اسلام آباد پمز اسپتال واقعہ: جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کے واقعے میں بچ جانے والی واحد بچی ایزل کی حالت تشویشناک

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے دلخراش واقعے میں 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد، اس حادثے میں معجزانہ طور پر بچ جانے والی واحد بچی ایزل اس وقت انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج ہے، جبکہ والدین نے پوری قوم سے بچی کی صحت کے لیے خصوصی دعا کی اپیل کی ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بچی کی والدہ آصفہ بی بی کا کہنا تھا کہ آئی سی یو میں زیر علاج ان کی بیٹی کو آگ کے نتیجے میں اٹھنے والے دھوئیں نے بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچی قبل از وقت (پری میچور) پیدا ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ پہلے ہی کافی کمزور ہے، ایزل کی پیدائش 12 اگست کو ہوئی تھی اور وہ ساڑھے چھ ماہ کی ہے جبکہ یہ ان کی پہلی اولاد ہے۔

بچی کے والد وقاص نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بچی کی طبیعت ایک دن بہتر ہوتی ہے تو اگلے ہی دن پھر بگڑ جاتی ہے۔ ہم اسے خون بھی لگوا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی صحت سنبھل نہیں رہی۔ دوسری جانب، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ وہ وارڈ کے تمام بچوں کو گزشتہ شب خود دیکھ کر آئے تھے اور جو بچے انتہائی نگہداشت والے تھے وہ ابھی بھی زیر علاج ہیں۔ ادھر غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے نرس رضیہ نورین، جنہوں نے بچی کو بچایا تھا، نے بتایا کہ انہوں نے دیگر بچوں کو بھی بچانے کی پوری کوشش کی مگر شدید دھوئیں اور آگ کے شعلوں کے باعث وہ نرسری میں دوبارہ داخل نہ ہو سکیں، اور دیگر بچوں کی اس دلخراش موت نے انہیں شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

Exit mobile version