تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج پھر قلم اٹھانے پر مجبور ہے کیونکہ معاملہ کسی ایک محکمے یا کسی ایک ادارے کے پنشنرز کا نہیں بلکہ اس ملک کے ان تمام بزرگ شہریوں کا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ ریاست کی خدمت میں گزار دیا اور اب اپنی عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں کسی انعام یا احسان کی نہیں بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے مناسب معاشی تحفظ کی ضرورت ہے۔ سوال بہت سادہ مگر نہایت اہم ہے کہ اگر پاکستان ایک ملک ہے اس کے شہری ایک قوم ہیں اور سب کے لیے آئین ایک ہے تو پھر پنشن کے بنیادی اصول مختلف کیوں ہیں۔ ایک طرف وفاقی ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا جاتا ہے دوسری طرف پنجاب کے پنشنرز کے لیے اضافہ صرف 3.5 فیصد کے قریب رہ جاتا ہے اور تیسری طرف بعض خودمختار ادارے اپنے پنشنرز کے لیے کہیں زیادہ بہتر مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بزرگ انسان کی پوری زندگی اور اس کی عزت نفس کا سوال پوشیدہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے سے سامنے آنے والے مراسلے نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے جس کے مطابق یکم جولائی 2026 سے اسٹیٹ بینک کے ان ذاتی اور فیملی پنشنرز کے لیے 8 فیصد پنشن اضافے کی منظوری دی گئی ہے جو 30 جون 2026 تک ریٹائر ہو چکے تھے یا انتقال کر گئے تھے۔ اس کے ساتھ کم از کم پنشن اور فیملی پنشن 40 ہزار 700 روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے جبکہ بعض پنشنرز کے لیے کم از کم 4 ہزار روپے ماہانہ یقینی اضافے کی شق بھی رکھی گئی ہے۔ بلاشبہ جو ادارہ اپنے سابق ملازمین کے لیے بہتر پنشن کا انتظام کرتا ہے اسے اس کا حق ہے اور کسی پنشنر کو بہتر سہولت ملنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے دوسرے پنشنرز کے لیے بھی اسی نوعیت کا کم از کم معاشی تحفظ یقینی کیوں نہیں بنایا جا سکتا ہے۔
بندن میاں کا سوال اسٹیٹ بینک کے پنشنرز سے نہیں بلکہ پالیسی بنانے والوں سے ہے کہ جب ایک ہی ملک میں ایک ادارہ اپنے پنشنرز کے لیے کم از کم 40 ہزار 700 روپے ماہانہ پنشن مقرر کر سکتا ہے تو پھر ایسے سرکاری ملازمین جو اپنی پوری جوانی ریاست کے دوسرے محکموں میں گزار چکے ہیں ان کے لیے کم از کم پنشن کا ایسا معیار کیوں مقرر نہیں کیا جاتا جو موجودہ مہنگائی کے مقابلے میں انہیں باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنا سکے۔ ایک عام پنشنر کے لیے چند ہزار روپے کا اضافہ اور ایک نسبتاً بہتر پنشن لینے والے کے لیے اسی شرح کا اضافہ ایک جیسا اثر نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف فیصد مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ بنیادی پنشن کی کم از کم حد بھی قابل احترام ہونی چاہیے۔
مہنگائی ایک ایسی حقیقت ہے جو کسی محکمانہ شناخت کو نہیں مانتی۔ آٹا خریدنے والا یہ نہیں بتاتا کہ خریدار ریلوے کا سابق ملازم ہے یا وفاقی حکومت کا۔ دوا کی قیمت مریض کا محکمہ پوچھ کر طے نہیں ہوتی۔ بجلی کا بل کسی پنشنر کی سابقہ ملازمت دیکھ کر کم نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کی فیس سب کے لیے یکساں ہے اور روزمرہ زندگی کی ضروریات ہر گھرانے پر یکساں بوجھ ڈال رہی ہیں۔ پھر یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ جب زندگی کی مشکلات مشترک ہیں تو پنشن کے بنیادی تحفظ میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے۔
