تحریر: محمد انور بھٹی
نئے صوبوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا پاکستان کی سیاسی قیادت ملک سے باہر کیا کھچڑی پکا رہی ہے اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کے بعد اصل منظرنامہ کیا بنتا ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کے مرکز میں آچکا ہے اور سندھ اسمبلی کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے خلاف قرارداد کی منظوری نے اس بحث کو ایک نئی سمت دے دی ہے سندھ اسمبلی نے یہ قرارداد ایسے وقت میں منظور کی ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی آوازیں ایک مرتبہ پھر بلند ہورہی ہیں اور سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی معاشی ضروریات علاقائی محرومیوں اور عوامی مسائل کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہے یا وقت آگیا ہے کہ ملک کے انتظامی نقشے پر ازسرنو غور کیا جائے لیکن اس سارے معاملے کو صرف سندھ کی تقسیم یا نئے صوبے کے مطالبے تک محدود کردینا شاید اصل مسئلے سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا کیونکہ پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال دراصل حکمرانی اختیارات وسائل کی منصفانہ تقسیم عوامی نمائندگی انتظامی رسائی اور وفاقی وحدت کے مستقبل سے جڑا ہوا سوال ہے سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد کا سیاسی وزن اپنی جگہ موجود ہے اور اس قرارداد کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کی جغرافیائی وحدت کے بارے میں اپنا واضح موقف ایک مرتبہ پھر سامنے رکھ دیا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صرف قراردادیں نئے صوبوں کے مطالبے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرسکتی ہیں یا پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں انتظامی اصلاحات کے ایک ایسے جامع نظام پر بحث کی جائے جس میں صوبے بنانے سے پہلے یہ طے کیا جائے کہ عوام کو بہتر حکمرانی کیسے دی جاسکتی ہے یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آئین پاکستان نئے صوبوں کے قیام کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں کرتا بلکہ آئین میں اس کے لیے ایک واضح طریقہ کار موجود ہے اور اگر کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنا مقصود ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے اس کے ساتھ پارلیمان میں بھی آئینی ترمیم کا مقررہ عمل مکمل کرنا پڑتا ہے اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کوئی وفاقی حکومت محض ایک اعلان کرکے کسی صوبے کو تقسیم کرسکتی ہے یا کوئی سیاسی جماعت اپنی خواہش کے مطابق راتوں رات نیا صوبہ قائم کرسکتی ہے حقیقت یہ ہے کہ نئے صوبے کا معاملہ آئینی سیاسی اور انتظامی تینوں سطحوں پر ایک مشکل اور پیچیدہ عمل ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے نئے صوبوں کے مطالبات موجود ہونے کے باوجود عملی طور پر اس سمت میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوسکی سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اگر ملک کے دوسرے حصوں میں نئے صوبوں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے تو کیا سندھ کو بھی اس بحث سے ہمیشہ کے لیے الگ رکھا جاسکتا ہے اور اگر سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی جاتی ہے تو کیا سندھ کے اندر موجود انتظامی محرومیوں بدانتظامی وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور اختیارات کی مرکزیت کے مسائل کو بھی نظرانداز کیا جاسکتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی نعروں کے بجائے سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے سندھ ایک تاریخی تہذیبی اور ثقافتی شناخت رکھنے والی سرزمین ہے اس لیے سندھ کی تقسیم کا سوال عام انتظامی سوال نہیں بلکہ سندھ کے عوام کے جذبات تاریخ شناخت اور سیاسی احساسات سے بھی جڑا ہوا ہے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سندھ کی وحدت کو اپنی سیاست کا بنیادی حصہ بنایا ہے اور حالیہ قرارداد بھی اسی سیاسی موقف کا تسلسل ہے دوسری طرف سندھ کے شہری علاقوں کی بعض سیاسی قوتیں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ ان کا مقصد سندھ کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور انتظامی یونٹس کو زیادہ بااختیار بنانا ہے حالیہ بحث میں بھی یہ فرق نمایاں ہوا کہ ایک طرف سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی گئی اور دوسری طرف انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی تقسیم کی بات کی گئی اگر اس فرق کو سنجیدگی سے سمجھا جائے تو شاید موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کا راستہ بھی نکل سکتا ہے کیونکہ صوبہ بنانا اور انتظامی یونٹ بنانا ایک ہی چیز نہیں ہے صوبہ ایک آئینی اکائی ہے جبکہ انتظامی یونٹ کا مقصد حکومتی امور کو عوام کے قریب لانا ہوسکتا ہے اگر سندھ میں مزید اضلاع ڈویژن یا بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں اور انہیں مالی و انتظامی اختیارات دیے جائیں تو ممکن ہے بہت سے وہ مسائل جنہیں آج نئے صوبے کے مطالبے سے جوڑا جارہا ہے موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر بھی حل کیے جاسکیں لیکن یہاں ایک سوال پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے پوچھنا ضروری ہے کہ اگر مقامی حکومتیں مضبوط ہوسکتی ہیں تو انہیں حقیقی معنوں میں مضبوط کیوں نہیں کیا جاتا اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جاسکتے ہیں تو پھر صوبائی حکومتیں اس اختیار کی منتقلی میں ہچکچاہٹ کا شکار کیوں رہتی ہیں اور اگر عوام کو ان کے دروازے پر بنیادی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں تو ہر