تحریر: محمد انور بھٹی
بندن میاں صبح سویرے اپنی پرانی چارپائی پر بیٹھے حقے کی نَے منہ میں دبائے بڑے غور سے بجلی کا بل دیکھ رہے تھے بکبھی بل کی طرف دیکھتے کبھی آسمان کی طرف اور کبھی گھر کے اس پنکھے کو گھورتے جو بجلی نہ ہونے کے باعث بالکل خاموش کھڑا تھا آخرکار انہوں نے ایک لمبی سانس لی اور بولے کہ بھائی میری سمجھ میں ایک بات آج تک نہیں آئی اور شاید جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا میری سمجھ میں آئے گی بھی نہیں آخر ہمارے ملک میں بجلی کہاں ہے بندن میاں کے اس سوال پر پاس بیٹھے ایک صاحب نے کہا کہ بجلی تو بہت ہے بلکہ حکمران اور متعلقہ ادارے بار بار بتاتے ہیں کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے ہمارے پاس بجلی گھروں کی پیداواری استعداد موجود ہے۔ملک میں طلب کے مقابلے میں نصب شدہ بجلی گھریلوں صلاحیت سے زیادہ ہے اور کئی مواقع پر بجلی گھروں کو مکمل استعداد کے مطابق چلانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی ہے۔ بندن میاں نے فوراً حقے کی نَے ایک طرف رکھی اور بولے کہ اگر بجلی اتنی ہی فاضل ہے تو پھر میرے گھر کا پنکھا کیوں بند ہے۔ میری موٹر کیوں نہیں چل رہی۔ دکان کا کام کیوں رک رہا ہے۔ بچے گرمی میں کیوں بیٹھے ہیں اور محلے کے لوگ ہر روز بجلی آنے کے انتظار میں گھڑی کیوں دیکھتے ہیں۔ اگر جواب یہ ہے کہ بجلی موجود ہے مگر ہمارے علاقے تک نہیں پہنچ رہی تو پھر یہ بھی تو بجلی کے مسئلے ہی کی ایک شکل ہے۔ عوام کے لیے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ بجلی ملک میں کسی پاور پلانٹ کے اندر موجود ہے یا کسی گرڈ اسٹیشن میں عوام تو وہ بجلی چاہتے ہیں جو ان کے گھر کے بلب کو روشن کرے پنکھے کو چلائے پانی کی موٹر کو حرکت دے کاروبار کو رواں رکھے اور بیمار انسان کو شدید گرمی میں کچھ سکون دے۔ بندن میاں نے بل کو دوبارہ کھولا اور بولے کہ میری اصل پریشانی یہ بھی نہیں کہ بجلی آٹھ دس گھنٹے چلی جاتی ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر بجلی کے نظام میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ایک طرف بتایا جاتا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے لیے ہمارے پاس وافر صلاحیت موجود ہے اور دوسری طرف ہمارے گھروں میں لوڈشیڈنگ جاری رہتی ہے ایک طرف بجلی گھروں کی استعداد کے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف صارف بجلی کے لیے ترس رہا ہوتا ہے ایک طرف کہا جاتا ہے کہ بجلی کا استعمال بڑھانا چاہیے تاکہ معیشت کا پہیہ تیز ہو دوسری طرف بجلی کی قیمت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ عام آدمی استعمال کم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ایک طرف صنعتوں کو توانائی فراہم کرکے پیداوار اور روزگار بڑھانے کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف بجلی کے نرخ نظام کی خرابی اور غیر یقینی فراہمی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ بجلی صرف تاروں میں دوڑنے والی توانائی کا نام نہیں بلکہ یہ کسی بھی ملک کی معیشت کی بنیادی ضرورت ہے جس ملک میں بجلی کا نظام قابل اعتماد نہ ہو وہاں صنعت کیسے چلے گی دکان کیسے چلے گی زراعت کیسے ترقی کرے گی چھوٹا کاروبار کیسے بڑھے گا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع کیسے پیدا ہوں گے۔ بندن میاں کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بجلی کبھی آتی ہے اور کبھی چلی جاتی ہے بلکہ اصل مسئلہ پورے نظام کے اندر موجود وہ تضاد ہے جس نے عوام کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر سچ کیا ہے بجلی واقعی فاضل ہے یا ملک میں بجلی کی کمی ہے اگر بجلی فاضل ہے تو لوڈشیڈنگ کیوں ہے اگر بجلی کی پیداواری صلاحیت ضرورت سے زیادہ ہے تو پھر صارف کو بل میں اتنے اخراجات کیوں برداشت کرنا پڑتے ہیں اگر بجلی کی قلت ہے تو حکومت کھل کر عوام کو کیوں نہیں بتاتی کہ قلت کی اصل وجہ کیا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ کسی بھی مسئلے کو سمجھنے کے لیے صرف ایک پہلو دیکھنا کافی نہیں ہوتا بجلی کا نظام بھی ایسا ہی معاملہ ہے بجلی پیدا کرنے کے لیے پاور پلانٹ چاہیے اسے صارف تک پہنچانے کے لیے ترسیلی نظام چاہیے ترسیل کے بعد تقسیم کا نظام چاہیے پھر اس سارے نظام کو چلانے کے لیے مالی وسائل، مناسب منصوبہ بندی، درست پیش گوئی، شفاف معاہدے اور مؤثر انتظامیہ چاہیے اگر ان میں سے کسی ایک حصے میں خرابی پیدا ہو جائے تو بجلی کا پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔لیکن عوام کی مشکل یہ ہے کہ انہیں اس پورے نظام کی پیچیدگی سے کوئی غرض نہیں انہیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ بجلی کا بل ہر ماہ ان کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ مگر بجلی ہر وقت ان کے گھر،دکان،اور کار خانے میں موجودنہیں ہوتی ہے۔بندن میاں کہتےہیں کہ جب بجلی کا بل آتا ہے تو اس میں صرف استعمال شدہ بجلی کی قیمت نہیں ہوتی بلکہ مختلف قسم کے ٹیکس، سرچارجز، ڈیوٹیز، ایڈجسٹمنٹ اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں عام صارف ان اصطلاحات کو سمجھنے کی کوشش کرے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بجلی کا بل نہیں بلکہ کسی پیچیدہ معاشی معاہدے کی دستاویز پڑھ رہا ہے مگر جب یہی صارف پوچھتا ہے کہ بجلی کے بغیر بھی بل کیوں آیا تو اسے ایک مختصر جواب دے دیا جاتا ہے کہ نظام کے اپنے اخراجات ہیں بندن میاں کہتے ہیں کہ نظام کے اخراجات اپنی جگہ لیکن عوام کا سوال بھی اپنی جگہ ہے اور سوال کا جواب دینا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے بندن میاں کو سب سے زیادہ الجھن کیپیسٹی چارجز کے معاملے میں ہوتی ہےوہ کہتے ہیں کہ اگر کسی بجلی گھر سے اس کی پوری پیداوار نہ بھی لی جائے تو بعض معاہدوں کے تحت اس کی دستیاب پیداواری صلاحیت کی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے اب عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر بجلی کی طلب کم ہے تو اتنی بڑی پیداواری صلاحیت کیوں قائم کی گئی اگر مستقبل میں طلب بڑھنے کا اندازہ تھا تو اس اندازے کی بنیاد کیا تھی اگر طلب واقعی بڑھنے والی تھی تو اس کے مطابق صنعت، کاروبار اور معیشت میں وہ اضافہ کیوں نہ ہوا جس کی توقع کی گئی تھی۔ اگر منصوبہ بندی میں کوئی غلطی ہوئی تو اس غلطی کی ذمہ داری کس پر عائد ہونی چاہیے اور اگر معاہدے قومی ضرورت کے مطابق تھے تو آج عوام کو ان کے بوجھ کی شکایت کیوں ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ دکان داری کی مثال سے اس مسئلے کو سمجھنا آسان ہے فرض کریں کسی دکاندار نے ایک بہت بڑی دکان بنائی اور اس میں اتنا سامان رکھ لیا جو پورے محلے کی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا اب اگر محلے والے کم خریداری کریں تو کیا وہ دکاندار ہر ماہ اپنی تمام لاگت محلے والوں سے وصول کرے گا۔ شاید معاہدہ یہی ہوا ہو مگر سوال یہ ہے کہ ایسا معاہدہ کس نے کیا کس مقصد کے لیے کیا اور اس کے مالی اثرات کا اندازہ کس نے لگایا یہی سوال بجلی کے شعبے میں بھی پیدا ہوتا ہے عوام کسی پاور پلانٹ کے خلاف نہیں عوام بجلی پیدا کرنے کے خلاف نہیں عوام نجی سرمایہ کاری کی بھی مخالف نہیں ہے عوام صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قومی خزانے اور صارفین کے مفاد میں کیے گئے فیصلوں کا حساب کس طرح ہوگا بندن میاں کہتے ہیں کہ بجلی کا مسئلہ کسی ایک حکومت کسی ایک ادارے یا کسی ایک دور کا مسئلہ قرار دے کر جان چھڑانا آسان ہے لیکن اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ برسوں سے بجلی کی طلب کا اندازہ کس بنیاد پر لگایا گیا بجلی گھر کس ضرورت کے تحت قائم کیے گئے کن شرائط پر معاہدے ہوئے بجلی کی خریداری کا طریقہ کیا تھا ترسیلی نظام میں کتنی سرمایہ کاری ہوئی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کیوں بڑھتے رہے بجلی چوری اور لائن لاسز کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے گردشی قرضہ کیوں پیدا ہوتا رہا اور اسے کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کیوں مستقل نتیجہ نہیں دے سکے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ اگر ایک طرف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور دوسری طرف صارف تک بجلی نہیں پہنچ رہی تو ہمیں پیداوار کے ساتھ ترسیل اور تقسیم کے نظام کو بھی دیکھنا ہوگا اگر بجلی پیدا ہو رہی ہے مگر ترسیلی نظام اسے اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو مسئلہ پیداوار سے زیادہ ترسیل کا ہے اگر ترسیل کے بعد تقسیم کے مرحلے میں رکاوٹ ہے تو مسئلہ تقسیم کے نظام کا ہے اگر بجلی دستیاب ہے مگر مالی مشکلات یا انتظامی مسائل کی وجہ سے اس کا مؤثر استعمال نہیں ہو رہا تو پھر مسئلہ انتظام اور حکمرانی کا ہے لیکن عوام کے لیے یہ تمام تفصیلات آخرکار ایک ہی نتیجے میں تبدیل ہوتی ہیں اور وہ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی نہیں ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ حکومتیں جب عوام سے بجلی بچانے کی اپیل کرتی ہیں تو عوام کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ توانائی کی بچت ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے بجلی چوری کے خلاف کارروائی بھی ضروری ہے بل کی بروقت ادائیگی بھی ضروری ہے اور بجلی کے ضیاع کو روکنا بھی ضروری ہے لیکن ذمہ داری صرف عوام کی نہیں ہونی چاہیے ریاست اور اداروں کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے اگر عام آدمی کو کہا جائے کہ بجلی ضائع نہ کرو تو اسے یہ حق بھی ہونا چاہیے کہ وہ پوچھ سکے کہ قومی سطح پر توانائی کی منصوبہ بندی کتنی مؤثر ہے اگر صارف کو کہا جائے کہ بل وقت پر ادا کرو تو وہ یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ بل میں شامل مختلف مدات کی حقیقت کیا ہے اگر صنعت کار سے کہا جائے کہ ملک میں سرمایہ کاری کرو تو اسے یہ یقین دہانی بھی ملنی چاہیے کہ بجلی کا نظام قابل اعتماد ہوگا اگر کسان سے کہا جائے کہ زرعی پیداوار بڑھاؤ تو اسے یہ سہولت بھی ملنی چاہیے کہ بجلی کی فراہمی اور اس کی قیمت قابل برداشت ہو۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ بجلی کا بحران دراصل اعتماد کا بحران بھی بن چکا ہے کیونکہ جب عوام کو ایک ہی وقت میں مختلف اور بظاہر متضاد باتیں سنائی دیتی ہیں تو ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا لازمی ہے اگر کہا جائے کہ بجلی فاضل ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کی وجہ کیا ہے اگر کہا جائے کہ بجلی کی طلب کم ہے تو پھر صارفین کے بل