چونتیس سال بعد اپنی مادرِ علمی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، میں ایک یادگار واپسی

از قلم: محمد اسلام چوہدری (یو کے)

1991ء میں ایم ایس سی فزکس مکمل کرنے کے بعد، بالآخر چونتیس سال بعد اپنی مادرِ علمی، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، دوبارہ جانے کا موقع ملا۔ اس یادگار سفر میں میرے عزیز کلاس فیلوز شفقت، حفیظ، منصور، فرخ اور سہیل میرے ہمراہ تھے، جبکہ میرا بیٹا طلحہ بھی اس خوشگوار سفر کا حصہ تھا۔ میں گزشتہ بیس برس سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہوں، لیکن اس دورے نے مجھے پل بھر میں طالب علمی کے سنہری دور میں واپس پہنچا دیا۔

شعبۂ فزکس پہنچنے پر چیئرمین، ڈاکٹر یاسر صاحب نے اپنے معزز ساتھی اساتذہ اور عملے کے ہمراہ نہایت محبت، خلوص اور گرمجوشی سے ہمارا پرتپاک استقبال کیا۔ ہماری پرتکلف چائے اور ٹھنڈے مشروبات سے تواضع کی گئی، پھر پورے شعبے کا تفصیلی دورہ کروایا گیا، جدید لیبارٹریاں دکھائی گئیں اور اس خوبصورت ملاقات کی یادگار تصاویر بھی بنائی گئیں۔ شعبۂ فزکس کے سامنے کھلے ہوئے رنگ برنگے پھول یوں محسوس ہو رہے تھے جیسے اپنی مادرِ علمی اپنے پرانے طلبہ کو محبت بھرے انداز میں خوش آمدید کہہ رہی ہو۔

چیئرمین صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر ماضی کی حسین یادیں تازہ ہو گئیں۔ اپنے اساتذہ، کلاس رومز، لیبارٹریوں اور طالب علمی کے خوبصورت دنوں کا تذکرہ دیر تک جاری رہا۔ یہ جان کر دلی خوشی ہوئی کہ آج شعبۂ فزکس میں پندرہ اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں اور سب نے بیرونِ ملک سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ڈاکٹر یاسر صاحب کی مؤثر قیادت، محنت اور بصیرت نے شعبۂ فزکس کی کایا پلٹ دی ہے، جو یقیناً پوری یونیورسٹی کے لیے باعثِ فخر ہے۔

گفتگو کے دوران ڈاکٹر یاسر صاحب نے ایک اور قابلِ فخر حقیقت سے آگاہ کیا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں میں شامل سات سائنس دان زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل تھے، جن میں پانچ ایگریکلچرل انجینئرنگ اور دو شعبۂ فزکس سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ سن کر اپنی مادرِ علمی پر فخر کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔

ہماری ایم ایس سی فزکس کی کلاس صرف 24 طلبہ پر مشتمل تھی۔ انہی 24 ساتھیوں میں سے تین آج بھی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔

میرے بیٹے طلحہ، جو برطانیہ میں زیرِ تعلیم ہے، نے بھی شعبۂ فزکس کی جدید لیبارٹریوں، تحقیقی ماحول، اساتذہ اور عملے کی علمی قابلیت، محنت اور پیشہ ورانہ معیار کو بے حد سراہا۔ یہ میرے لیے باعثِ اطمینان تھا کہ نئی نسل نے بھی اپنے وطن کے ایک تعلیمی ادارے کی ترقی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

اس کے بعد میں اپنے پرانے ہاسٹل، افضل ہال، گیا۔ جب اپنے پرانے کمرے 8-C کے سامنے کھڑا ہوا تو یادوں کا ایک سیلاب دل میں امڈ آیا۔ یہی وہ کمرہ تھا جہاں خوابوں نے جنم لیا، دوستیاں پروان چڑھیں اور زندگی کا ایک خوبصورت باب رقم ہوا۔
اسی دوران ہاسٹل کے موجودہ سکیورٹی گارڈ سے ملاقات ہوئی۔ اس کی تاریخِ پیدائش 1994ء تھی، یعنی جب وہ دنیا میں آیا، تب تک ہم اپنی تعلیم مکمل کرکے یونیورسٹی سے رخصت ہو چکے تھے۔ اس خوش اخلاق نوجوان نے نہایت محبت اور احترام سے ہمیں ہاسٹل کا ہر گوشہ دکھایا۔ اس کا خلوص اس بات کی خوبصورت مثال تھا کہ اداروں کی اصل طاقت صرف عمارتیں نہیں بلکہ وہاں کے لوگ ہوتے ہیں۔
ہاسٹل کے ساتھ موجود فوٹو اسٹیٹ کی وہ دکانیں، جہاں کبھی طلبہ کا ہر وقت رش لگا رہتا تھا، اب مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔ ہاسٹل میس کے معروف شیف، استاد اکبر، بھی نہ جانے کب اور کہاں زندگی کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ ان کے ہاتھ کے کھانوں کی یاد آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔

ہاسٹل کی موجودہ حالت دیکھ کر دل افسردہ بھی ہوا۔ دعا ہے کہ اس تاریخی ہاسٹل کی بھی اسی طرح بحالی اور ترقی ہو، جیسے شعبۂ فزکس نے نئی زندگی اور نئی شناخت حاصل کی ہے۔
ہاسٹلوں کے گرد بلند حفاظتی دیواریں اور جگہ جگہ سکیورٹی رکاوٹیں دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے آزاد فضا میں اڑنے والے پرندوں کو پنجرے میں قید کر دیا گیا ہو۔ یہ وہ یونیورسٹی نہیں تھی جسے ہم نے چھوڑا تھا۔ وہ کشادگی، وہ بے فکری اور وہ کھلا پن اب ماضی کی یاد بن چکا تھا۔

افسوس کہ سخت سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے ہمیں اپنی محبوب مین لائبریری بھی دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ وہ لائبریری، جہاں ہم نے بے شمار دن اور راتیں علم حاصل کرنے اور امتحانات کی تیاری میں گزاری تھیں، اس بار صرف یادوں ہی میں آباد رہی۔

زیرو پوائنٹ پر پہنچے تو وہاں پانی کی وہی پرانی ٹوٹیاں آج بھی موجود تھیں، اگرچہ اب ان کی تعداد پہلے سے زیادہ ہو چکی ہے۔ انہیں دیکھ کر یوں لگا جیسے وقت نے بہت کچھ بدل دیا، مگر کچھ نشانیاں اب بھی ماضی سے اپنا رشتہ نبھا رہی ہیں۔

اس یادگار دن کا اختتام بھی دوستی اور محبت کی خوشبو سے مہک اٹھا۔ چونکہ شفقت اور حفیظ فیصل آباد کے مقامی ہیں، اس لیے انہوں نے ہمیں سپون گرِل میں نہایت پرتکلف اور پُرخلوص کھانا کھلایا۔ ان کی محبت اور مہمان نوازی نے اس ملاقات کی خوشیوں کو مزید دوبالا کر دیا۔

بعد ازاں میں اپنے بیٹے طلحہ کے ساتھ اپنے آبائی گاؤں سیکریالی روانہ ہوا۔ یوں یہ دن ماضی کی حسین یادوں، مخلص دوستوں، اساتذہ کی شفقت، وطن کی مٹی کی خوشبو اور اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے کے احساس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے میرے دل میں محفوظ ہو گیا۔

چونتیس برس بعد جب میں اپنی مادرِ علمی سے رخصت ہوا تو دل میں عجیب سی کیفیت تھی۔ ایک طرف جدید لیبارٹریاں، باصلاحیت اساتذہ، تحقیق کا فروغ اور شعبۂ فزکس کی شاندار ترقی دیکھ کر بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا، تو دوسری طرف بدلتا ہوا ماحول اور ماضی کی بکھری ہوئی نشانیاں دل میں ہلکی سی اداسی بھی چھوڑ گئیں۔ مگر ایک حقیقت ہمیشہ قائم رہتی ہے کہ عمارتیں بدل سکتی ہیں، راستے بدل سکتے ہیں، لوگ بھی بدل جاتے ہیں، لیکن اپنی مادرِ علمی سے جڑی یادیں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔
ایک حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئی کہ انسان اپنی مادرِ علمی سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ فاصلے بڑھ سکتے ہیں، برس گزر سکتے ہیں، عمارتیں اور ماحول بدل سکتے ہیں، مگر طالب علمی کی یادیں، اساتذہ کی شفقت، دوستوں کی محبت اور اس ادارے سے وابستگی ہمیشہ دل کے نہاں خانوں میں زندہ رہتی ہے۔ یہی یادیں زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتا بلکہ مزید قیمتی ہوتا چلا جاتا ہے۔
واپسی کا یہ پورا سفر ایک ہی احساس کے گرد گھومتا رہا کہ انسان اپنی مادرِ علمی سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ فاصلے چاہے سمندروں جتنے ہوں اور برسوں کی گرد یادوں پر کیوں نہ جم جائے، وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے، مگر طالب علمی کے دن، اساتذہ کی شفقت، دوستوں کی رفاقت اور اپنی مادرِ علمی سے وابستگی دل کے افق پر ہمیشہ روشن رہتی ہے۔

؎ وہی مٹی، وہی خوشبو، وہی یادوں کا سفر
جہاں سے چل پڑے تھے، دل وہیں رہ گیا ہمارا۔

Exit mobile version