تعلیم کو چھٹیوں کی نہیں، تسلسل کی ضرورت ہے

از قلم : فیصل جنجوعہ

تعلیمی اداروں میں چھٹیوں میں مزید اضافے کی خبریں ایک مرتبہ پھر تشویش پیدا کر رہی ہیں۔ اگر ہفتے کے ساتھ جمعہ کی چھٹی بھی شامل کر دی جاتی ہے تو یہ محض کیلنڈر میں ایک دن کا اضافہ نہیں ہوگا بلکہ خاص طور پر بورڈ کلاسز کے طلبہ کے لیے تعلیمی وقت میں مزید کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے بچوں کے پاس واقعی اتنا اضافی وقت موجود ہے؟ بورڈ امتحانات اپنی مقررہ تاریخ پر ہوں گے۔ نصاب مکمل ہونا ہے، ریویژن ہونی ہے، ٹیسٹ ہونے ہیں، کمزور طلبہ کو اضافی وقت دینا ہے اور امتحانی مشق بھی کروانی ہے۔ لیکن اگر تدریسی دن مسلسل کم ہوتے جائیں تو پھر یہ تمام کام کس وقت مکمل ہوں گے؟ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ چھٹی کا اعلان ہوتے ہی بچوں کے چہروں پر خوشی آ جاتی ہے، مگر انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ آج کا ضائع ہونے والا ایک تعلیمی دن کل امتحان کے دباؤ میں کئی گھنٹوں کی محنت بن کر واپس آ سکتا ہے۔ ہم بچوں کو یہ تو بتاتے ہیں کہ چھٹی خوشی ہے، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ تعلیم کا وقت زندگی کا وہ سرمایہ ہے جو واپس نہیں آتا۔ مسئلہ صرف حکومت یا تعلیمی اداروں کا نہیں۔ والدین بھی اس صورتحال میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اگر اسکول بند ہو تو کیا گھر میں بچے باقاعدگی سے پڑھتے ہیں؟ کیا موبائل، گیمز، سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات پر قابو پایا جاتا ہے؟ یا پھر والدین بھی چھٹی کو مکمل آزادی کا نام دے دیتے ہیں؟ پھر امتحانات کے قریب آ کر وہی سوال سامنے آتا ہے: "اتنا زیادہ سلیبس کیسے مکمل ہوگا؟” اس وقت الزام کبھی استاد پر آتا ہے، کبھی اسکول پر اور کبھی نظامِ تعلیم پر۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو وقت پہلے ہی ضائع ہو چکا ہو، اسے امتحان کے آخری دنوں میں واپس نہیں لایا جا سکتا۔ تعلیمی پالیسی بنانے والوں کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ہر مشکل کا حل تعلیمی اداروں کو بند کرنا نہیں۔ اگر کسی خاص صورتحال کے باعث چھٹی ضروری ہو تو اس کے ساتھ تعلیمی نقصان پورا کرنے کا واضح اور عملی منصوبہ بھی ہونا چاہیے۔کیونکہ قومیں صرف سڑکیں، عمارتیں اور منصوبے بنا کر ترقی نہیں کرتیں؛ قومیں اپنے بچوں کا تعلیمی وقت محفوظ کرکے ترقی کرتی ہیں۔ آج اگر ہم بچوں کو مزید چھٹیاں دے کر خوش کر رہے ہیں تو کل یہی بچے امتحانی دباؤ، نامکمل تیاری اور کم وقت کے باعث پریشان بھی ہو سکتے ہیں۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں، اور مستقبل کے ساتھ تجربات نہیں کیے جاتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی فیصلے وقتی خوشی یا دباؤ کے بجائے طویل المدتی تعلیمی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔ بورڈ کلاسز کے طلبہ کے لیے ہر تدریسی دن قیمتی ہے، کیونکہ امتحان کی گھڑی کسی کے لیے نہیں رکتی۔ آج چھٹی کا ایک دن شاید معمولی لگے، مگر کل یہی ایک دن ایک باب، ایک سبق، ایک ٹیسٹ یا ایک اہم تیاری کی کمی بن سکتا ہے۔ خدارا! بچوں کی وقتی خوشی سے زیادہ ان کے مستقبل کی فکر کیجیے۔یااللہ! ہمارے بچوں کے وقت میں برکت عطا فرما، ان کے لیے تعلیم کے راستے آسان فرما اور انہیں کامیاب مستقبل عطا فرما۔ آمین۔

Exit mobile version