تحریر۔محمدانوربھٹی
بندن میاں آج پھر ایک اجڑے ہوئے خستہ حال ریلوے اسٹیشن کے ایک پرانے اور ٹوٹے ہوئے بنچ پر خاموش بیٹھا تھا سامنے ریلوے کی پٹریاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں مگر ان پٹریوں میں وہ زندگی دکھائی نہیں دیتی تھی جس کی وجہ سے کبھی ریلوے کو ملک کی شہ رگ کہا جاتا تھا اسٹیشن کی عمارت پر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا پلستر ماضی کی شان و شوکت کی داستان سنا رہا تھا دیواروں پر گرد جمی ہوئی تھی چھت کے بعض حصے اپنی شکستگی کا اعلان کر رہے تھے پلیٹ فارم پر چند مسافر بے یقینی کے عالم میں ٹرین کے انتظار میں بیٹھے تھے کوئی بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا کوئی موبائل پر کسی سے رابطہ کرکے پوچھ رہا تھا کہ ٹرین آخر کہاں پہنچی اور ایک بوڑھا شخص اپنے ہاتھ میں ٹکٹ پکڑے خاموشی سے ریل کی پٹری کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے اسے بھی معلوم نہ ہو کہ اس سفر کی کوئی منزل ہے بھی یا نہیں بندن میاں نے ایک گہری سانس لی اور آہستہ سے بولا کہ اگر کسی کو ریلوے کی اصل حالت دیکھنی ہے تو اسے بڑے دفاتر کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر سرکاری بیانات سننے کی ضرورت نہیں اسے صرف کسی ایسے اسٹیشن پر آکر بیٹھ جانا چاہیے جہاں مسافر گھنٹوں سے ٹرین کے منتظر ہوں جہاں بوڑھے مسافر فرش پر بیٹھے ہوں جہاں خواتین بچوں کے ساتھ پریشان کھڑی ہوں جہاں مزدور اپنی روزی کے وقت سے محروم ہو رہے ہوں جہاں طالب علم اپنی کلاسوں سے دیر سے پہنچ رہے ہوں اور جہاں کسی بیمار شخص کے لیے سات سات گھنٹے کی تاخیر محض تاخیر نہیں بلکہ ایک اذیت بن چکی ہو بندن میاں کہتا تھا کہ ریلوے کی بدحالی کا اندازہ کسی فائل میں موجود اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس مسافر کے چہرے سے لگایا جاسکتا ہے جو ٹکٹ خرید کر بھی اپنی منزل پر بروقت پہنچنے کی ضمانت سے محروم ہے ریلوے کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اس کی عمارتوں پر رنگ کم ہے یا اسٹیشنوں کے بورڈ نئے نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ نظام جس پر ایک عظیم قومی ادارہ کھڑا ہوتا ہے وہ اندر سے کمزور ہوچکا ہے ٹریک کی حالت سوال بن چکی ہے سگنلنگ کا نظام کئی مقامات پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کوچنگ اسٹاک اپنی عمر پوری کرچکا ہے انجنوں کی دستیابی اور قابل اعتماد کارکردگی ایک مستقل مسئلہ ہے ورکشاپس اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہیں تکنیکی عملے کی کمی موجود ہے اور جہاں عملہ موجود ہے وہاں اسے مناسب سہولیات تربیت اور وسائل فراہم کرنا بھی ضروری ہے ایسے میں صرف عمارتوں کو رنگ کر کے یا چند منصوبوں کا افتتاح کرکے یہ تاثر دینا کہ ریلوے ترقی کی راہ پر گامزن ہے حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے بندن میاں نے پلیٹ فارم پر بیٹھے ایک ضعیف العمر پنشنر کو دیکھا تو اس کے دل میں ایک اور سوال پیدا ہوا کہ اس شخص کا قصور کیا ہے جس نے اپنی جوانی ریلوے کی خدمت میں گزار دی اور اب بڑھاپے میں اپنے ہی حق کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ریلوے کے وہ ملازمین جنہوں نے شدید گرمی سردی بارش اور دھوپ میں پٹریوں کی حفاظت کی جنہوں نے راتوں کو جاگ کر ٹرینوں کو منزل تک پہنچایا جنہوں نے ورکشاپوں میں اپنے ہاتھوں سے انجنوں اور کوچز کی مرمت کی جنہوں نے سگنل رومز میں بیٹھ کر ٹرینوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنایا اور جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ اس ادارے کے نام کردیا آج ان میں سے بہت سے لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے جائز واجبات کے منتظر ہیں کوئی اپنی کمیوٹیشن کا انتظار کر رہا ہے کوئی گریجویٹی کے لیے فکرمند ہے کوئی پنشن کے معاملات میں الجھا ہوا ہے اور کوئی ایسے حق کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہا ہے جو اس نے خیرات میں نہیں بلکہ اپنی عمر بھر کی خدمت کے بدلے کمایا ہے بندن میاں نے سوچا کہ جس شخص نے چالیس سال تک ریاست کے ایک ادارے کو اپنا وقت دیا ہو کیا ریٹائرمنٹ کے بعد اسے اپنے ہی پیسوں کے لیے درخواستیں لکھنی چاہئیں کیا ضعیف العمر پنشنر کو اپنی بیماریوں اور بڑھاپے کے باوجود دفتر کے دروازوں پر کھڑا ہونا چاہیے کیا ایک ریٹائر ملازم جس کے ہاتھ اب کام کے قابل نہیں رہے اسے اپنے حق کے لیے سفارش تلاش کرنی چاہیے یہ سوال صرف ریلوے کے نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری کے سوال ہیں اسی طرح ریلوے کے ان خاندانوں کو کون بھول سکتا ہے جو برسوں سے اپنے جائز مالی حقوق کے منتظر ہیں جن میں میرج گرانٹ اور فیئر ویل گرانٹ جیسے معاملات بھی شامل ہیں ایک ریٹائر ملازم کے گھر میں جب بیٹی کی شادی ہوتی ہے تو وہ یہ امید رکھتا ہے کہ جس ادارے نے اس کی زندگی بھر کی خدمت سے فائدہ اٹھایا وہ مشکل وقت میں اس کے خاندان کا سہارا بنے گا مگر جب وہ سہارا وقت پر نہ ملے تو کاغذی اعلان ایک غریب خاندان کے لیے محض ایک بے معنی تسلی بن کر رہ جاتا ہے اسی طرح بیواؤں کی مشکلات کو بھی صرف ایک فائل کا معاملہ سمجھنا بڑی ناانصافی ہے ایک ریلوے ملازم کی وفات کے بعد اس کی بیوہ کے لیے دنیا پہلے ہی مشکل ہوچکی ہوتی ہے گھر کا کفیل رخصت ہوچکا ہوتا ہے بچوں کی تعلیم گھر کا خرچ علاج معالجہ اور روزمرہ زندگی کے مسائل اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ایسے میں اگر بینویلنٹ فنڈ یا دیگر جائز مالی معاونت بھی بروقت نہ ملے تو یہ انتظار ایک خاندان کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن جاتا ہے بندن میاں نے کہا کہ جس نظام میں ایک بیوہ کو اپنے حق کے لیے بار بار درخواست دینی پڑے جس نظام میں یتیم بچے اپنے والد کی خدمت کا صلہ نہیں بلکہ اپنے والد کا حق مانگتے پھریں جس نظام میں ایک ضعیف پنشنر اپنے بڑھاپے کی ضرورتوں کے لیے برسوں انتظار کرے وہاں صرف کارکردگی کے دعوے کافی نہیں ہوتے وہاں نظام کی اصلاح ضروری ہوتی ہے ریلوے کی بدحالی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مسافر ٹرینوں کی تاخیر نے عوام کا اعتماد متاثر کیا ہے ٹرین کا سفر اس وقت آسان اور باوقار سمجھا جاتا ہے جب مسافر کو معلوم ہو کہ وہ کب روانہ ہوگا اور کب اپنی منزل پر پہنچے گا لیکن جب ایک ٹرین گھنٹوں تاخیر کا شکار ہو تو اس کے اثرات صرف پلیٹ فارم تک محدود نہیں رہتے کسی ملازم کی حاضری متاثر ہوتی ہے کسی طالب علم کا امتحان یا کلاس متاثر ہوتی ہے کسی مریض کا علاج تاخیر کا شکار ہوتا ہے کسی مسافر کی دوسری سواری چھوٹ جاتی ہے کسی خاندان کا پورا پروگرام خراب ہوجاتا ہے اور کسی مزدور کی ایک دن کی اجرت ضائع ہوجاتی ہے اس لیے ٹرین کی تاخیر کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنا درست نہیں یہ لاکھوں لوگوں کی زندگی کے معمولات پر اثر انداز ہونے والا مسئلہ ہے بندن میاں نے پٹریوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ ریلوے کی اصل بنیاد یہی پٹری ہے اگر پٹری محفوظ نہیں اگر ٹریک کی بروقت مرمت نہیں اگر سگنلنگ کا نظام قابل اعتماد نہیں اگر پلوں اور دیگر بنیادی تنصیبات کی مسلسل نگرانی نہیں تو پھر کتنی ہی خوبصورت عمارتیں بنا دی جائیں ریلوے محفوظ اور مضبوط نہیں ہوسکتی اسی طرح اگر کوچز پرانے ہیں ان میں مناسب سہولیات نہیں اگر مسافروں کو بنیادی ضرورت کی چیزیں میسر نہیں اگر جنریٹر وین اور دیگر ضروری انتظامات ہر جگہ دستیاب نہیں تو صرف ٹکٹ فروخت کرنے سے مسافر کا اعتماد واپس نہیں آسکتا ریلوے کو اپنے کوچنگ اسٹاک کی مرحلہ وار تجدید کرنا ہوگی انجنوں کی دستیابی اور مرمت کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا ورکشاپس کو دوبارہ فعال اور جدید بنانا ہوگا تکنیکی عملے کی کمی کو فوری طور پر دور کرنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھنا ہوگا کہ ریلوے کوئی ایسا ادارہ نہیں جسے وقتی فیصلوں اور نمائشی اقدامات کے ذریعے چلایا جاسکے ریلوے ایک مسلسل نظام ہے جس کے لیے طویل المدت پالیسی مستقل سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ انتظام ضروری ہے بندن میاں نے پھر اپنی نظریں اسٹیشن کی بوسیدہ عمارت پر ڈالیں اور کہا کہ عمارتیں ضرور سنواریں مگر پہلے اس نظام کو سنواریں جو ان عمارتوں سے نکل کر ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جاتا ہے اسٹیشن پر رنگ و روغن اچھی چیز ہے مگر اگر ٹرین وقت پر نہ چلے تو رنگین دیوار مسافر کی پریشانی کم نہیں کرسکتی افتتاحی تختی لگانا اچھی بات ہے مگر اگر ٹریک محفوظ نہ ہو تو تختی کسی حادثے کو نہیں روک سکتی اجلاس کرنا ضروری ہے مگر اگر اجلاس کے فیصلے عملی شکل اختیار نہ کریں تو فائلوں میں جمع ہونے والے کاغذ ریلوے کو نہیں بچا سکتے اصل ضرورت یہ ہے کہ ریلوے کے مسائل کو جڑ سے دیکھا جائے اور ہر مسئلے کے لیے ذمہ دار ادارہ اور واضح مدت مقرر کی جائے ٹریک کی حالت کا جامع سروے ہو خطرناک حصوں کی فوری مرمت ہو سگنلنگ کو جدید بنایا جائے کوچز اور انجنوں کی مرحلہ وار تبدیلی کا باقاعدہ منصوبہ بنایا جائے ورکشاپس میں جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جائے تکنیکی آسامیوں کو خالی نہ رکھا جائے اور ریلوے کے ملازمین کو صرف ایک افرادی قوت نہیں بلکہ ادارے کا بنیادی اثاثہ سمجھا جائے کیونکہ ایک تھکا ہوا پریشان اور اپنے مستقبل سے غیر یقینی کا شکار ملازم کسی بھی ادارے کو پوری توانائی نہیں دے سکتا ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ہوگا ریٹائرڈ ملازمین کی کمیوٹیشن گریجویٹی اور دیگر واجبات کے لیے الگ اور شفاف نظام بنانا ہوگا بیواؤں اور یتیم بچوں کے مالی حقوق کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانا ہوگا بینویلنٹ فنڈ کے معاملات کو ایسا مربوط نظام دینا ہوگا جس میں کسی مستحق خاندان کو برسوں انتظار نہ کرنا پڑے میرج گرانٹ اور فیئر ویل گرانٹ جیسے معاملات میں بھی واضح ٹائم لائن مقرر ہونی چاہیے اور اگر کسی درخواست میں تاخیر ہو تو اس کی وجہ بھی ریکارڈ پر ہونی چاہیے تاکہ کسی حق دار کو دفتر دفتر بھٹکنے کی ضرورت نہ رہے بندن میاں نے کہا کہ ریلوے کی بحالی صرف مسافر ٹرینوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ گڈز ٹریفک کو بھی قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے کیونکہ مال بردار ٹرینیں صنعت تجارت زراعت اور قومی معیشت کے لیے بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں اگر سامان سڑکوں کے بجائے زیادہ مقدار میں ریل کے ذریعے منتقل ہو تو سڑکوں پر دباؤ کم ہوگا ایندھن کی کھپت کم ہوگی بھاری ٹریفک کا بوجھ کم ہوگا اور نقل و حمل کے اخراجات میں بھی بہتری آسکتی ہے ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ایک ایسا قومی ادارہ جو کبھی ملک کی معاشی سرگرمیوں کا اہم ستون تھا دوبارہ مضبوط ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے صرف گڈز ٹرینیں چلانے کا اعلان کافی نہیں بلکہ تاجروں صنعت کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے قابل اعتماد سروس مناسب کرایوں بہتر ٹریکنگ بروقت ترسیل اور مؤثر انتظام ضروری ہے بندن میاں کو یقین تھا کہ ریلوے کا بحران ایک دن میں پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی ایک حکم نامے سے ختم ہوسکتا ہے یہ کئی برسوں کی کمزور منصوبہ بندی غیر مستقل پالیسی سیاسی مداخلت انتظامی کمزوری تکنیکی صلاحیت میں کمی بروقت مرمت کے فقدان اور ترجیحات کے عدم توازن کا نتیجہ ہے اس لیے اس کا حل بھی عارضی نہیں بلکہ مستقل ہونا چاہیے حکومتوں کے بدلنے سے ریلوے کی پالیسی نہیں بدلنی چاہیے ریلوے کے لیے ایک ایسی قومی اور طویل المدت پالیسی ہونی چاہیے جس میں واضح ہو کہ اگلے دس پندرہ اور بیس برس میں ادارے کو کہاں لے جانا ہے اس پالیسی میں حکومتوں کے ساتھ ساتھ ماہرین ریلوے کے تجربہ کار افسران تکنیکی ماہرین معاشی ماہرین مسافر نمائندوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھایا جائے کیونکہ جس ادارے کے مسائل کو سمجھنے والے لوگ خود اس نظام سے وابستہ رہے ہوں ان کی رائے کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں بندن میاں نے اسٹیشن پر بیٹھے ایک بوڑھے پنشنر سے پوچھا بابا آپ کو ریلوے سے کیا چاہیے بوڑھے نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا مجھے اب ریلوے سے کچھ نیا نہیں چاہیے بس وہ حق چاہیے جو میں نے اپنی جوانی میں کمایا تھا بندن میاں نے پاس کھڑی ایک بیوہ سے پوچھا آپ کی خواہش کیا ہے اس نے کہا میری خواہش صرف یہ ہے کہ میرے بچوں کے حق کے لیے مجھے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے پھر اس نے ایک یتیم بچے کی طرف دیکھا اور کہا یہ بچہ اپنے باپ کی جگہ نہیں مانگتا یہ صرف اپنے باپ کی خدمت کا حق مانگتا ہے بندن میاں کے پاس اس کے بعد کہنے کو بہت کچھ تھا مگر الفاظ جیسے اس کے گلے میں اٹک گئے اسے محسوس ہوا کہ ریلوے کی اصل بدحالی صرف خستہ پٹریوں اور پرانی بوگیوں میں نہیں بلکہ ان چہروں پر بھی لکھی ہوئی ہے جو اس ادارے سے امید وابستہ کیے بیٹھے ہیں ایک طرف مسافر وقت پر منزل تک پہنچنے کی امید رکھتا ہے دوسری طرف ملازم اپنی تنخواہ اور مستقبل کی فکر میں ہے تیسری طرف ریٹائرڈ ملازم اپنی کمیوٹیشن اور واجبات کا منتظر ہے چوتھی طرف بیوہ اپنے بچوں کے اخراجات کے لیے مالی مدد کی منتظر ہے اور پانچویں طرف یتیم بچے اپنے مرحوم والد کے حق کے منتظر ہیں اگر کسی قومی ادارے کی حالت یہ ہو جائے تو پھر اصلاح کا آغاز صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے ہونا چاہیے ریلوے کو سب سے پہلے اپنے موجودہ اور سابق ملازمین کا اعتماد بحال کرنا ہوگا کیونکہ جس ادارے نے اپنے کارکن کا حق بروقت ادا نہیں کیا وہ عوام سے اعتماد کیسے مانگ سکتا ہے اس کے بعد مسافر کا اعتماد بحال کرنا ہوگا اور یہ اعتماد صرف اسی وقت واپس آئے گا جب ٹرینیں محفوظ ہوں گی وقت کی