از قلم فیصل جنجوعہ
میری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، لیکن تعلیمی زندگی کے مشاہدے میں ایک دلچسپ حقیقت بارہا سامنے آتی ہے کہ کلاس میں جو بچے پڑھائی کے اعتبار سے نسبتاً کمزور ہوتے ہیں، ان میں سے بہت سے طلبہ اپنے اساتذہ کے ساتھ غیر معمولی احترام، محبت اور خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ شاید کتاب کے سوال کا درست جواب نہ دے سکیں، امتحان میں نمایاں نمبر نہ لے سکیں، مگر استاد کو دیکھتے ہی سلام کرنا، خیریت پوچھنا، محبت سے ملنا اور برسوں بعد بھی استاد کو یاد رکھنا نہیں بھولتے۔ یہ مشاہدہ ہمیں ایک اہم سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا طالب علم کی کامیابی کا پیمانہ صرف اس کے نمبر اور گریڈ ہیں؟ ہم نے تعلیم کو اتنا زیادہ نمبروں سے جوڑ دیا ہے کہ بچے کی شخصیت کے دوسرے پہلو ہماری نظروں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں۔ جو بچہ 95 فیصد نمبر حاصل کرتا ہے، ہم اسے کامیاب قرار دے دیتے ہیں، جبکہ جو بچہ کم نمبر لیتا ہے، اسے اکثر کمزور، غیر سنجیدہ یا ناکام سمجھ لیا جاتا ہے۔ لیکن ممکن ہے وہی "کمزور” بچہ اخلاق، تعلق، وفاداری، احترام اور انسانی اقدار میں کہیں آگے ہو۔ ہر کم نمبر والا بچہ کمزور نہیں ہوتا تعلیمی کمزوری ہمیشہ ذہنی کمزوری نہیں ہوتی۔ ہر بچے کی سیکھنے کی رفتار، دلچسپی، صلاحیت، گھر کا ماحول اور جذباتی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ کوئی بچہ ریاضی میں کمزور ہوسکتا ہے مگر عملی کام میں بہترین؛ کوئی تحریری امتحان میں اچھا نہ ہو مگر گفتگو، کھیل، تخلیقی سرگرمی یا سماجی تعلقات میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہو۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم بچے کو اس کے ایک امتحانی نتیجے سے مکمل طور پر پرکھنے لگتے ہیں۔ ایک استاد کے لیے شاید اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں کہ اس کا سابق طالب علم برسوں بعد بھی اسے دیکھ کر احترام سے سلام کرے اور کہے: "سر! آپ کیسے ہیں؟ آپ نے مجھے پڑھایا تھا، آج بھی آپ یاد ہیں۔”یہ وہ کامیابی ہے جو کسی مارک شیٹ پر درج نہیں ہوتی۔ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا؛ وہ بچے کی شخصیت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ بعض اوقات ایک کمزور طالب علم استاد کے ایک جملے، ایک حوصلہ افزائی یا ایک اچھے برتاؤ کو پوری زندگی یاد رکھتا ہے۔ شاید وہ امتحان میں استاد کی توقعات پوری نہ کر سکا ہو، مگر استاد کے خلوص نے اس کے دل میں ایک ایسا رشتہ پیدا کردیا جو نمبروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھا۔ مگر ایک خطرناک غلط فہمی بھی ہے اس مشاہدے کو یہ سمجھ لینا بھی درست نہیں کہ جو بچہ استاد کا زیادہ احترام کرتا ہے وہ لازماً پڑھائی میں کمزور ہوگا، یا اچھے نمبر لینے والے بچے استاد کا احترام نہیں کرتے۔ ایسا بالکل نہیں۔ اصل مسئلہ ہمارے تعلیمی نظام کی وہ سوچ ہے جو علم، کردار اور اخلاق کو ایک دوسرے سے الگ کر دیتی ہے۔ ہمیں ایسے بچے چاہییں جو امتحان میں بھی کامیاب ہوں اور زندگی میں بھی۔ جو اچھے نمبر بھی حاصل کریں اور اچھے انسان بھی بنیں۔استاد بھی ذمہ دار ہے یہاں استاد کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ کمزور طالب علم کو صرف "کمزور” کہہ دینا، اس کا مذاق اڑانا یا اسے ہمیشہ دوسروں سے پیچھے رکھنا اس کے اعتماد کو تباہ کرسکتا ہے۔ ایک اچھا استاد کمزور بچے کو یہ احساس دلاتا ہے "تم کمزور نہیں، تمہیں صرف زیادہ توجہ اور مختلف طریقۂ تعلیم کی ضرورت ہے۔” بچے کو ناکامی کا لیبل نہیں، کامیابی کا راستہ چاہیے والدین کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو صرف نمبروں کے ترازو میں کیوں تولتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی یہ پوچھا کہ ہمارا بچہ اپنے استاد سے کس طرح پیش آتا ہے؟ کیا وہ بڑوں کا احترام کرتا ہے؟ کیا وہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے؟ کیا وہ سچ بولتا ہے؟ کیا وہ ذمہ داری قبول کرتا ہے؟ کیا وہ ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرتا ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو شاید ہمارے بچے میں وہ سرمایہ موجود ہے جو کسی نمبر سے زیادہ قیمتی ہے۔ اصل کامیابی کیا ہے؟ تعلیم کا مقصد صرف ذہن کو معلومات سے بھر دینا نہیں بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانا ہے۔ ہمیں ایسے نظامِ تعلیم کی ضرورت ہے جہاں نمبروں کے ساتھ کردار، ذہانت کے ساتھ اخلاق، کامیابی کے ساتھ عاجزی اور علم کے ساتھ احترام بھی اہم سمجھا جائے۔ کیونکہ زندگی کے آخری امتحان میں شاید ہم سے یہ نہ پوچھا جائے کہ آپ نے کتنے نمبر حاصل کیے تھے، لیکن یہ ضرور دیکھا جائے گا کہ آپ نے کتنے دل جیتے، کتنے لوگوں کے کام آئے اور آپ کے کردار نے معاشرے پر کیا اثر چھوڑا۔ اور شاید اسی لیے وہ کمزور طالب علم، جو امتحانی پرچے میں استاد کو متاثر نہ کرسکا، برسوں بعد استاد کو سلام کرکے ایک ایسا جواب دے جاتا ہے جو کسی مارک شیٹ پر نہیں لکھا ہوتا: "سر! آپ نے مجھے پڑھایا تھا، میں آج بھی آپ کو نہیں بھولا۔”یہی استاد کی اصل کامیابی ہے، اور شاید تعلیم کی بھی۔



