ہستی تمام شد

از قلم : فیصل جنجوعہ

وہ سمجھتا رہا اس کے بغیر کام نہیں چلے گا، مگر اس کے بعد صرف کام تقسیم ہوا دفتر میں اس کی موت کا اعلان ہوا۔ دو منٹ خاموشی اختیار کی گئی۔ چند افسوس کے جملے بولے گئے، کچھ آنکھیں نم ہوئیں، پھر فائلیں کھل گئیں، کمپیوٹر آن ہوئے اور اس کا کام دوسروں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بس اتنی سی دیر لگی یہ ثابت ہونے میں کہ دنیا کسی ایک انسان کے رک جانے سے نہیں رکتی۔ وہ برسوں اس خوف میں مبتلا رہا کہ اگر اس نے ایک دن بھی چھٹی کر لی تو دفتر کا نظام متاثر ہو جائے گا۔ اسے لگتا تھا کہ اس کے بغیر کام کیسے چلے گا؟ وہ بیماری میں بھی دفتر آتا رہا، آرام کو غیر ضروری سمجھتا رہا، خاندان کے وقت کو قربان کرتا رہا اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملازمت کے نام کر دیا۔ لیکن وقت نے ایک دن اسے وہ حقیقت دکھا دی جسے وہ پوری زندگی نظر انداز کرتا رہا۔ کام اس کے بعد بھی چلتا رہا۔اس کی میز کسی دوسرے شخص نے سنبھال لی۔ اس کی فائلیں کسی اور کے ہاتھ میں چلی گئیں۔ اس کے ذمہ کام تقسیم ہوگئے۔ اور کچھ عرصے بعد شاید نئے آنے والے ملازمین کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کبھی یہاں ایک ایسا شخص بیٹھتا تھا جو اپنی پوری زندگی اسی دفتر کے نام کر گیا تھا۔
یہ زندگی کا تلخ مگر اہم سبق ہے کہ انسان ضروری ہو سکتا ہے، لیکن ناقابلِ متبادل نہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ملازمت، کاروبار، عہدے اور ذمہ داریوں کو اپنی پوری شناخت بنا لیتے ہیں۔ صبح سے رات تک کام، ہر وقت فون، ہر وقت فائلیں، ہر وقت دفتر کی فکر۔ ہم اپنے بچوں کے بچپن سے محروم ہو جاتے ہیں، والدین کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نہیں نکالتے، دوستوں سے تعلق کم ہو جاتا ہے، صحت کو نظر انداز کرتے ہیں اور پھر بھی خود کو یہ تسلی دیتے رہتے ہیں کہ ’’میرے بغیر یہ کام نہیں چل سکتا۔‘‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں اور نظام کسی ایک شخص کا محتاج نہیں رہتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ محنت نہ کی جائے یا ذمہ داری سے فرار اختیار کیا جائے۔ محنت ضرور کریں، دیانت داری سے کام کریں، اپنے ادارے کو اپنا سمجھیں، لیکن اپنی زندگی کو صرف ملازمت نہ بنائیں۔ اپنے بچوں کے لیے وقت نکالیں۔ اپنے والدین کے ساتھ بیٹھیں۔ اپنے دوستوں سے ملیں۔اپنی صحت کا خیال رکھیں۔کبھی چھٹی بھی کریں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھیں کہ آپ کی زندگی صرف آپ کے دفتر کی ملکیت نہیں۔ دنیا میں ہر انسان کی جگہ ایک دن خالی ہونی ہے۔ کسی کے جانے سے کچھ دیر خلا محسوس ہوگا، مگر نظام آگے بڑھ جائے گا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ آپ کے جانے کے بعد آپ کا کام کون کرے گا؟اصل سوال یہ ہے کہ: آپ کے جانے کے بعد آپ کو کون یاد کرے گا؟ آپ کی فائلیں نہیں، آپ کا کردار۔ آپ کی کرسی نہیں، آپ کا رویہ۔ آپ کا عہدہ نہیں، آپ کی محبت. آپ کی حاضری نہیں، آپ کی انسانیت۔ زندگی کی سب سے بڑی غلط فہمی شاید یہی ہے کہ ہم ضروری کاموں کو ضروری لوگوں پر ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ دفتر آپ کے بغیر چل سکتا ہے، لیکن آپ کے خاندان کو آپ کی موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس لیے کام کیجیے، مگر زندگی مت بھولیے۔
کیونکہ ایک دن واقعی دفتر میں اعلان ہوگا:
’’وہ نہیں رہے۔‘‘
دو منٹ خاموشی ہوگی… اور پھر کسی کی آواز آئے گی: ’’ان کا کام کس کس کے ذمہ آئے گا؟‘‘ اور یوں ہستی تمام شد نہیں، صرف ذمہ داری منتقل ہو جائے گی۔

Exit mobile version