ستمبر 11, 2026

پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنے ختم کرانے کے لیے حکومتی وفد کی احسن اقبال کی سربراہی میں حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، مذاکراتی ٹیمیں تشکیل

پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے جاری دھرنے ختم کروانے کے لیے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں حکومتی وفد نے منصورہ لاہور میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور دیگر رہنماؤں سے اہم ملاقات کی۔ حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں احسن اقبال کے علاوہ رانا ثنااللہ اور خواجہ سلمان رفیق شامل تھے، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی۔ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ عوام کو ریلیف ملے اور اسی مقصد کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی ہے، انہوں نے جماعت اسلامی کو دعوت دی کہ وہ پیٹرول کی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں کیونکہ موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ مل کر داخلی امن کو برقرار رکھا جائے۔ اس موقع پر رانا ثنا اللہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ حافظ نعیم الرحمان نے عوام کو ریلیف دینے سے متعلق تجاویز کا ذکر کیا ہے اور حکومت جماعت اسلامی کی تمام قابلِ عمل تجاویز پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ ملک بھر میں گزشتہ 19 دن سے 30 مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور انہیں کوئی شوق نہیں کہ وہ عوام کو درپیش مسائل کی وجہ سے دھرنے دیں، تاہم پچھلے 6 سالوں میں ملک میں غربت میں 33 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور موٹرسائیکل سوار ایک لیٹر پیٹرول پر 35 فیصد تک ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرولیم لیوی معطل کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کیا گیا ہے اور جب سے یہ لیوی شروع ہوئی ہے اس مد میں 8 ہزار ارب روپے جمع ہو چکے ہیں، جبکہ رواں سال تو حکومت نے ہدف سے بھی زیادہ رقم اکٹھی کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور پیٹرول کی قیمت، لیوی میں کمی، آئی پی پیز کے معاہدوں اور روٹی کی قیمت کم کرنا ان کے بنیادی مطالبات ہیں، اس لیے دھرنے بھی اپنی جگہ جاری رہیں گے اور حکومت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