وزیر ریلوے کے نام بندن میاں کا سوال حادثے معمول کیوں بن گئے؟

تحریر۔محمدانوربھٹی

بندن میاں آج پھر ریلوے کے ایک حادثے کی خبر سن کر دیر تک خاموش بیٹھا رہا اور پھر بولا کہ کبھی ایسا زمانہ بھی تھا جب پاکستان ریلوے میں کسی حادثے کی خبر پورے ملک میں اضطراب پیدا کر دیتی تھی لوگ بے چینی سے پوچھتے تھے کہ کون سی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی کہاں حادثہ پیش آیا کتنے مسافر زخمی ہوئے اور جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر آج صورت حال یہ ہے کہ حادثے کی خبر آتی ہے لوگ چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنے معمولات میں مصروف ہو جاتے ہیں بندن میاں نے کہا کہ شاید حادثے سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ حادثات ہمارے اجتماعی شعور میں معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں جب کسی ادارے میں حادثہ غیر معمولی واقعے کے بجائے معمول کی خبر بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ کسی ایک گاڑی کسی ایک ڈرائیور یا کسی ایک مقام تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کی بنیادوں میں کہیں نہ کہیں کمزوری پیدا ہو چکی ہے جناب وفاقی وزیر ریلوے یہ وقت محض حادثے کے بعد ایک رسمی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے اور چند دن بعد رپورٹ کو فائلوں میں دفن کر دینے کا نہیں بلکہ حادثات کے بنیادی اسباب تلاش کرنے کا ہے کیونکہ ہر حادثہ اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب چھوڑ جاتا ہے اور اگر ایک ہی نوعیت کے حادثات بار بار رونما ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ظاہری سبب تک پہنچ کر رک جاتے ہیں جبکہ اصل خرابی تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے بندن میاں کہتا ہے کہ ریلوے کو اس وقت میک اپ کی نہیں علاج کی ضرورت ہے خوبصورت عمارتیں روشن انتظار گاہیں نئی ٹائلیں شیشے اور ظاہری آرائش اپنی جگہ اہم سہی مگر مسافر کو منزل تک پہنچانے کے لیے عمارتیں نہیں بلکہ محفوظ پٹڑی مضبوط نظام جدید اشارتی انتظام مؤثر نگرانی قابل اعتماد مواصلاتی نظام اور مکمل تربیت یافتہ انسانی قوت درکار ہوتی ہے ریلوے کا اصل حسن اس کی عمارتوں میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتا ہے جو ایک مسافر ٹکٹ خریدتے وقت اپنے دل میں رکھتا ہے کہ یہ ادارہ اسے بحفاظت اس کی منزل تک پہنچائے گا مگر آج سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان ریلوے کے آپریشنل اور فنی شعبوں میں مطلوبہ تعداد کے مطابق اہلکار موجود ہیں کیا ہر ملازم کو اس کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے مناسب وقت مناسب آرام مناسب تربیت اور ضروری سہولیات میسر ہیں کیا ایک خالی آسامی صرف ایک خالی کرسی ہے یا اس کے پیچھے ایک ایسی ذمہ داری ہے جسے کسی نہ کسی دوسرے ملازم کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ جب افرادی قوت کم ہو اور کام کا بوجھ مسلسل بڑھتا جائے تو تھکن ذہنی دباؤ جلد بازی اور انسانی غلطی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور ریلوے جیسے حساس ادارے میں معمولی غفلت بھی بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ملازم نے اپنی ذمہ داری پوری کی یا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اسے ذمہ داری پوری کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل وقت افرادی قوت اور سازگار ماحول فراہم کیا گیا تھا یا نہیں جناب وفاقی وزیر ریلوے اگر آپ واقعی ریلوے کے مسائل کی جڑ تک پہنچنا چاہتے ہیں تو ایک مرتبہ ایسا اچانک دورہ ضرور کریں جس کی اطلاع پہلے سے کسی بڑے افسر کو نہ ہو اور جس میں آپ کو وہ سب کچھ دکھانے کی تیاری نہ کی گئی ہو جو عموما افسران اپنے اعلی حکام کو دکھانا پسند کرتے ہیں کسی بڑے دفتر میں بیٹھ کر بریفنگ لینے کے بجائے کسی اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر کھڑے اس ملازم سے بات کریں جو دن رات مسافروں ٹرینوں سگنلوں پٹریوں اور دفتری احکامات کے درمیان اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے کسی ڈرائیور سے پوچھیں کہ اسے عملی مشکلات کیا درپیش ہیں کسی اسٹیشن ماسٹر سے پوچھیں کہ افرادی قوت کتنی ہے اور کام کتنا ہے کسی فنی کارکن سے دریافت کریں کہ آلات اور سہولیات کی حالت کیا ہے اور کسی ایسے ملازم سے بھی بات کریں جسے یہ یقین ہو کہ اس کی بات اوپر تک نہیں پہنچتی کیونکہ اکثر اداروں کی اصل تصویر وہی شخص دکھا سکتا ہے جو روزانہ اس نظام کے اندر رہ کر اس کی کمزوریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے بندن میاں کا کہنا ہے کہ مشاورت ان لوگوں سے ہونی چاہیے جو ریلوے کے پہیے کو اپنے خون پسینے سے چلاتے ہیں نہ کہ صرف ان لوگوں سے جو دفتر کی میز پر بیٹھ کر اعداد و شمار کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں جو ملازمین ریلوے کو اپنا گھر سمجھتے ہیں جن کے بچوں کا رزق اسی ادارے سے وابستہ ہے وہ خوشامد کے لیے نہیں بلکہ اپنے ادارے کی بقا کے لیے سچ بول سکتے ہیں اور اگر ان کی بات سننے کا حوصلہ پیدا ہو جائے تو ممکن ہے بہت سی وہ حقیقتیں سامنے آ جائیں جو فائلوں میں کبھی درج نہیں ہوتیں بندن میاں کہتا ہے کہ ریلوے کو صرف کم خرچ ادارہ بنانے کی دوڑ میں ایسا ادارہ نہیں بنایا جا سکتا جس میں ملازمین کم سے کم ہوں مگر ذمہ داریاں زیادہ سے زیادہ ہوں کیونکہ ریل کا نظام کاغذ پر بنائے گئے نقشوں اور جدولوں سے نہیں بلکہ باہمی رابطے اور ذمہ داریوں کی درست تقسیم سے چلتا ہے ایک مقام پر معمولی کمی دوسرے مقام پر بڑی دشواری پیدا کر سکتی ہے اور ایک معمولی انسانی لغزش بھی ایسے حادثے میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کا نقصان صرف سرکاری خزانے کو نہیں بلکہ کسی خاندان کے مستقبل کو برداشت کرنا پڑتا ہے اس لیے ہر اصلاح کا پہلا اصول مسافر کی جان کا تحفظ ہونا چاہیے اور اس کے بعد انتظامی بچت یا ظاہری کامیابی کا نمبر آنا چاہیے جناب وزیر ریلوے یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حادثے کے بعد صرف یہ معلوم کرنا کافی نہیں کہ آخری غلطی کس شخص سے ہوئی بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس غلطی کے پیچھے کون سا انتظامی خلا موجود تھا کیا نظام نے ملازم کو درست فیصلہ کرنے کا موقع دیا تھا کیا ضروری تربیت فراہم کی گئی تھی کیا آلات درست حالت میں تھے کیا نگرانی مؤثر تھی کیا عملہ مناسب تعداد میں موجود تھا اور کیا پہلے سے سامنے آنے والی شکایات اور خطرات کو سنجیدگی سے لیا گیا تھا اگر ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر صرف ایک فرد کو ذمہ دار قرار دے دیا جائے تو ممکن ہے فائل بند ہو جائے مگر مسئلہ ختم نہیں ہوتا اور پھر کچھ عرصے بعد ایک نیا حادثہ اسی نظام