ستمبر 10, 2026

بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد، کشمیری رہنما یاسین ملک کا مقدمہ مزید لڑنے سے انکار اور 25 صفحات کا تفصیلی حلف نامہ جمع

بھارتی قید میں موجود کشمیری رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے اور سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل ایک جامع حلف نامہ جمع کرا دیا ہے جس میں ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کو باقاعدہ شہادت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ حلف نامے میں یاسین ملک نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارتی حکومت انہیں 36 سال پرانے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنساکر پھانسی دینے کی گہری سازش کر چکی ہے، اس لیے انہیں بھارتی عدالتوں سے کسی قسم کے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے اور اگر عدالت انہیں سزائے موت بھی سنا دیتی ہے تو وہ اسے کشمیر کے لیے خوشی سے قبول کرتے ہیں، البتہ عدالتی سزا قبول کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جائے گا کہ وہ خود پر عائد کردہ جھوٹے جرم کو تسلیم کر رہے ہیں۔ حلف نامے کے دوران انہوں نے 1990 کے سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنے ملوث ہونے کے الزام کی پرزور اور دوٹوک تردید کی اور واضح کیا کہ انہیں اس مقدمے میں صرف اس مبینہ جے کے ایل ایف نوٹ کی بنیاد پر گھسیٹا گیا جو مقتولہ کی لاش کے ساتھ پڑا ملا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس قتل کے واقعے سے ٹھیک 11 روز قبل وہ شدید زخمی ہو چکے تھے جس کی وجہ سے ان کے لیے کسی بھی قتل کی منصوبہ بندی کرنا یا کسی کو ہدایات دینا قطعی طور پر ممکن نہیں تھا۔

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں مزید انکشاف کیا کہ بھارتی ایجنسیوں نے ماضی میں ان سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا کہا تھا اور بعد میں اسی بات کو ان کے خلاف بطور ثبوت پیش کر دیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ واجپائی حکومت کے دور میں اجیت دوول، برجیش مشرا اور آر کے مشرا نے خود ان سے پاک بھارت تعلقات میں مثبت کردار ادا کرنے کی فرمائش کی تھی، جبکہ 2019 اور 2024 کے بھارتی انتخابات میں ان کا نام، تصویر اور تمام عدالتی کارروائیوں کو پاکستان مخالف سیاسی بیانیے کے طور پر کھلم کھلا استعمال کیا گیا۔ حلف نامے میں طویل قید، تنہائی اور اپنی والدہ، اہلیہ مشعال ملک اور پیاری بیٹی سے برسوں کی کٹھن جدائی کا انتہائی کربناک ذکر کرتے ہوئے یاسین ملک نے جذباتی انداز میں مشعال ملک کو طویل قید اور ممکنہ پھانسی کے طویل انتظار کی اذیت ناک زندگی سے آزاد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ آپ نے ہمیشہ بہادری کے ساتھ میرا ساتھ دیا ہے، آج میں آپ کو اپنی رفاقت کی قید سے آزاد کرتا ہوں، ساتھ ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی تلقین کی کہ وہ اپنی دادی سے مسلسل بات چیت کرتی رہے اور ان کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کرے کیونکہ انہوں نے اپنا مؤقف اور اپنے ضمیر کی آواز عدالت کے سامنے صاف صاف رکھ دی ہے اور باقی تمام فیصلہ وہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔ دوسری جانب اس سنگین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کا یہ پورا ٹرائل مودی حکومت کی ایک ایسی گھناؤنی کوشش ہے جس کا مقصد کشمیریوں کی ہر معتبر آواز کو سیاسی دباؤ کے ہتھکنڈوں سے مستقل طور پر خاموش کرنا ہے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ یاسین ملک سمیت تمام کشمیری حریت پسند رہنما طویل قید، صعوبتوں اور بھارتی ریاستی جبر کے باوجود ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں، اور بھارت چاہے لاکھ کوشش کر لے وہ کسی بھی آواز کو تو دبا سکتا ہے لیکن کشمیریوں کے دلوں میں موجود نظریہ حریت کو ہرگز نہیں مٹا سکتا، اس لیے اب عالمی برادری اور اقوام متحدہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے اپنا عملی کردار ادا کریں۔