ایک بزرگ پنشنر کی سب سے بڑی ضرورت صرف پیسہ نہیں بلکہ خودداری کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ہے۔ وہ شخص جس نے چالیس یا اس سے زیادہ برس کسی ادارے کی خدمت کی ہو وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بچوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہو۔ اسے اپنی دوا خریدنے کے لیے کسی سے ادھار نہ لینا پڑے۔ اسے بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے گھر کے راشن میں کمی نہ کرنا پڑے۔ اسے علاج اور خوراک میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔ پنشن کا اصل مقصد یہی معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے
بدقسمتی سے آج بہت سے پنشنرز کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ محدود پنشن تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھتی ہیں دوسری طرف معمولی شرح سے پنشن میں اضافہ کر کے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ شاید مسئلہ حل ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کم پنشن پر چند فیصد اضافہ اکثر عملی زندگی میں کوئی نمایاں سہارا فراہم نہیں کرتا۔ اگر کسی شخص کی پنشن پہلے ہی انتہائی کم ہو تو 7 فیصد یا 8 فیصد اضافہ بھی اس کی بنیادی ضرورتوں کے مقابلے میں معمولی رقم ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ پنشن میں اضافے کے نظام پر ازسرنو غور کیا جائے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ ہے پنشنرز کے درمیان پیدا ہونے والا احساس تفاوت۔ جب ایک بزرگ دیکھتا ہے کہ ایک ہی ملک میں مختلف اداروں کے پنشنرز کے لیے مختلف معیار مقرر ہیں تو اس کے دل میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کی خدمات کی قدر کم تھی۔ کیا اس نے ریاست کے لیے کم محنت کی تھی۔ کیا اس کی بیماری کم تکلیف دہ ہے یا اس کے گھر کے اخراجات کم ہیں۔ ایسے سوالات کسی بھی معاشرے میں محرومی اور بے چینی کو جنم دیتے ہیں اور اگر انہیں مسلسل نظر انداز کیا جائے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مختلف اداروں کے مالی وسائل اور انتظامی ڈھانچے اپنی جگہ الگ ہو سکتے ہیں مگر ریاستی سطح پر ایک کم از کم انسانی معیار ضرور یکساں ہونا چاہیے۔ ایک ریلوے ملازم نے ریلوے کا نظام چلایا ایک استاد نے نسلوں کو تعلیم دی ایک صحت کے کارکن نے مریضوں کی خدمت کی ایک پولیس اہلکار نے امن و امان کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی ایک کلرک نے سرکاری نظام کی فائلیں چلائیں اور ایک افسر نے انتظامی ذمہ داریاں ادا کیں۔ سب کی ذمہ داریاں مختلف تھیں مگر سب کا تعلق اسی ریاست سے تھا اور سب نے اپنی جوانی کسی نہ کسی صورت پاکستان کی خدمت میں گزاری ہے۔اس لیے پنشن کو محض سرکاری بجٹ پر پڑنے والے اخراجات کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔ پنشن دراصل ریاست اور اس کے سابق ملازم کے درمیان ایک دیرینہ ذمہ داری ہے۔ ملازم اپنی جوانی میں ریاست کو وقت محنت اور صلاحیت دیتا ہے اور ریاست اس کے بڑھاپے میں معاشی تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ اگر اس ذمہ داری کو صرف مالی بوجھ سمجھ لیا جائے تو پھر ریاستی ملازمت کے پورے تصور میں اعتماد کا عنصر کمزور پڑ جاتا ہے
حکومت وقت کو اب ایک جامع قومی پنشن پالیسی کی طرف بڑھنا چاہیے جس میں تمام سرکاری اور متعلقہ پنشنرز کے لیے کم از کم معاشی تحفظ کا واضح معیار مقرر ہو۔ پنشن میں سالانہ اضافہ صرف ایک مقررہ فیصد تک محدود نہ ہو بلکہ ملک میں مہنگائی کی حقیقی شرح بنیادی ضروریات کی قیمتوں اور بزرگ شہریوں کی معاشی حالت کو بھی اس فیصلے کا حصہ بنایا جائے۔ کم از کم پنشن ایسی ہو جو ایک بزرگ انسان کو بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے قابل بنا سکے۔
