وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ سے بیٹھ کر پورے بلوچستان کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں، اس لیے نئے صوبے لسانی کی بجائے انتظامی بنیادوں پر تشکیل دیے جانے چاہئیں۔ سینئر صحافیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز سخت حالات میں فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔ دہشت گردی کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اور جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، سول و عسکری قیادت کی یکسوئی کے ساتھ یہ جنگ جاری رہے گی۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبے میں کسی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں کوئی علم نہیں، حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں ماضی کے مقابلے میں کرپشن میں کمی آئی ہے اور تمام محکموں بشمول تعلیم میں میرٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان سے 11 لاکھ افغان مہاجرین اور دیگر غیر ملکیوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے اور لاپتا افراد کا مسئلہ بعض اوقات صحیح تناظر کے بغیر پیش کیا جاتا ہے۔