مسئلے کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنے کی ضرورت کیوں باقی رہتی ہے حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شاید صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار ہے ہمارے ہاں ایک ضلع کا عام شہری معمولی سے سرکاری کام کے لیے کئی کئی دن دفاتر کے چکر لگاتا ہے ایک کسان کو اپنے مسئلے کے حل کے لیے دور دراز دفاتر کا رخ کرنا پڑتا ہے ایک طالب علم تعلیم کی بہتر سہولتوں سے محروم رہتا ہے ایک مریض بنیادی علاج کے لیے بڑے شہر کا محتاج ہوتا ہے اور ایک عام مزدور روزگار کے لیے اپنے علاقے سے باہر جانے پر مجبور ہوتا ہے ایسے حالات میں اگر کوئی علاقہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہمیں بہتر انتظامی سہولت کیوں نہیں مل رہی تو اس سوال کو محض تعصب یا صوبائی تقسیم کی سازش قرار دینا بھی انصاف نہیں ہوگا اسی طرح اگر کوئی صوبہ اپنی تاریخی وحدت کے تحفظ کی بات کرتا ہے تو اس کے مؤقف کو بھی محض سیاسی ضد کہہ کر رد نہیں کیا جاسکتا مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انتظامی ضرورت اور سیاسی مفاد ایک دوسرے میں اس طرح مل جاتے ہیں کہ عوام کے اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں جنوبی پنجاب کا معاملہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے سیاسی بحث کا حصہ ہے بہاولپور کی تاریخی حیثیت اور الگ صوبے کا مطالبہ بھی اپنی جگہ موجود ہے ہزارہ کے علاقے میں الگ صوبے کی آواز بھی مختلف ادوار میں سامنے آتی رہی ہے اسی طرح کراچی کے انتظامی مستقبل اور سندھ کے شہری علاقوں کے اختیارات کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی الگ الگ تجاویز رہی ہیں ان تمام مطالبات کو ایک ہی نظر سے دیکھنا مناسب نہیں کیونکہ ہر علاقے کے تاریخی سیاسی معاشی اور انتظامی حالات مختلف ہیں لیکن ایک اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور وہ اصول یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں نئے انتظامی بندوبست یا نئے صوبے کا مطالبہ اٹھتا ہے تو اسے جذبات کے بجائے اعداد و شمار آئین عوامی رائے معاشی استعداد انتظامی ضرورت اور قومی مفاد کی بنیاد پر پرکھا جائے نئے صوبے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ نقشے پر ایک لکیر کھینچ دی جائے اور ایک نیا نام لکھ دیا جائے نئے صوبے کے قیام کے ساتھ نئی اسمبلی نیا سیکریٹریٹ نئے محکمے نئی انتظامی مشینری پولیس عدالتی انفراسٹرکچر سرکاری دفاتر اور بے شمار مالی ذمہ داریاں بھی پیدا ہوتی ہیں اگر نیا صوبہ بننے کے بعد عوام کو وہی بجلی وہی پانی وہی تعلیم وہی صحت وہی روزگار اور اُنہیں بنیادی سہولیات کا فقدان موجود رہے جو پہلے ہی نہیں مل رہی ہیں تو پھر سوال ضرور اٹھے گا کہ صرف صوبہ بنانے سے کیا حاصل ہوگا۔ لیکن اس دلیل کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے اگر کسی بڑے صوبے کے دور دراز علاقے میں حکومت کی رسائی کم ہے اگر وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے اگر انتظامی مرکز بہت دور ہے اور اگر عوام کو بنیادی سہولتوں کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے تو نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹ کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کرنا بھی دانش مندی نہیں ہوگی اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نئے صوبے بنانے ہیں یا نہیں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ عوام کو بہتر حکمرانی کس انتظامی ڈھانچے میں دی جاسکتی ہے اب ایک اور اہم سوال سامنے آتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ملک سے باہر کیا کھچڑی پکا رہی ہے اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں اور چہ مگوئیاں جاری رہتی ہیں اور بیرون ملک سیاسی ملاقاتوں کو بعض اوقات ملکی سیاسی فیصلوں سے جوڑ دیا جاتا ہے لیکن ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ جہاں مستند ثبوت موجود نہ ہوں وہاں قیاس کو خبر بنا کر پیش نہ کیا جائے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنما بیرون ملک سیاسی رابطے رکھتے ہیں مختلف ممالک میں پاکستانی سیاسی شخصیات کے روابط اور ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں اور بعض اوقات سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے مشاورت بھی بیرون ملک ہوسکتی ہے لیکن یہ دعوی کرنا کہ ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے صوبائی نقشے کو تبدیل کرنے یا کسی نئے صوبے کے قیام کا کوئی خفیہ منصوبہ حتمی شکل اختیار کرچکا ہے اس وقت تک محض قیاس ہی سمجھا جائے گا جب تک اس کے حق میں قابل اعتماد اور واضح شواہد سامنے نہ آئیں یہی وہ فرق ہے جو ذمہ دار صحافت اور سیاسی افواہ کے درمیان لکیر کھینچتا ہے تاہم اس پہلو کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی سیاست میں طاقت کے مراکز صرف پارلیمان تک محدود نہیں رہے اور سیاسی جماعتیں اپنے داخلی اور بیرونی روابط کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے مختلف امکانات کا جائزہ لیتی رہی ہیں اس لیے اگر مستقبل میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر کوئی بڑی سیاسی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے آثار سب سے پہلے پارلیمانی سرگرمیوں آئینی ترامیم سیاسی جماعتوں کے باہمی مذاکرات اور حکومتی فیصلوں میں نظر آئیں گے نہ کہ محض سوشل میڈیا کی افواہوں میں بلکہ اصل فیصلہ اسی وقت سامنے آئے گا جب سیاسی قوتیں عوامی رائے آئینی تقاضوں انتظامی ضرورت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی واضح راستہ اختیار کریں گی اور تب ہی یہ معلوم ہوگا کہ نئے صوبوں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ (جاری ہے)