اتنے زیادہ کیوں ہیں اگر کہا جائے کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت موجود ہے تو پھر بجلی گھروں کو پوری استعداد سے چلانے میں کیا رکاوٹ ہے اگر کہا جائے کہ مسئلہ ترسیلی نظام کا ہے تو پھر اس نظام کی بہتری کے لیے ہونے والی سرمایہ کاری کے نتائج کہاں ہیں اگر کہا جائے کہ مسئلہ بجلی چوری ہے تو پھر بجلی چوری روکنے کے لیے برسوں سے جاری کوششوں کے باوجود مسئلہ ختم کیوں نہیں ہوا۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ سوالات بہت ہیں مگر جواب دینے والا کوئی واضح نظام دکھائی نہیں دیتا ہر ادارہ اپنی جگہ ایک وجہ بیان کرتا ہے اور عوام آخرکار سب وجوہات کا بوجھ اپنے بل میں محسوس کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بجلی کا مسئلہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں رہا بلکہ سیاسی، معاشی اور انتظامی مسئلہ بھی بن چکا ہے بندن میاں کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ عوام کے سامنے ایک جامع اور واضح نقشہ رکھے جس میں بتایا جائے کہ ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کتنی ہے اس میں سے کتنی دستیاب ہے کتنی بجلی حقیقت میں پیدا کی جا رہی ہے کتنی بجلی ترسیلی نظام کے ذریعے منتقل کی جا سکتی ہے تقسیم کے مرحلے میں کتنے نقصانات ہوتے ہیں بجلی کی طلب مختلف موسموں میں کتنی رہتی ہے اضافی صلاحیت کی صورت حال کیا ہے۔ کیپیسٹی ادائیگیوں کی بنیاد کیا ہے بجلی کی قیمت میں مختلف مدات کا حصہ کتنا ہے اور مستقبل کے لیے حکومت کی منصوبہ بندی کیا ہے عوام کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ بجلی فاضل ہے اصل بات یہ بتانا ہے کہ فاضل بجلی کہاں ہے کس حالت میں ہے کس قیمت پر دستیاب ہے اور صارف تک کیوں نہیں پہنچ رہی کیونکہ ایک عام گھر کے لیے وہ بجلی جو اس کے پنکھے تک نہیں پہنچتی عملی طور پر موجود نہ ہونے کے برابر ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ اگر ملک کے پاس بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے تو اسے معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے ایسی صنعتیں اور کاروبار فروغ پانے چاہئیں جو بجلی استعمال کرکے روزگار پیدا کریں زرعی شعبے کو سہولت ملنی چاہیے چھوٹے کاروبار کو توانائی کی قابل اعتماد فراہمی ملنی چاہیے اور عام صارف کو مناسب قیمت پر مسلسل بجلی ملنی چاہیے لیکن اگر اضافی پیداواری صلاحیت صرف کاغذ پر موجود رہے اور اس کی قیمت عوام ادا کرتے رہیں تو یہ قومی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ قومی وسائل کا استعمال صرف آج کی ضرورت دیکھ کر نہیں بلکہ آنے والے برسوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے لیکن مستقبل کی منصوبہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ آج کی حقیقت کو نظر انداز کردیا جائے اگر کسی وقت طلب کم ہو جائے تو نظام کو اس کے مطابق ڈھالنا بھی ضروری ہے اور اگر مستقبل میں طلب بڑھنے کی توقع ہو تو اس کے لیے ترسیلی اور تقسیم کے نظام کو بھی تیار کرنا ضروری ہے صرف بجلی گھر بنا دینا کافی نہیں بجلی کو صارف تک پہنچانے کا پورا راستہ بھی مضبوط ہونا چاہیے بندن میاں کے نزدیک اصل ضرورت الزام تراشی نہیں بلکہ اصلاح کی ہے حکومتیں بدلتی رہیں وزرا بدلتے رہے افسران تبدیل ہوتے رہے مگر بجلی کے بنیادی مسائل بھی اپنی جگہ موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ افراد سے زیادہ نظام میں ہے ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جس میں فیصلے شفاف ہوں معاہدے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر ہوں منصوبہ بندی حقیقت پسندانہ ہو بجلی کی قیمتوں کے تعین میں صارف اور معیشت دونوں کے مفادات کو دیکھا جائے لائن لاسز کم کیے جائیں بجلی چوری کے خلاف مؤثر اور غیر امتیازی کارروائی ہو ترسیلی نظام کو جدید بنایا جائے تقسیم کار اداروں کی کارکردگی کا باقاعدہ احتساب ہو اور عوام کو بجلی کے نظام کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں۔