی ڈیل سے خطے کی دفاعی اور سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔





