از قلم: فیصل جنجوعہ
زندگی ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان اکثر اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے بوجھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اٹھانے کی نہ کوئی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ان کا کوئی حقیقی فائدہ۔ ہم توقعات کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناکامیوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں، ماضی کے واقعات کو بار بار یاد کرکے خود کو سزا دیتے ہیں، مستقبل کے خوف میں آج کا سکون برباد کرتے ہیں اور ایسے رشتوں کو بھی نبھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جو ہماری زندگی میں محبت کے بجائے مسلسل ذہنی اذیت پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ سب سے خطرناک بوجھ دوسروں کی توقعات کا ہے۔ انسان اپنی زندگی جینے کے بجائے یہ سوچنے لگتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہیں گے۔ خاندان کیا چاہتا ہے، معاشرہ کیا سوچے گا، دوست کیا کہیں گے اور لوگ کامیابی کو کس پیمانے سے ناپیں گے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات، اپنی صلاحیتوں اور اپنے سکون کو قربان کرکے دوسروں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کرتا رہتا ہے۔اسی طرح ناکامی کو زندگی کا آخری فیصلہ سمجھ لینا بھی ایک بڑی ذہنی غلطی ہے۔ ناکامی دراصل ایک واقعہ ہے، انسان کی شناخت نہیں۔ ایک امتحان میں کم نمبر، کاروبار میں نقصان، ملازمت میں ناکامی یا کسی منصوبے کا ادھورا رہ جانا یہ ثابت نہیں کرتا کہ انسان ناکام ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کامیاب انسان کے تجربے کو تو اہمیت دیتا ہے مگر ناکام شخص کے سبق کو نظرانداز کر دیتا ہے، حالانکہ اکثر کامیابی کی بنیاد وہی ناکامیاں بنتی ہیں جن سے انسان کچھ سیکھنے پر آمادہ ہو۔ ماضی بھی ایک ایسا بوجھ ہے جسے بہت سے لوگ اپنی مرضی سے کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ جو ہو چکا، وہ واپس نہیں آ سکتا۔ پرانی غلطیوں پر مسلسل پچھتاوا انسان کو بہتر نہیں بناتا، بلکہ اسے موجودہ زندگی سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ ماضی کا کام ہمیں سبق دینا ہے، سزا دینا نہیں۔ جو شخص ہر روز پرانے زخم کریدتا رہے، وہ نئے راستے کیسے تلاش کرے گا؟مستقبل کا خوف بھی موجودہ زندگی کا دشمن ہے۔ ہم ان مسائل کے بارے میں پریشان رہتے ہیں جو ابھی آئے ہی نہیں۔ نوکری رہے گی یا نہیں؟ کاروبار چلے گا یا نہیں؟ بچے کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ لوگ ساتھ دیں گے یا نہیں؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ہر وقت انہی کے خوف میں مبتلا رہنا عقل مندی نہیں۔ مستقبل کی تیاری ضرور کیجیے، مگر مستقبل کے خوف میں اپنا حال برباد نہ کیجیے۔ رشتوں کے معاملے میں بھی ہمیں ایک تلخ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ہر رشتہ زندگی بھر اٹھانے کے لیے نہیں ہوتا۔ بعض تعلقات محبت کے نام پر انسان کی خودداری، ذہنی سکون اور شخصیت کو مسلسل زخمی کرتے رہتے ہیں۔ رشتہ نبھانا اچھی بات ہے، لیکن اپنی عزت، سکون اور شخصیت کو مکمل طور پر قربان کر دینا قربانی نہیں بلکہ خود سے ناانصافی ہے۔ جہاں احترام، اعتماد اور خلوص ختم ہو جائیں، وہاں انسان کو جذبات کے بجائے عقل سے بھی کام لینا چاہیے۔ملازمت اور پیشہ بھی زندگی کا ایک حصہ ہیں، پوری زندگی نہیں۔ آج بہت سے لوگ ایسی نوکریوں میں برسوں گھٹتے رہتے ہیں جہاں نہ عزت ہے، نہ سیکھنے کا موقع اور نہ ذہنی سکون، صرف اس خوف سے کہ اگر یہ کام چھوڑ دیا تو آگے کیا ہوگا؟ بلاشبہ معاشی ذمہ داریاں اہم ہیں، مگر انسان کو اپنی صلاحیتوں، ترجیحات اور مستقبل کے امکانات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ہر مشکل کو برداشت کرنا بہادری نہیں؛ بعض اوقات درست وقت پر درست فیصلہ کرنا ہی اصل دانش مندی ہوتی ہے۔ زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں، ہر بحث میں جیتنا ضروری نہیں، ہر رشتہ بچانا ضروری نہیں، ہر توقع پوری کرنا ضروری نہیں اور ہر بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا بھی ضروری نہیں۔ کچھ چیزوں کو چھوڑ دینا شکست نہیں بلکہ شعور ہے۔ کچھ لوگوں سے فاصلے اختیار کرنا نفرت نہیں بلکہ خودداری ہے۔ کچھ خوابوں کو تبدیل کرنا ناکامی نہیں بلکہ حقیقت پسندی ہے۔ کچھ راستوں سے واپس آ جانا بزدلی نہیں بلکہ اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچانا ہے۔اصل کامیابی شاید یہ نہیں کہ انسان زندگی بھر کتنا بوجھ اٹھاتا رہا، بلکہ یہ ہے کہ اسے کب سمجھ آیا کہ کون سا بوجھ اس کا اپنا ہے اور کون سا وہ صرف دوسروں کے کہنے پر اٹھائے پھر رہا ہے۔ زندگی مختصر ہے۔ اسے ماضی کے ملبے، مستقبل کے خوف، لوگوں کی توقعات اور بے معنی رشتوں کے وزن تلے دبانے کے بجائے ضروری چیزوں کے لیے بچانا چاہیے۔ کیونکہ سکون بھی ایک نعمت ہے، خودداری بھی ایک دولت ہے اور اپنی زندگی کو سمجھ کر جینا بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ہر چیز کو پکڑ کر رکھنا ضروری نہیں؛ بعض اوقات آگے بڑھنے کے لیے ہاتھ خالی کرنا پڑتے ہیں۔
