واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اہم ایرانی حکام کے امریکی ویزے منظور کر لیے ہیں۔ امریکی ٹی وی نے محکمہ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وفد اور ضروری اسٹاف کا ویزا جاری کر دیا گیا ہے تاکہ وہ نیویارک میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کر سکیں، تاہم اس سال وفد میں شامل ارکان کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم رکھی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کا یہ اہم اجلاس نیویارک میں منعقد ہو رہا ہے جو 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔ محکمہ خارجہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ بحیثیت میزبان ملک امریکا نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھائی ہیں اور ایرانی حکام اس اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت کر سکیں گے، تاہم یہ دورہ سخت سفری پابندیوں اور مخصوص حد بندیوں کے تحت ہوگا۔
دوسری جانب امریکا نے ایک متنازع قدم اٹھاتے ہوئے فلسطینی صدر محمود عباس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے پر عالمی سفارتی حلقوں کی جانب سے سخت تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف ایرانی وفد کو مخصوص شرائط اور پابندیوں کے ساتھ نیویارک آنے کی اجازت دی گئی ہے، وہیں فلسطینی صدر کا ویزا رد کیے جانے کے بعد اس اہم بین الاقوامی اجلاس میں فلسطین کی نمائندگی کے حوالے سے نئے سوالات اور سفارتی بحث چھڑ گئی ہے۔





