تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں آج پھر قلم اٹھانے پر مجبور ہے کیونکہ پاکستان ریلوے کے حالات اب محض تشویش کا موضوع نہیں رہے بلکہ ایک ایسے سوال کی شکل اختیار کر چکے ہیں جس کا جواب قوم برسوں سے تلاش کر رہی ہے۔ آج صبح ایک بار پھر کوٹری یارڈ میں یوسف والا کول ٹرین کے ڈی ریل ہونے کی خبر سامنے آئی اور اس خبر نے چند روز قبل پیش آنے والے اسی نوعیت کے واقعے کی یاد تازہ کردی۔ حیرت اور تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹرین بھی وہی مقام بھی وہی اور حادثے کی نوعیت بھی وہی۔ اب اسے محض اتفاق کہہ کر نظر انداز کردیا جائے تو شاید یہ حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا کیونکہ ایک ہی ٹرین کا بار بار اسی علاقے میں پٹری سے اترنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئی بنیادی خرابی موجود ہے جسے سنجیدگی سے تلاش کرنے اور دور کرنے کی ضرورت ہے۔
بندن میاں کا سوال کسی فرد کی ذات سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے۔ اگر ایک ٹرین بار بار حادثے کا شکار ہو رہی ہے تو کیا اس کے انجن بوگیوں پہیوں ایکسل کپپلنگ بریک سسٹم اور دیگر فنی حصوں کا مکمل معائنہ کیا گیا۔ کیا اس روٹ کے ٹریک کو تکنیکی اعتبار سے بار بار جانچا گیا۔ کیا اس مقام پر ریل کی پٹڑی زمین کے بیٹھنے رفتار کے دباؤ یا کسی دوسرے فنی مسئلے کا جائزہ لیا گیا۔ کیا ویگنوں میں لوڈ کی تقسیم اور وزن کے مقررہ معیار کو پرکھا گیا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پہلے حادثے کے بعد ایسی کون سی عملی اصلاح کی گئی تھی جس سے دوبارہ حادثہ روکا جاسکتا تھا۔ اگر ان سوالات کے جواب موجود ہیں تو انہیں سامنے آنا چاہیے اور اگر جواب موجود نہیں تو پھر اس سے زیادہ سنجیدہ معاملہ اور کیا ہوسکتا ہے۔
پاکستان ریلوے ایک عام محکمہ نہیں بلکہ ملک کے قدیم ترین اور اہم ترین قومی اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ لاکھوں مسافروں کی امیدیں وابستہ ہیں ہزاروں ملازمین اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور ملکی تجارت کا ایک بڑا حصہ ریل کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچتا ہے۔ مال گاڑیوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے کیونکہ یہی ٹرینیں قومی معیشت کو سہارا دیتی ہیں صنعتوں کو خام مال پہنچاتی ہیں اور ملکی تجارت کے پہیے کو رواں رکھنے میں کردار ادا کرتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آمدنی پیدا کرنے والی ٹرین کی حفاظت بھی اسی قدر اہم سمجھی جا رہی ہے یا نہیں۔ اگر کوئی ٹرین ادارے کے لیے کماؤ پوت ہے تو اس کی فنی حالت اس کے ٹریک اور اس کے آپریشنل نظام کی حفاظت پر سب سے زیادہ توجہ ہونی چاہیے کیونکہ کماؤ پوت کی حفاظت نہ کی جائے تو ایک دن وہی قومی آمدنی کے بجائے قومی نقصان کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
بندن میاں کو سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب کسی ریلوے حادثے کو محض چند بوگیوں کے پٹری سے اترنے کے واقعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک بوگی صرف لوہے کا ڈھانچہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے قومی سرمایہ لگا ہوتا ہے۔ ایک انجن صرف مشین نہیں ہوتا بلکہ اس کی تعمیر مرمت اور آپریشن پر بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔ اور ایک ریلوے ملازم صرف ایک سرکاری ملازم نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک انسان ہوتا ہے جس کے گھر میں بچے اس کی واپسی کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ جب کوئی ملازم ڈیوٹی کے دوران حادثے کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتا ہے تو اس کے ساتھ ایک خاندان کی دنیا اجڑتی ہے۔ حالیہ حادثات نے اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ حادثات ہمیشہ ایک ہی وجہ سے نہیں ہوتے۔ کبھی ٹریک ذمہ دار ہوسکتا ہے کبھی رولنگ اسٹاک کبھی بریکنگ سسٹم کبھی سگنلنگ اور کبھی انسانی غلطی بھی سبب بن سکتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ تحقیقات کا مقصد صرف کسی ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل بنیادی وجہ تک پہنچنا ہونا چاہیے۔ اگر کسی ملازم سے غلطی ہوئی ہے تو یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ غلطی کیوں ہوئی۔ کیا عملے کو مناسب تربیت حاصل تھی۔ کیا ڈیوٹی کے اوقات مناسب تھے۔ کیا حفاظتی اصولوں پر عمل ہورہا تھا۔ کیا نگرانی کا نظام مؤثر تھا۔ اسی طرح اگر ٹریک میں خرابی تھی تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بروقت مرمت کیوں نہیں ہوئی اور اگر مشینری یا ویگن میں نقص تھا تو اسے فٹ قرار دینے والا نظام کہاں ناکام ہوا۔
بندن میاں سمجھتا ہے کہ ریلوے کا اصل مسئلہ صرف حادثہ نہیں بلکہ حادثے سے سبق نہ سیکھنا ہے۔ ایک حادثہ ہو جائے تو اسے بدقسمتی کہا جاسکتا ہے لیکن ایک ہی نوعیت کا واقعہ بار بار رونما ہو تو اسے بدقسمتی کہنا کافی نہیں۔ وہاں نظام کو اپنے گریبان میں جھانکنا پڑتا ہے۔ دنیا بھر میں جدید ریلوے نظام حادثے کے بعد کارروائی کے بجائے حادثے سے پہلے خطرے کی نشاندہی پر زور دیتے ہیں۔ ٹریک کی مسلسل نگرانی رولنگ اسٹاک کی باقاعدہ جانچ بریکنگ سسٹم کی فنی پڑتال حساس مقامات کی خصوصی مانیٹرنگ اور معمولی خرابی کو بھی سنجیدگی سے لینا حفاظتی نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ پاکستان ریلوے کو بھی اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
ایک اور سوال جو عوام کے ذہنوں میں بار بار ابھرتا ہے وہ وزارت ریلوے کی ترجیحات سے متعلق ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب ریلوے کے حوالے سے کوئی نہ کوئی شکایت حادثہ تاخیر فنی خرابی یا انتظامی مسئلہ سامنے نہ آتا ہو۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ وزارت صرف روزمرہ انتظامی معاملات تک محدود نہ رہے بلکہ ایک جامع حفاظتی پالیسی پر توجہ دے۔ ہر بڑے حادثے کے بعد رپورٹ بنانا کافی نہیں بلکہ رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ اگر کسی افسر یا ادارے کی غفلت سامنے آئے تو کارروائی ہونی چاہیے اور اگر بنیادی ڈھانچے میں خرابی موجود ہو تو اس کے لیے وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔
بندن میاں کو کبھی کبھی یہ خیال بھی ستاتا ہے کہ ہمارے ہاں کماؤ پوت کی اہمیت کہیں اس حد تک تو نہیں بڑھ گئی کہ اس کے ساتھ پیش آنے والی خرابیوں کو بھی نظر انداز کردیا جائے۔ آمدنی ضرور چاہیے کیونکہ ادارہ آمدنی کے بغیر نہیں چل سکتا لیکن آمدنی اور حفاظت میں کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ ریلوے کی پہلی ترجیح انسانی جان ہونی چاہیے۔ اگر ایک مال گاڑی کروڑوں روپے کا کاروباری فائدہ دے رہی ہے تو اس کے محفوظ آپریشن پر خرچ ہونے والا سرمایہ اخراجات نہیں بلکہ مستقبل کی حفاظت میں سرمایہ کاری ہے۔ قومی ادارے کا مقصد صرف آمدنی حاصل کرنا نہیں بلکہ محفوظ اور قابل اعتماد نظام قائم کرنا بھی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حادثات کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ حادثہ کیوں ہوا کیا وجہ سامنے آئی اور آئندہ اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ خاموشی ہمیشہ شکوک پیدا کرتی ہے جبکہ شفافیت اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوجائے کہ حادثہ کسی فنی خرابی کے باعث پیش آیا تو اس خرابی کو دور کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات بھی عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ اسی طرح اگر انسانی غلطی ثابت ہو تو صرف سزا کافی نہیں بلکہ پورے نظام کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسی غلطی دوبارہ نہ ہو۔
