ستمبر 10, 2026

سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کرسکتے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا دوٹوک بیان؛ سندھ اسمبلی سے قرارداد منظور

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی تحریک التوا پر چوتھے روز بھی بحث جاری رہی، اس دوران سندھ کی تقسیم کے خلاف ایک اہم قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی جسے پیپلزپارٹی کے رکنِ اسمبلی نثار کھوڑو نے پیش کیا تھا۔ اس موقع پر ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کہیں اور بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا اور قومی اسمبلی کو بھی تنبیہ کی کہ وہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ سندھ میں نئے صوبے نہیں بننے چاہئیں کیونکہ فیصلے یہیں ہوں گے اور اس بحث سے معلوم ہو جائے گا کہ کون ان کے ساتھ ہے اور کون دوغلا پن کا مظاہرہ کر رہا ہے، جبکہ ماضی میں ون یونٹ کے قیام کے وقت بھی سندھ کے عوام کے جذبات کو نظرباز کیا گیا تھا جسے اب دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مراد علی شاہ نے مزید سوال اٹھایا کہ کیا اب پاکستان کو نچوڑنے والے ارب پتی بزنس مین نئے صوبوں کا فیصلہ کریں گے، کیونکہ لاہور میں ایک پروگرام کے دوران کہے گئے جملے پر تالیاں بجائی گئیں اور سندھ کے معاملات پر غیر متعلقہ فورمز پر ہونے والی گفتگو انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے سیاسی مخالفین خاص طور پر ایم کیو ایم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مصطفیٰ کمال انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کرتے ہیں جبکہ سندھ اسمبلی میں بیٹھے ایم کیو ایم کے اراکین کہتے ہیں کہ سندھ تقسیم نہ ہو، جو کہ کھلا دوغلا پن ہے اور وہ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک بھی رکن عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آیا بلکہ مخصوص طریقہ کار کے تحت ایوان میں پہنچا ہے، اور ضرورت پڑنے پر وہ ان کے انتخاب کی تمام تفصیلات بھی مناسب وقت پر سامنے رکھ سکتے ہیں۔ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ نئے صوبوں کی بحث میں صرف آبادی کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا بلکہ اصل بات گڈ گورننس کی ہے جسے بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر بات ہونی چاہیے، تاہم انتظامی امور کو سندھ کی تقسیم کے ساتھ مکس نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو عوام کی سہولت کے لیے سندھ میں مزید نئے اضلاع اور انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں اور مقامی حکومتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قانون میں ترامیم لانے پر بھی کام جاری ہے۔