گجرات: (پریس ریلیز) شادیوال میں معروف عالمِ دین مولانا طلحہ رضوی صاحب کو فائرنگ کرکے شہید کیے جانے کے افسوسناک اور دلخراش واقعہ کی پیر عثمان افضل قادری اور دیگر علمائے کرام نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک عالمِ دین کا اس طرح بے دردی سے قتل پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اس المناک واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائیں اور واقعے میں ملوث مجرموں کو جلد گرفتار کرکے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار دینی رہنما پیر عثمان افضل قادری، سجادہ نشین نیک آباد مراڑیاں شریف نے علمائے کرام کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل سخت ترین جرم ہے، جبکہ علماء و دینی شخصیات کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ایسے عناصر ملک کے امن، مذہبی رواداری اور معاشرتی استحکام کو نقصان پہنچانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور علماء و دینی شخصیات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
پیر عثمان افضل قادری نے شہید مولانا طلحہ رضوی کے والدِ محترم، بزرگ عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا مقبول احمد رضوی، دیگر اہلِ خانہ، متعلقین، شاگردوں اور تمام عقیدت مندوں سے دلی تعزیت اور اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس غم کی گھڑی میں اہلِ خانہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید مولانا طلحہ رضوی کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