بندن میاں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ تنقید کا مقصد ریلوے کو بدنام کرنا نہیں بلکہ اسے مضبوط دیکھنا ہے۔ ریلوے کے ہزاروں محنتی ملازمین آج بھی محدود وسائل میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ پٹریوں پر کام کرنے والا گینگ مین ہو یا انجن ڈرائیور سگنل مین ہو یا اسٹیشن ماسٹر مکینیکل شعبے کا کاریگر ہو یا انجینئر سب اس نظام کا حصہ ہیں۔ ان لوگوں کی محنت کا تقاضا ہے کہ انہیں بہتر وسائل محفوظ ماحول مناسب تربیت اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔ کسی حادثے کے بعد صرف نچلے درجے کے ملازمین کو ذمہ دار ٹھہرانا آسان راستہ ہوسکتا ہے مگر اصل اصلاح تب ہوگی جب پورے نظام کا احتساب کیا جائے گا۔
آج کوٹری یارڈ کا واقعہ پھر ہمیں سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ اگر ایک ہی ٹرین ایک ہی علاقے میں بار بار پٹری سے اتر رہی ہے تو کیا اس مقام کو خصوصی نگرانی میں نہیں لینا چاہیے۔ کیا وہاں ٹریک کی مکمل تکنیکی جانچ نہیں ہونی چاہیے۔ کیا اس روٹ پر چلنے والی مال گاڑیوں کے فنی معائنے کو مزید سخت نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیا پہلے واقعے کی تحقیقات کی سفارشات پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔ یہ سوالات کسی مخالفت یا سیاست کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔
بندن میاں کے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان ریلوے حادثات کے بعد جاگنے کے بجائے حادثات سے پہلے جاگنے والا ادارہ بنے۔ ہمیں ایسی پالیسی چاہیے جس میں ہر ڈی ریلمنٹ کو ایک انتباہ سمجھا جائے اور ہر معمولی فنی خرابی کو ممکنہ بڑے حادثے سے پہلے دور کیا جائے۔ ریلوے کا نظام جتنا بڑا ہے اتنی ہی بڑی اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ مسافر جب ٹرین میں بیٹھتا ہے تو اسے یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ اپنی منزل تک بحفاظت پہنچے گا اور ریلوے ملازم جب ڈیوٹی پر جائے تو اس کے اہل خانہ کو یہ خوف نہ ہو کہ شاید آج وہ واپس نہ آئے۔
آخر میں بندن میاں صرف اتنا کہنا چاہتا ہے کہ کوٹری یارڈ میں وہی ٹرین اور بار بار ہونے والی ڈی ریلمنٹ اب ایک عام خبر نہیں رہی بلکہ ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔ یہ سوال صرف وزارت ریلوے سے نہیں بلکہ پورے انتظامی نظام سے ہے کہ آخر ہم حادثے کے بعد ہی کیوں سوچتے ہیں حادثے سے پہلے کیوں نہیں۔ کماؤ پوت یقیناً قومی اثاثہ ہے مگر قومی اثاثے کی حفاظت اس کی کمائی سے زیادہ اہم ہے۔ ریلوے کی پٹری پر چلنے والی ہر ٹرین اپنے ساتھ صرف سامان یا مسافر نہیں لے جاتی بلکہ وہ ریاست کی ذمہ داری بھی اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ اس ذمہ داری کا تقاضا یہی ہے کہ حادثات کو قسمت کا کھیل سمجھنے کے بجائے ان کے اسباب تلاش کیے جائیں ذمہ داریاں طے کی جائیں خامیوں کو دور کیا جائے اور ایسا محفوظ نظام تشکیل دیا جائے جس میں خبر یہ نہ ہو کہ آج پھر ٹرین ڈی ریل ہوگئی بلکہ خبر یہ ہو کہ پاکستان ریلوے نے اپنے حفاظتی نظام کو اس قدر مضبوط کرلیا ہے کہ حادثات کے امکانات کم سے کم ہوگئے ہیں۔ قوم کو اب بیانات نہیں نتیجہ چاہیے تسلی نہیں تحفظ چاہیے اور وعدہ نہیں عملی اصلاح چاہیے کیونکہ ریلوے کی پٹری پر چلنے والی ہر گاڑی کے ساتھ پاکستان کے اعتماد کا سفر بھی جاری ہے اور اس اعتماد کو بار بار ڈی ریل ہونے سے بچانا ہی اصل ذمہ داری ہے۔