بندن میاں کہتےہیں کہ عوام کو اندھیرے سے زیادہ اندھیرے کی وجہ جاننے کا حق ہے اگر کسی علاقے میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے بجلی بند ہے تو بتایا جائے اگر طلب اور رسد میں فرق ہے تو بتایا جائے اگر ترسیلی نظام میں گنجائش نہیں تو بتایا جائے اگر مالی مسئلہ ہے تو بتایا جائے اگر کسی معاہدے کی وجہ سے ادائیگی لازم ہے تو اس کی تفصیل بتائی جائے کیونکہ سچائی سے بتایا گیا مسئلہ عوام زیادہ دیر تک برداشت کر سکتے ہیں مگر مبہم جواب اور متضاد دعوے عوام کے اعتماد کو ختم کردیتے ہیں بندن میاں نے بل تہہ کیا اسے جیب میں رکھا اور پنکھے کی طرف دیکھ کر مسکرائے پھر بولے کہ بھائی عجیب ملک ہے ہمارا بجلی فاضل ہونے کی خبر بھی ملتی ہے اور لوڈشیڈنگ کا شیڈول بھی بجلی گھر موجود ہیں مگر بجلی گھر پوری صلاحیت سے نہیں چلتے بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے مگر صارف تک بجلی پہنچانے میں مسائل ہیں بجلی استعمال کرو تو بل زیادہ آتا ہے بجلی کم استعمال کرو تو بھی کئی اخراجات ختم نہیں ہوتے بجلی آئے تو قیمت کی شکایت ہے بجلی نہ آئے تو کاروبار اور زندگی کی شکایت ہےاور سب سے بڑھ کر یہ کہ سوال کرو تو جواب میں ایک نئی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔ بندن میاں کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ بجلی کے مسئلے کو نعروں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار، شفافیت اور عملی اصلاحات سے حل کیا جائے عوام کو یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ صرف بجلی فاضل ہے بلکہ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ وہ فاضل بجلی ان کے گھروں تک کیوں نہیں پہنچ رہی اگر مسئلہ ترسیل کا ہے تو اسے حل کیا جائے اگر تقسیم کا ہے تو اسے درست کیا جائے اگر مالیاتی نظام کا ہے تو اس کی اصلاح کی جائے اگر معاہدوں میں تبدیلی کی گنجائش ہے تو قومی مفاد میں بات کی جائے اور اگر بعض ادائیگیاں قانونی اور معاہداتی مجبوری ہیں تو ان کا بوجھ کم کرنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی بنائی جائے کیونکہ عوام ہمیشہ قربانی نہیں دے سکتے ایک وقت آئے گا کہ جب ان کی قوت برداشت جواب دینے لگ جائے گی۔کیونکہ بجلی کا بل صرف ایک کاغذ نہیں بلکہ گھر کے بجٹ کا بڑا حصہ ہے بجلی کی قیمت میں اضافہ اشیائے ضروریہ سے لے کر صنعت، زراعت اور روزگار تک پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ اس لیے بجلی کے مسئلے کو صرف واپڈا، تقسیم کار کمپنی یا پاور پلانٹ کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں یہ قومی معیشت اور حکمرانی کا مسئلہ ہے بندن میاں کی بات کا خلاصہ یہی تھا کہ اگر ملک میں واقعی بجلی فاضل ہے تو عوام کو اس فاضل بجلی کا فائدہ کیوں نہیں مل رہا اگر بجلی فاضل نہیں تو پھر فاضل بجلی کے دعوے کیوں کیے جاتے ہیں اگر بجلی کی پیداوار کافی ہے تو لوڈشیڈنگ کی اصل وجہ کیا ہے اگر کیپیسٹی چارجز معاہدوں کے تحت ناگزیر ہیں تو ان معاہدوں کی شرائط، مدت اور قومی مفاد