تحریر۔محمدانوربھٹی
بندن میاں کہتے ہیں کہ کبھی کسی پنشنر کے پاس بیٹھ کر صرف اتنا سوال کر کے دیکھیے کہ بابا پنشن آتی ہے تو سب سے پہلے کیا خریدتے ہو شاید اس سوال کا جواب سننے کے بعد کچھ دیر کے لیے الفاظ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں کیونکہ کسی کے لیے پنشن کی پہلی ضرورت دوا ہوتی ہے کسی کے لیے گھر کا راشن کسی کے لیے بجلی گیس یا پانی کا بل اور کسی کے لیے وہ معمولی سی رقم جو اگلے مہینے کی کسی اچانک ضرورت کے لیے بچا کر رکھنی ہوتی ہے یہی پنشنر وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی زندگی کا بہترین حصہ اپنے ادارے اور اپنے ملک کی خدمت میں گزار دیا آج جب ان کے ہاتھ میں ملازمت کی قوت نہیں رہی جسم پہلے جیسا توانا نہیں رہا اور عمر نے قدموں کی رفتار دھیمی کر دی ہے تو ان کے پاس صرف ایک سہارا رہ گیا ہے اور وہ ہے پنشن پنشن کسی پنشنر کے لیے عیش و عشرت کا سامان نہیں بلکہ بڑھاپے کا سہارا ہے پنشن ایک چادر ہے جسے وہ اپنی ضروریات پر پھیلا کر گزارا کرتا ہے اور اس چادر کو جتنا بھی کھینچ لے اس کے پاؤں اور سر دونوں ڈھانپنا مشکل ہو جاتا ہے ایک طرف مہنگائی مسلسل بڑھتی ہے دوسری طرف دواؤں علاج راشن بجلی گیس اور روزمرہ زندگی کے اخراجات پنشنر کی محدود آمدنی کو گھیر لیتے ہیں ایسے میں اگر پنشن میں معمولی اضافہ بھی مہنگائی کی رفتار کا مقابلہ نہ کر سکے تو کاغذ پر بڑھنے والی رقم عملی زندگی میں کسی حقیقی سہولت کا سبب نہیں بنتی بلکہ پنشنر کو ہر ماہ ایک نئے حساب کتاب کے کرب سے گزرنا پڑتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ پنشنر کو صرف ایک سابق ملازم سمجھنا ناانصافی ہے وہ ریاستی نظام کا وہ خاموش ستون ہے جس نے اپنی جوانی میں نظام کو سہارا دیا تھا ریلوے کے ملازمین ہوں یا کسی دوسرے سرکاری ادارے کے کارکن انہوں نے اپنی عمر کا قیمتی حصہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں صرف کیا ان کے پسینے سے اداروں کا پہیہ چلتا رہا ان کی محنت سے دفاتر آباد رہے ان کی ذمہ داری سے سرکاری نظام رواں رہا اور آج انہی لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے فکرمند دیکھنا کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے پنشن دراصل سابق ملازم پر کوئی احسان نہیں بلکہ اس کی طویل مدت کی خدمت کے اعتراف کا ایک جائز حق ہے یہ اس محنت کا وہ حصہ ہے جو اس نے اپنی جوانی میں اپنی خدمت کے عوض حاصل کیا اور بڑھاپے میں اسی حق کے ذریعے اپنی زندگی کو سہارا دیتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ پنشنر کی سب سے بڑی دولت اس کی پنشن نہیں بلکہ اس کی عزت نفس ہے وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتا وہ اپنے بچوں پر بوجھ نہیں بننا چاہتا وہ اپنی دوا اپنے پیسوں سے خریدنا چاہتا ہے اپنے گھر کا راشن اپنی آمدنی سے لانا چاہتا ہے اپنے بجلی کے بل کی ادائیگی خود کرنا چاہتا ہے اور اگر حالات اجازت دیں تو اپنی اولاد یا اپنے پوتے پوتیوں کے لیے بھی کبھی کوئی چھوٹی سی چیز خرید کر خوش ہونا چاہتا ہے یہی خودداری اس کے لیے غرور نہیں بلکہ اس کی زندگی بھر کی محنت کا پردہ ہے پنشن اس کے لیے صرف رقم نہیں بلکہ ایک پردہ ہے جو اسے محتاجی کے احساس سے بچاتا ہے یہ وہ خاموش اعتماد ہے جس کے باعث ایک بزرگ اپنے گھر میں سر اٹھا کر بیٹھ سکتا ہے اور کسی کے سامنے اپنی ضرورت بیان کرنے پر مجبور نہیں ہوتا لیکن جب پنشن محدود ہو اور اخراجات بڑھتے