ہمالیہ کا غصہ… چند منٹ، اور ایک پوری وادی پانی، برف اور پتھروں کے نیچے

تحریر : بنت شبیر احمد قریشی

نیپال اور تبت کی سرحد پرجو کچھ ہوا، اسے محض ایک سیلاب کہہ دینا شاید اس سانحے کی اصل شدت کو چھوٹا کر دینا ہے۔

یہ پانی اکیلا نہیں تھا…

اس کے ساتھ برف تھی، پہاڑ تھا، چٹانیں تھیں، مٹی تھی اور ہزاروں ٹن تلچھٹ تھی۔

نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر ایک بڑے برفانی حصے کے ٹوٹنے اور نیچے گرنے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ برفانی تودہ تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی کی طرف آیا، اپنے راستے میں چٹانیں اور ملبہ سمیٹتا گیا اور دریائے لَہینڈے کے نظام کو شدید متاثر کیا۔ ابتدائی جائزوں کے مطابق برف اور ملبے نے دریا کا راستہ عارضی طور پر بند کرکے ایک قدرتی بند بنا دیا، پھر وہ بند ٹوٹا تو پانی اور ملبے کا ایک دیوہیکل ریلا نیچے کی طرف دوڑ پڑا۔

اور پھر…

جو کچھ ہوا، وہ چند منٹوں میں ہوا۔

بھوٹی کوشی اور ترشولی دریائی نظام میں پانی اچانک یوں بڑھا کہ نیچے کی آبادیوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ گالچھھی کے علاقے میں پانی کی سطح تقریباً آدھے گھنٹے میں نو میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

سیلاب کا یہ ریلا صرف پانی نہیں تھا۔

یہ ایک چلتا پھرتا پہاڑ تھا۔

برف، پتھر، کیچڑ، درخت، مٹی اور تلچھٹ سب ایک ہی رفتار سے نیچے آ رہے تھے۔ راستے میں آنے والی سڑکیں، پل، عمارتیں اور بجلی کے منصوبے اس طاقت کے سامنے ایسے غائب ہوئے جیسے وہ کبھی وہاں تھے ہی نہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق نیپال اور تبت دونوں طرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، لیکن تباہ شدہ سڑکیں، پل، ملبہ اور مسلسل خطرات امدادی کام کو انتہائی مشکل بنا رہے ہیں۔

سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ ماہرین ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں دے سکے کہ پہاڑ نے اچانک اپنا بوجھ کیوں چھوڑا۔

ایک امکان زلزلے کا ہے۔

ابتدائی رپورٹس میں تقریباً 4.4 شدت کے زلزلے کا ذکر ہے، جس نے ممکنہ طور پر برفانی تودے یا پہاڑی ملبے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو۔ لیکن سائنس دان ابھی اسے حتمی وجہ قرار نہیں دے رہے۔

دوسرا سوال موسم کا ہے۔

حالیہ درجۂ حرارت میں اضافہ اور برف کے پگھلنے کے آثار بھی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ صرف ایک واقعے کو دیکھ کر یہ کہنا درست نہیں کہ ’’موسمیاتی تبدیلی نے یہ سیلاب پیدا کیا‘‘۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ گرم ہوتا ہوا ہمالیائی ماحول برف، گلیشیئرز، پہاڑی ڈھلوانوں اور برفانی جھیلوں کے نظام کو زیادہ غیر مستحکم بنا رہا ہے۔

اور اصل کہانی شاید یہیں سے شروع ہوتی ہے۔

نیپال گزشتہ تین دہائیوں میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی کھو چکا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ دہائی میں گلیشیئر پگھلنے کی رفتار اس سے پچھلی دہائی کے مقابلے میں تقریباً 65 فیصد زیادہ رہی۔

یہ صرف نیپال کا مسئلہ نہیں۔

ہمالیہ میں جو برف آج پگھل رہی ہے، وہ کل دریاؤں کے پانی کا حصہ بنے گی۔

اور یہی پہاڑ دریائے سندھ، گنگا اور برہم پتر جیسے عظیم دریائی نظاموں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔

یعنی ہمالیہ میں ہونے والی تبدیلی کا اثر نیپال اور تبت سے نکل کر بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا تک پہنچ سکتا ہے۔

آج مسئلہ زیادہ پانی کا ہے…

کل مسئلہ کم پانی کا بھی ہو سکتا ہے۔

آج گلیشیئر پگھل کر سیلابی خطرہ بڑھا رہے ہیں، لیکن اگر یہی گلیشیئر مسلسل سکڑتے گئے تو آنے والے برسوں میں دریاؤں کے خشک موسم کے بہاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہمالیائی گلیشیئرز کا سکڑنا مستقبل میں سندھ، گنگا اور برہم پتر جیسے دریاؤں کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔

اور شاید یہی نیپال کے آج کے سانحے کا سب سے بڑا سبق ہے۔

ہم پہاڑوں کو خاموش سمجھتے ہیں۔

وہ خاموش نہیں ہوتے۔

وہ صرف بہت دیر تک خاموش رہتے ہیں۔

پھر کبھی ایک زلزلہ…

کبھی شدید بارش…

کبھی برفانی تودہ…

کبھی پگھلتی ہوئی برف…

اور کبھی دریا کے راستے میں بننے والا چند گھنٹوں کا قدرتی بند…

سب ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور چند منٹوں میں وہ تباہی پیدا کر دیتے ہیں جس کے سامنے انسان کی ساری منصوبہ بندی بے بس دکھائی دیتی ہے۔

نیپال کا یہ سانحہ صرف ایک ملک کی خبر نہیں۔

یہ پاکستان کے لیے بھی وارننگ ہے۔

کیونکہ ہمالیہ کی برف ہماری سرحدوں کو نہیں مانتی۔

اس کا پانی بھی سرحدوں کو نہیں مانتا…

اور اگر پہاڑ بدل رہے ہیں تو ان کے نیچے بسنے والے ملک بھی بدلتے ہوئے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

اب وقت صرف سیلاب کے بعد امداد پہنچانے کا نہیں۔

گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی، پہاڑی دریاؤں کی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ، جدید ابتدائی وارننگ نظام اور سرحد پار ممالک کے درمیان فوری معلومات کا تبادلہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

کیونکہ اگلی بار سوال یہ نہیں ہوگا کہ سیلاب آئے گا یا نہیں…

سوال صرف یہ ہوگا:

پہاڑ کب ٹوٹے گا… اور ہمیں خبر کتنی دیر پہلے ہوگی؟

Exit mobile version