گجرات (خصوصی رپورٹ) پاک انٹرنیشنل میڈیا الائنس کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فیاض حسین خان نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے عوام کو کھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر روزمرہ کا سامان سستے داموں فراہم کرنے کے لیے قائم کیا جانے والا گجرات کا سستا ماڈل بازار انتظامی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اب باقاعدہ لنڈا بازار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر انکشاف کیا ہے کہ ماڈل بازار کی انتظامیہ پٹھانوں سے دکانوں کے عوض زیادہ پیسے بطور رشوت وصول کرکے انہیں لنڈا لگانے کے لیے دکانیں الاٹ کر رہی ہے، جبکہ گزشتہ دنوں جب پانچ دکانیں خالی ہوئیں تو ان میں سے ایک بھی دکان کریانے کے لیے مختص کرنے کے بجائے دیگر اشیاء کے لیے کرائے پر دے دی گئیں جس کے نتیجے میں اس وقت پورے ماڈل بازار میں صرف ایک ہی کریانے کی دکان باقی بچی ہے اور وہ بھی عنقریب بند ہونے والی ہے۔
اس صورتحال پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، صوبائی وزیر صنعت پنجاب چوہدری شافع حسین اور ماڈل بازار پنجاب کی اعلیٰ انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گجرات کے ماڈل بازار کو مزید لنڈا بازار بننے سے روکا جائے اور یہاں عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے اور کھانے پینے کی اشیاء کی سستے داموں دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کریانے کی دکانیں قائم کی جائیں تاکہ حکومت کے اس فلاحی منصوبے کا اصل مقصد پورا ہو سکے۔