جائیں تو یہی پردہ آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے اور ایک باعزت انسان اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کا محتاج ہونے لگتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ ہمیں پنشنر کے مسئلے کو صرف بجٹ کی ایک مد یا خزانے پر ایک اضافی بوجھ سمجھنے کی بجائے انسانی وقار کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا کیونکہ آج کا پنشنر کل کا وہ ملازم ہے جس نے اپنے ادارے کو وقت دیا تھا اور آج جو ملازم خدمت کر رہا ہے وہ بھی ایک دن اسی مرحلے سے گزرے گا اگر ہم آج کے پنشنر کی عزت اور حقوق کی حفاظت کریں گے تو دراصل ہم آنے والی نسل کے سرکاری ملازمین کے مستقبل کو بھی محفوظ بنائیں گے ریاست کا حسن صرف نئی سڑکوں بلند عمارتوں اور بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بزرگ شہریوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ کس قدر انصاف کرتی ہے ایک ایسی ریاست جہاں عمر بھر خدمت کرنے والا شخص بڑھاپے میں اپنی دوا اور راشن کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو جائے وہاں ترقی کے دعووں کے ساتھ انسانی ہمدردی کا سوال بھی ضرور اٹھتا ہے بندن میاں کہتے ہیں کہ پنشنر کو خیرات نہیں چاہیے اسے اپنا حق چاہیے اسے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا اسے صرف اتنا چاہیے کہ اس کی پنشن اس کی بنیادی ضروریات کا بوجھ اٹھا سکے اسے علاج کے لیے پریشان نہ ہونا پڑے اس کے گھر میں چولہا جلتا رہے اس کے بجلی کے بل کی ادائیگی ممکن ہو اور بڑھاپے کے اس مرحلے میں وہ اپنی زندگی عزت اور اطمینان کے ساتھ گزار سکے پنشن میں اضافہ اگر مہنگائی کی حقیقی شرح اور بنیادی ضروریات کے اخراجات کو سامنے رکھ کر نہ کیا جائے تو وہ اضافہ محض اعداد کا کھیل بن کر رہ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پنشن پالیسی بناتے وقت پنشنر کی حقیقی زندگی کو سامنے رکھا جائے دواؤں کی قیمت راشن کے اخراجات بجلی گیس پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کو دیکھا جائے اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ ایک بزرگ پنشنر کو باعزت زندگی گزارنے کے لیے حقیقت میں کتنی آمدنی درکار ہے بندن میاں کی گزارش صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ معاشرے کے ہر صاحب اختیار فرد سے بھی ہے کہ پنشنر کی آواز کو کمزور آواز نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ وہ آواز ہے جس کے پیچھے کئی دہائیوں کی خدمت موجود ہے پنشنر آج کمزور ضرور ہے مگر بے وقعت نہیں اس کے ہاتھ میں شاید دفتر کی فائل نہ ہو مگر اس کی زندگی میں ایک پورا عہد محفوظ ہے اس کی محنت اداروں کی تاریخ کا حصہ ہے اس لیے جب بھی پنشن کے مسئلے پر فیصلہ کیا جائے تو صرف خزانے کا حساب نہ لگایا جائے بلکہ اس بزرگ کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھا جائے جو ہر ماہ پنشن ملنے کے بعد سب سے پہلے اپنی دوا خریدنے کا سوچتا ہے یا گھر کے راشن کا حساب کرتا ہے کیونکہ پنشن ایک چادر ہے اور اس چادر کو اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ ایک عمر بھر خدمت کرنے والے انسان کا سر بھی ڈھک سکے اور اس کے پاؤں بھی پنشن بڑھاپے کا سہارا ہے پنشن عزت نفس کی حفاظت ہے پنشن خودداری کا پردہ ہے اور پنشنر ہمارے معاشرے کا وہ بزرگ طبقہ ہے جسے بوجھ نہیں بلکہ اپنی تاریخ اپنی محنت اور اپنی خدمت کا امین سمجھنا چاہیے۔


