ستمبر 10, 2026

نئے صوبوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ ( گزشتہ سے پیوستہ )

تحریر”محمد انور بھٹی

اس وقت سندھ اسمبلی کی قرارداد نے ایک واضح سیاسی پیغام ضرور دے دیا ہے کہ سندھ کی تقسیم کے معاملے پر پیپلز پارٹی اپنی سیاسی پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی اور سندھ کی وحدت اس کے لیے ایک بنیادی سیاسی مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ سمجھ لینا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ختم ہوگئی ہے درست نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں انتظامی بنیادوں پر نئی اکائیوں کی بحث موجود ہے اور یہ بحث اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک عوامی محرومیوں اور انتظامی مسائل کا کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آتا پیپلز پارٹی کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سندھ کی وحدت کے دفاع کے ساتھ ساتھ سندھ کے عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرنا بھی اسی قدر ضروری ہے اگر سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا تو اس ایک سندھ کے ہر شہری کو تعلیم صحت پانی روزگار سڑکیں امن اور انصاف تک مساوی رسائی بھی ملنی چاہیے اسی طرح سندھ کی تقسیم کے مطالبے کو مسترد کرنے والوں سے بھی یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ اگر نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں تو پھر بڑے علاقوں کو انتظامی طور پر کس طرح بااختیار بنایا جائے گا اور اختیارات کہاں تک منتقل کیے جائیں گے ایم کیو ایم پاکستان اور دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی یہ وضاحت عوام کے سامنے رکھنی ہوگی کہ ان کے انتظامی یونٹس کے مطالبے کا مکمل خاکہ کیا ہے ان یونٹس کی آئینی حیثیت کیا ہوگی ان کے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے ان کے اختیارات کیا ہوں گے اور ان کا مقصد واقعی عوامی خدمت ہوگا یا مستقبل کے سیاسی اقتدار کی نئی تقسیم اسی طرح وفاقی حکومت کو بھی اب صرف یہ کہہ کر معاملہ ختم نہیں کرنا چاہیے کہ نئے صوبے ایک مشکل آئینی مسئلہ ہیں بلکہ اسے ایک قومی انتظامی اصلاحات کے سوال کے طور پر دیکھنا چاہیے میری نظر میں پاکستان میں نئے صوبوں کے معاملے پر ایک غیر جانب دار قومی کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں ماہرین آئین ماہرین انتظامیہ معاشی ماہرین اور متعلقہ علاقوں کے نمائندوں کو شامل کیا جائے یہ کمیشن ملک کے تمام ممکنہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے بارے میں جامع مطالعہ کرے اور یہ دیکھا جائے کہ کہاں واقعی انتظامی ضرورت موجود ہے کہاں محض سیاسی مطالبہ ہے کہاں مالی استعداد موجود ہے اور کہاں نیا انتظامی ڈھانچہ قومی خزانے پر ناقابل برداشت بوجھ بن سکتا ہے اس کمیشن کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کے موجودہ صوبوں کے اندر اختیارات نچلی سطح تک کیوں نہیں پہنچ سکے اور مقامی حکومتوں کو آئینی تقاضوں کے مطابق حقیقی مالی اور انتظامی اختیار کیسے دیا جاسکتا ہے اگر یہ کام دیانت داری سے ہوجائے تو شاید پاکستان کو ہر چند سال بعد نئے صوبوں کے سیاسی تنازعے کا سامنا نہ کرنا پڑے سب سے خطرناک راستہ یہ ہوگا کہ نئے صوبوں کی بحث کو لسانی نفرت علاقائی تعصب یا قومیت کی جنگ بنا دیا جائے پاکستان پہلے ہی سیاسی معاشی اور سماجی تقسیم کا شکار ہے اگر انتظامی اصلاحات کو شناخت کی جنگ میں تبدیل کردیا گیا تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوجائے گا کسی نئے صوبے کا قیام کسی قوم یا زبان کی شکست نہیں ہونا چاہیے اور کسی موجودہ صوبے کی وحدت کسی علاقے کی انتظامی محرومی کا جواز بھی نہیں بننی چاہیے پاکستان کو ایسے سیاسی رویے کی ضرورت ہے جس میں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور مطالبے کو غداری کا نام نہ دیا جائے نئے صوبے بنانے ہوں تو آئینی طریقے سے بنائے جائیں انتظامی یونٹس بنانے ہوں تو واضح قانونی اختیار کے ساتھ بنائے جائیں عوامی رائے لینی ہو تو شفاف طریقے سے لی جائے اور وسائل تقسیم کرنے ہوں تو اعداد و شمار اور انصاف کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں اب سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا میرے نزدیک فوری طور پر کسی نئے صوبے کے قیام کے امکانات سے زیادہ سیاسی دباؤ اور انتظامی اصلاحات کی بحث آگے بڑھنے کے امکانات ہیں کیونکہ آئینی راستہ آسان نہیں اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی ممکن نہیں سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد نے سندھ کی تقسیم کے سیاسی راستے کو مزید مشکل ضرور کردیا ہے لیکن اس نے پورے پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت کے سوال کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے مزید نمایاں کردیا ہے آنے والے دنوں میں اصل امتحان سیاسی جماعتوں کا ہوگا اگر سیاسی قیادت واقعی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے عوام کو صرف یہ نہیں بتانا ہوگا کہ نیا صوبہ بنے گا یا نہیں بلکہ یہ بھی بتانا ہوگا کہ عوام کے موجودہ مسائل کیسے حل ہوں گے اگر نئے صوبے نہیں بنتے تو دور دراز علاقوں کو بہتر انتظامی سہولت کیسے ملے گی اگر انتظامی یونٹس بنتے ہیں تو ان کے اختیارات کیا ہوں گے اگر مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہے تو انہیں مالی وسائل کون دے گا اور اگر صوبائی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے تو صوبائی حکومتیں اپنے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے کب تیار ہوں گی یہی وہ سوالات ہیں جن سے سیاسی قیادت کو اب فرار نہیں مل سکتا میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت نئے نقشوں سے زیادہ نئی حکمرانی کی ضرورت ہے نئے صوبے اگر عوامی مسائل کم کرنے انتظامی رسائی بڑھانے وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے اور ریاستی اداروں کو عوام کے قریب لانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو ان پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے لیکن اگر نئے صوبے صرف سیاسی طاقت کے نئے مراکز وزارتوں کی نئی تقسیم اور اقتدار کی نئی بندربانٹ کا ذریعہ بنتے ہیں تو پھر ایسے تجربے سے ملک کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا اسی طرح اگر سندھ کی وحدت کا دفاع صرف سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے اور سندھ کے عوام کو بنیادی سہولتیں انصاف اور بہتر حکمرانی نہ ملے تو محض قراردادیں عوامی سوالات کو خاموش نہیں کرسکتیں آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ملک کے اندر اور ملک سے باہر ہونے والی ہر سیاسی سرگرمی کو قومی مفاد اور آئینی حدود کے تناظر میں دیکھے اور کسی بھی خفیہ منصوبے یا بیرونی کھچڑی کی بات ہو تو اسے ثبوت کے ساتھ عوام کے سامنے لایا جائے افواہوں اور قیاس آرائیوں سے قومی سیاست نہیں چل سکتی اگر کوئی منصوبہ ہے تو سامنے لایا جائے اگر کوئی آئینی ترمیم زیر غور ہے تو پارلیمان میں لائی جائے اگر کوئی نیا صوبہ بنانا ہے تو اس کا مکمل انتظامی اور مالی خاکہ عوام کے سامنے رکھا جائے اور اگر سندھ کو تقسیم نہیں کرنا تو پھر سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں سمیت ہر ضلع اور ہر شہری کو یہ یقین دلایا جائے کہ موجودہ صوبائی حدود کے اندر ہی انہیں مکمل انتظامی انصاف ملے گا یہی جمہوریت کا اصل امتحان ہے اور یہی سیاسی قیادت کی اصل ذمہ داری ہے صوبے نقشے پر بنتے ہیں لیکن ریاستیں انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں پاکستان کی وحدت صرف جغرافیائی حدود سے محفوظ نہیں رہتی بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری کو یقین ہو کہ ریاست اس کے ساتھ انصاف کرے گی اس کے بچے کو تعلیم ملے گی اس کے مریض کو علاج ملے گا اس کے نوجوان کو روزگار کا موقع ملے گا اس کے کسان کو اس کی محنت کا حق ملے گا اور اس کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے گی اس لیے نئے صوبوں کا فیصلہ جذبات کے بجائے دلیل سے ہونا چاہیے انتظامی یونٹس کا فیصلہ سیاسی مفاد کے بجائے عوامی ضرورت سے ہونا چاہیے اور پاکستان کی وحدت نعروں کے بجائے انصاف سے مضبوط ہونی چاہیے یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر نئے صوبوں کے سوال کو قومی انتشار کے بجائے قومی اصلاح کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے ورنہ قراردادیں آتی رہیں گی سیاسی بیانات جاری رہیں گے بیرون ملک ملاقاتوں کے قصے گردش کرتے رہیں گے اور عوام وہیں کھڑے رہیں گے جہاں وہ آج کھڑے ہیں یعنی بہتر حکمرانی کے منتظر اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت فیصلہ کرے کہ اسے صرف اقتدار کے نقشے بنانے ہیں یا پاکستان کے عوام کی زندگی بھی بدلنی ہے کیونکہ اصل سوال سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کا نہیں اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو ایسا نظام حکمرانی کب ملے گا جس میں کسی علاقے کو اپنے حق کے لیے بار بار صوبہ بننے کی ضرورت محسوس نہ ہو اور کسی صوبے کو اپنی وحدت کے تحفظ کے لیے بار بار قراردادیں منظور نہ کرنی پڑیں۔