فیصل جنجوعہ
ہم نے تعلیم کو شاید ایک عجیب مقابلے میں تبدیل کر دیا ہے۔ بچے سے سوال پوچھا جاتا ہے تو وہ جواب سمجھنے کے بجائے یاد کیا ہوا جملہ تلاش کرتا ہے۔ کتاب بند ہو تو بہت کچھ بھول جاتا ہے، سوال کا انداز بدل جائے تو اعتماد ختم ہوجاتا ہے، اور اگر امتحان میں وہی الفاظ نہ آئیں جو کتاب یا گائیڈ میں موجود ہیں تو طالب علم کو جواب غلط قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال اٹھتا ہے کیا ہم بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں یا صرف رٹا لگوانے کی تربیت دے رہے ہیں؟ نمبر آگئے، علم کہاں گیا؟ رٹ کر امتحان پاس کرنا بظاہر آسان راستہ ہے۔ طالب علم سوالات یاد کرتا ہے، جوابات یاد کرتا ہے، اہم نکات یاد کرتا ہے اور امتحان میں وہی کچھ کاغذ پر اتار دیتا ہے۔ نمبر بھی آجاتے ہیں، والدین خوش بھی ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات اسکول کی کارکردگی بھی اچھی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اصل امتحان تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جب بچے سے پوچھا جائے: "آپ نے یہ جواب کیوں دیا؟”
وہ خاموش ہوجاتا ہے۔ پوچھا جائے: "اس علم کو عملی زندگی میں کہاں استعمال کریں گے؟”
پھر خاموشی۔ یہ خاموشی ہماری تعلیم کے سب سے بڑے بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ سوال بدلتے ہی جواب کیوں بدل جاتا ہے؟ ہمارے امتحانی کلچر نے بچے کو سوال کا جواب یاد کرنے کا عادی بنا دیا ہے، مسئلہ سمجھنے کا نہیں۔ اگر سوال کتاب کے الفاظ میں آئے تو بچہ جواب دے دیتا ہے، لیکن جیسے ہی سوال کو نئے انداز میں پیش کیا جائے، اکثر وہ الجھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ ذہین نہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اسے سوچنے کے بجائے یاد کرنے کی تربیت دی ہے۔ استاد صرف جواب لکھوانے والا نہیں، استاد کا اصل کام بچے کو تیار جوابات دینا نہیں بلکہ اسے جواب تلاش کرنا سکھانا ہے۔ ایک اچھا استاد پوچھتا ہے: "تمہاری کیا رائے ہے؟” "اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟” "اگر حالات بدل جائیں تو کیا ہوگا؟” "اس مسئلے کا کوئی دوسرا حل ہوسکتا ہے؟” یہ سوالات بچے کے ذہن کو حرکت دیتے ہیں۔ یہی تعلیم ہے۔ والدین بھی اپنی ترجیحات بدلیں ہم بچوں سے زیادہ تر پوچھتے ہیں: "کتنے نمبر آئے؟” لیکن شاید ہمیں پوچھنا چاہیے: "آج تم نے کیا سمجھا؟” "آج تم نے کیا نیا سیکھا؟” "جو پڑھا ہے اسے عملی زندگی میں کہاں استعمال کرسکتے ہو؟” اگر والدین صرف نمبر مانگیں گے تو بچہ نمبر حاصل کرنے کے طریقے تلاش کرے گا۔ اگر والدین علم، سمجھ اور کردار کی بات کریں گے تو بچے میں حقیقی سیکھنے کا رجحان پیدا ہوگا۔ 1195 نمبر، مگر سوچ کتنی؟ہم ہر سال 1200 میں سے 1195، 1196 یا 1198 نمبر لینے والے بچوں کو کامیابی کی علامت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یقینا یہ محنت قابلِ تحسین ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند نمبروں سے بچے کی مکمل ذہانت، تخلیقی صلاحیت اور عملی قابلیت ناپی جاسکتی ہے؟ اگر بچہ اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کے باوجود آزادانہ سوچ، گفتگو، فیصلہ سازی اور مسئلہ حل کرنے میں مشکل محسوس کرے تو ہمیں صرف بچے کو مبارکباد دینے کے بجائے اپنے تعلیمی نظام پر بھی غور کرنا ہوگا۔رٹا وقتی کامیابی دے سکتا ہے، مستقبل نہیں رٹا امتحان میں نمبر دے سکتا ہے، مگر زندگی کے پیچیدہ مسائل کے حل نہیں دیتا۔ آنے والے دور میں وہی نوجوان کامیاب ہوگا جو نئی صورتحال کو سمجھ سکے، معلومات کا تجزیہ کرسکے، سوال اٹھا سکے، دلیل دے سکے اور نئے حل تلاش کرسکے۔ دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ ایسے وقت میں اگر ہمارا تعلیمی نظام بچوں کو صرف معلومات یاد کرواتا رہے گا تو ہم انہیں وہ کام سکھا رہے ہوں گے جو مشینیں پہلے ہی بہتر انداز میں کرسکتی ہیں۔انسان کی اصل طاقت سوچ، تخلیق، فیصلہ اور کردار ہے۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے ہمیں ایسا تعلیمی نظام چاہیے جہاں بچے کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ "صحیح جواب کیا ہے؟” بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ: "صحیح جواب تک پہنچا کیسے جاتا ہے؟”کیونکہ رٹا بچے کو جواب یاد کرواتا ہے، جبکہ تعلیم اسے سوال سمجھنا، سوچنا اور جواب تلاش کرنا سکھاتی ہے۔تعلیم یادداشت کی مشق نہیں، ذہن کی تربیت ہے۔
