وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے جاری بیان میں تحریک انصاف اور اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ لاشوں پر سیاست کرنا بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کا پرانا وتیرہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے حامی یوٹیوبرز نے اشتیاق نامی شخص کی موت کے واقعے کو بلاجواز غلط رنگ دینے کی کوشش کی، جبکہ مرحوم کے بیٹے کا آن ریکارڈ بیان موجود ہے کہ یہ صرف ایک حادثہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کے لاہور پہنچنے پر ان کے اپنے کسی کارکن نے بھی استقبال کرنا مناسب نہیں سمجھا، جبکہ تین سال گزرنے کے باوجود پی ٹی آئی کا کوئی رہنما مرحوم ظل شاہ کے گھر نہیں گیا۔
عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کی لاہور آمد پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پبلک اسٹنٹ اور پوائنٹ اسکورنگ کرنے کالا چشمہ لگا کر مرحوم کے گھر پہنچے اور انہوں نے جگہ جگہ پنجاب پولیس کے افسران سے بدتمیزی کی۔ صوبائی وزیر نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو کو ایسی حرکتیں زیب دیتی ہیں؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ کوہاٹ میں کوئلے کی کان میں 4 افراد جاں بحق ہوئے ہیں لیکن سہیل آفریدی وہاں جانے کے بجائے لاہور میں سیاسی ڈرامے بازی کرنے پہنچ گئے ہیں۔