کی کسی دوسری کمزوری کو بے نقاب کر دیتا ہے بندن میاں کہتا ہے کہ پاکستان ریلوے کو اس وقت ایسی اصلاحات درکار ہیں جو نمود و نمائش سے زیادہ نظام کی مضبوطی پر توجہ دیں فنی شعبوں میں مطلوبہ افرادی قوت پوری کی جائے ملازمین کی تربیت کو باقاعدہ اور مؤثر بنایا جائے تھکن اور مسلسل اضافی ڈیوٹی کے اثرات کو سنجیدگی سے لیا جائے حفاظتی نظام کی باقاعدہ جانچ ہو پٹریوں پلوں سگنلوں مواصلاتی آلات اور دیگر فنی تنصیبات کی نگرانی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہ کی جائے اور ہر سطح پر ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں ایک عام ملازم بھی خوف کے بغیر کسی خطرے کی نشاندہی کر سکے کیونکہ جس ادارے میں ملازم مسئلہ بتانے سے ڈرے وہاں مسئلہ چھپتا ہے ختم نہیں ہوتا بندن میاں آخر میں کہتا ہے کہ جناب وفاقی وزیر ریلوے آپ کے پاس شاید بہت سی رپورٹس بہت سی تجاویز اور بہت سے مشیر موجود ہوں گے مگر ان سب کے درمیان ان لوگوں کی آواز ضرور سنیں جو ریلوے کے پہیے کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ وہ آپ کو وہ حقیقت بتا سکتے ہیں جو کسی اجلاس کی میز پر نظر نہیں آتی ریلوے کو میک اپ نہیں علاج چاہیے عمارتیں نہیں مضبوط نظام چاہیے خوشامد نہیں سچ چاہیے اور سب سے بڑھ کر ایسا مکمل باصلاحیت تربیت یافتہ اور ذمہ دار آپریشنل و فنی عملہ چاہیے جو مسافر کی جان کو اپنی پہلی ترجیح سمجھ کر کام کرے اگر آج ہم نے حادثات کو معمول سمجھنے کی روش بدل دی اور ہر حادثے کو ایک انتباہ سمجھ کر اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی تو ریلوے دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکتی ہے لیکن اگر ہم صرف حادثے کے بعد چند بیانات چند وعدے اور چند رسمی تحقیقات تک محدود رہے تو خوبصورت عمارتوں کے درمیان حادثات کی خبریں اسی طرح آتی رہیں گی اور شاید ایک دن سب سے بڑا خوف یہ نہیں ہوگا کہ حادثہ کیوں ہوا بلکہ یہ ہوگا کہ حادثہ تو ہو گیا مگر کسی کے دل میں اس کی خبر سن کر پریشانی بھی پیدا نہیں ہوئی بندن میاں کی زبان میں یہ صرف ریلوے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی احساس کا مسئلہ ہے کیونکہ جس معاشرے میں انسانی جان کے ضیاع پر چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زندگی معمول پر آ جائے وہاں اداروں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ احساس ذمہ داری کی بھی تجدید ضروری ہوتی ہے جناب وفاقی وزیر ریلوے وقت کا تقاضا ہے کہ حادثات کے بعد صرف فائلیں نہ کھولی جائیں بلکہ نظام کی بند گرہیں کھولی جائیں صرف ذمہ دار تلاش نہ کیے جائیں بلکہ ذمہ داری کا پورا نظام درست کیا جائے صرف عمارتوں کی خوب صورتی نہ دیکھی جائے بلکہ ان پٹریوں کارکنوں آلات اور حفاظتی انتظامات کو دیکھا جائے جن پر مسافروں کی زندگیاں سفر کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کر ان ملازمین کی آواز سنی جائے جو روزانہ ریلوے کو رواں رکھتے ہیں کیونکہ اگر آپ نے ایک بار حقیقت میں ریلوے چلانے والوں کی بات سن لی تو حادثات کے اسباب بھی سامنے آئیں گے اور ان کے تدارک کی راہیں بھی نکلیں گی اللہ تعالیٰ آپ کو سچ سننے سچ سمجھنے اور سچ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان ریلوے کو ایسا محفوظ مضبوط اور قابل اعتماد ادارہ بنائے جس پر ہر مسافر اطمینان کے ساتھ سفر کر سکے۔

Exit mobile version