کے بارے میں عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جاتا اگر ماضی کی منصوبہ بندی میں غلطی ہوئی تو مستقبل میں اس غلطی کو دہرانے سے روکنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے اور اگر موجودہ نظام میں اصلاح ممکن ہے تو اس اصلاح میں مزید تاخیر کیوں کی جا رہی ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ قومیں صرف بجلی پیدا کرکے ترقی نہیں کرتیں بلکہ بجلی کو درست منصوبہ بندی، مناسب قیمت، مؤثر ترسیل، شفاف معاہدوں اور جواب دہ حکمرانی کے ذریعے ترقی کا ذریعہ بناتی ہیں۔ ہمارے ہاں مسئلہ بجلی کی تار سے شروع ہو کر حکمرانی کے ایوانوں تک پہنچتا ہے اور پھر واپس آ کر عام آدمی کے بل پر ختم ہوجاتا ہے اس لیے اس مسئلے کا حل بھی اسی وقت نکلے گا جب فیصلوں کی ذمہ داری قبول کی جائے گی۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق لیا جائے گا موجودہ نظام کی خامیوں کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے گا اور مستقبل کی منصوبہ بندی سیاسی مصلحت کے بجائے قومی ضرورت کے مطابق کی جائے گی بندن میاں نے حقے کی آخری کش لگائی اور بولے کہ حضور بجلی فاضل ہو یا کم عوام کے لیے اصل سوال بہت سیدھا ہے ہمیں اتنی بجلی چاہیے جو ضرورت کے وقت ہمارے گھروں، دکانوں، کارخانوں، کھیتوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں تک پہنچے مناسب قیمت پر پہنچے اور ایسے نظام کے ذریعے پہنچے جس پر عوام اعتماد کرسکیں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا دعوی اپنی جگہ مگر صارف تک بجلی کی مسلسل فراہمی ہی اس دعوے کی اصل کسوٹی ہے کیونکہ بجلی گھر کی گنجائش اگر عوام کے گھر کی روشنی نہ بن سکے تو اس گنجائش کا فائدہ آخر کس کو ہے اور اگر عوام بجلی استعمال کیے بغیر بھی اس نظام کے اخراجات برداشت کر رہے ہیں تو پھر یہ سوال پوچھنا ان کا حق ہے کہ اس نظام کی منصوبہ بندی کس نے کی اس کے فیصلے کس نے کیے اور اس کی قیمت آخر کب تک عام آدمی ادا کرتا رہے گا۔ بندن میاں نے آخر میں بل جیب میں رکھا اور کہا کہ میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ لوڈشیڈنگ نہیں بلکہ وہ تضاد ہے جس میں ایک طرف بجلی فاضل ہونے کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اور دوسری طرف اندھیرے میں بیٹھے عوام سے کہا جاتا ہے کہ صبر کرو اگر بجلی واقعی فاضل ہے تو اندھیرا ختم ہونا چاہیے اگر اندھیرا ختم نہیں ہورہا تو پھر فاضل بجلی کے دعوے کی مکمل حقیقت عوام کے سامنے آنی چاہیے کیونکہ اب عوام صرف وعدہ نہیں چاہتے وہ جواب چاہتے ہیں صرف وضاحت نہیں چاہتے وہ نتیجہ چاہتے ہیں صرف بجلی پیدا کرنے کی خبر نہیں چاہتے وہ اپنے گھر کے پنکھے کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ یہ چاہتے ہیں کہ بجلی آئے تو اس کی قیمت بھی ان کی استطاعت کے مطابق ہو اور بجلی نہ آئے تو اس نظام کی ناکامی کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی سطح پر طے ہو یہی ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہے اور یہی اس سوال کا اصل جواب بھی ہے کہ اگر بجلی فاضل ہے تو پھر لوڈشیڈنگ کیوں کیونکہ جب تک پیداوار، ترسیل، تقسیم، قیمت، معاہدوں، منصوبہ بندی اور جواب دہی کے تمام پہلو ایک دوسرے کے ساتھ درست طور پر نہیں جوڑے جائیں گے تب تک فاضل بجلی کا دعوی عوام کے لیے صرف ایک خبر رہے گا روشنی نہیں بنے گا اور بندن میاں کے گھر کا پنکھا اسی طرح خاموش کھڑا رہے گا جبکہ بجلی کا بل ہر ماہ پوری باقاعدگی کے ساتھ ان کے دروازے پر آتا رہے گا۔
