اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزارت داخلہ نے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ممکنہ پابندیوں پر تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے وسیع پیمانے پر مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وزارت داخلہ کے زیرِ اہتمام ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن (این سی سی آئی اے)، اور وفاقی و صوبائی پولیس حکام شرکت کریں گے۔ اجلاس کے دوران بچوں کے استحصال اور آن لائن فحاشی کے بڑھتے ہوئے کیسز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیملی وی لاگنگ کے نام پر پھیلائی جانے والی بے راہ روی کو کنٹرول کرنے، سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے مخصوص عمر کی حد مقرر کرنے اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کی طرز پر کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پر غور کے بعد حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر بھی بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یورپی یونین نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویز دے دی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر نے یورپی پارلیمنٹ میں اپنے سالانہ خطاب کے دوران "EU Kids Act” نامی ڈیجیٹل ہیلتھ ایکٹ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بچوں کو ان کے معصوم بچپن سے محروم کر رہی ہیں، جسے اب مزید کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اس مجوزہ بین الاقوامی قانون کے تحت 13 سے 15 سال تک کے نوجوانوں کو بھی اپنے آزادانہ اور ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے کی اجازت نہیں ہوگی، جس کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