اگر کسی ادارے کے پاس اپنے پنشنرز کو اضافی سہولت دینے کے وسائل موجود ہیں تو اسے اس سے محروم کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ریاست کی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ کسی بھی ادارے کا پنشنر بنیادی انسانی ضروریات سے محروم نہ ہو۔ ایک طرف چند ہزار روپے کی پنشن اور دوسری طرف 40 ہزار 700 روپے کی کم از کم پنشن کا فرق محض مالی فرق نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے مختلف پیمانوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے کم کرنے کے لیے سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے۔
بندن میاں سمجھتا ہے کہ حکومت کو پنشنرز کی آواز صرف احتجاج کے وقت نہیں سننی چاہیے بلکہ پالیسی سازی کے مرحلے پر ان کے مسائل کو سامنے رکھنا چاہیے۔ پنشنرز کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو سیاسی حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو اور ہر سال پنشنرز کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے نئی جدوجہد نہ کرنا پڑے۔ پنشن پالیسی کو مستقل اور واضح اصولوں سے منسلک کیا جائے تاکہ بزرگ شہریوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پنشنر صرف ایک سابق ملازم نہیں ہوتا بلکہ وہ ریاست کی گزشتہ تاریخ کا ایک زندہ حوالہ ہوتا ہے۔ اس کے ہاتھوں پر محنت کے آثار ہوتے ہیں اس کے چہرے پر خدمت کے برسوں کی داستان ہوتی ہے اور اس کی عمر کی ہر جھری اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس نے کبھی اسی ملک کے نظام کو چلانے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔ آج اگر وہ اپنے بڑھاپے میں بہتر پنشن کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے مطالبہ کرنے والا نہیں بلکہ اپنے حق کا محافظ سمجھا جانا چاہیے۔
حکومت کے لیے یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ ایک ملک میں پنشنرز کے درمیان اتنا بڑا معاشی فرق کب تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اگر ریاست اپنے کسی ادارے کے پنشنرز کے لیے کم از کم پنشن کا بہتر معیار مقرر کر سکتی ہے تو یہی اصول دوسرے پنشنرز کے لیے بھی قابل عمل ہونا چاہیے۔ کم از کم پنشن کو انسانی وقار سے جوڑا جائے اور پنشن میں اضافہ حقیقی مہنگائی کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ بزرگ شہری ہر سال مہنگائی کے سامنے مزید کمزور نہ ہوتے جائیں۔
بندن میاں آخر میں حکمرانوں سے یہی کہنا چاہتا ہے کہ پنشنر کی عمر ضرور ڈھل گئی ہے مگر اس کی عزت نفس ابھی زندہ ہے۔ اس نے اپنی جوانی ریاست کے نام کی ہے اور آج ریاست سے صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کے بڑھاپے کو بے بسی نہ بنایا جائے۔ اسے اپنی دوا اور راشن میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔ اسے اپنے بچوں کے سامنے اپنی بنیادی ضرورت کے لیے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اسے یہ احساس نہ ہو کہ جس ملک کی خدمت میں اس نے زندگی گزار دی آج اسی ملک کے نظام میں اس کی کوئی قدر نہیں ہے۔
ایک ملک میں قوانین اور اداروں کے انتظامی طریقے مختلف ہو سکتے ہیں مگر بزرگ شہری کی بھوک مختلف نہیں ہو سکتی بیماری مختلف نہیں ہو سکتی دوا کی ضرورت مختلف نہیں ہو سکتی اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش بھی مختلف نہیں ہو سکتی۔ اس لیے پنشن کے بنیادی تحفظ کا اصول بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے
حکومت اگر آج پنشنرز کے اس مسئلے کو محض چند فیصد کے اضافے کی بحث سمجھنے کے بجائے انسانی وقار اور ریاستی ذمہ داری کا مسئلہ سمجھ کر حل کرنے کی طرف قدم بڑھائے تو یہ صرف پنشنرز کے لیے نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کے لیے بھی ایک اہم قدم ہوگا
پنشن خیرات نہیں بلکہ خدمت کا اعتراف ہے۔ پنشن میں اضافہ محض چند فیصد کا حساب نہیں بلکہ ایک بزرگ شہری کے وقار اور بقا کا سوال ہے۔ ریاست اپنے بزرگوں کو جس عزت سے دیکھتی ہے دراصل وہی اس ریاست کے اجتماعی کردار کی پہچان ہوتی ہے۔