پابندی بہتر ہوگی کوچز صاف اور آرام دہ ہوں گے بنیادی سہولیات میسر ہوں گی شکایات کا ازالہ ہوگا اور مسافر کو یہ احساس ہوگا کہ اس نے ٹکٹ خرید کر صرف ایک نشست نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد قومی سروس حاصل کی ہے بندن میاں نے شام ڈھلتے دیکھا تو اسٹیشن پر خاموشی مزید گہری ہوگئی وہ ٹوٹے ہوئے بنچ سے اٹھا اور جاتے جاتے ایک مرتبہ پھر پٹریوں کی طرف دیکھ کر بولا کہ ریلوے کو بچانے کا راستہ موجود ہے شرط صرف یہ ہے کہ ہم مسئلے کو چھپانے کے بجائے تسلیم کریں اور علاج ظاہری نہیں بلکہ بنیادی کریں ریلوے کے لیے ایک جامع بحالی منصوبہ بنایا جائے جس میں ٹریک اور پلوں کی مکمل مرمت سگنلنگ کی جدید کاری کوچز اور انجنوں کی مرحلہ وار تبدیلی ورکشاپس کی بحالی تکنیکی عملے کی بھرتی اور تربیت ملازمین کی بروقت تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی پنشنرز کی کمیوٹیشن اور گریجویٹی کے فوری تصفیے بیواؤں اور یتیم بچوں کے مالی حقوق کی ترجیحی ادائیگی بینویلنٹ فنڈ کے شفاف اور تیز نظام میرج گرانٹ اور فیئر ویل گرانٹ کی بروقت ادائیگی مسافر سہولیات میں بنیادی بہتری اور گڈز ٹریفک کی بحالی کو ایک ہی قومی منصوبے کا حصہ بنایا جائے اس کے ساتھ ساتھ ریلوے کے ہر بڑے منصوبے کے لیے واضح اہداف مدت اور ذمہ دار افسر مقرر ہو اور کارکردگی کا باقاعدہ عوامی احتساب کیا جائے ریلوے کو سیاسی مداخلت اور وقتی ترجیحات سے نکال کر پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلایا جائے اور ایسی مستقل پالیسی بنائی جائے جو حکومت بدلنے کے ساتھ نہ بدلے بندن میاں کا کہنا تھا کہ ریلوے کی بحالی کا مطلب صرف نئی عمارتیں نئی تختیاں یا نئی افتتاحی تقریبات نہیں بلکہ ایسی ٹرین ہے جو وقت پر چلے محفوظ سفر کرے صاف ستھری ہو باوقار ہو اور مسافر کو منزل تک پہنچنے کا اعتماد دے ایسی پٹری ہے جس پر سفر کرتے ہوئے کسی ماں کو اپنے بچے کی سلامتی کی فکر نہ ہو ایسا نظام ہے جس میں ملازم کو اپنی تنخواہ کے لیے انتظار نہ کرنا پڑے ایسا انتظام ہے جس میں ریٹائرڈ پنشنر اپنی زندگی بھر کی خدمت کے بعد اپنے حق کے لیے دفاتر کے چکر نہ لگائے ایسی ریاستی ذمہ داری ہے جس میں کسی بیوہ کو اپنے شوہر کی خدمت کے بدلے ملنے والی مالی معاونت کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے اور کسی یتیم بچے کا حق فائلوں کے نیچے دب کر نہ رہ جائے یہی وہ مقام ہے جہاں سے ریلوے کی حقیقی بحالی شروع ہوسکتی ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک اجڑے ہوئے اسٹیشن کو دوبارہ زندگی دے سکتا ہے بندن میاں نے آخر میں اپنی پرانی چادر کندھے پر رکھی اور خستہ حال اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے کہا کہ ریلوے کی اصل خوبصورتی اس کی عمارتوں کے رنگ میں نہیں اس کی پٹریوں پر دوڑتی ہوئی محفوظ بروقت باوقار اور قابل اعتماد ٹرین میں ہے اور اگر ہم واقعی ریلوے کو بچانا چاہتے ہیں تو پہلے اس کے مسافر کی آواز سننا ہوگی پھر اس کے ملازم کا دکھ سمجھنا ہوگا پھر اس کے ریٹائرڈ پنشنر کے انتظار کو ختم کرنا ہوگا پھر اس کی بیوہ اور یتیم بچوں کے حق کو عزت کے ساتھ دینا ہوگا اور آخر میں اس پورے نظام کو ایسی مستقل پالیسی اور مضبوط انتظامی بنیاد فراہم کرنا ہوگی جس میں وعدوں کے بجائے نتائج دکھائی دیں کیونکہ ادارے نعروں سے نہیں نظام سے چلتے ہیں اور نظام اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب انصاف بروقت ہو فیصلے میرٹ پر ہوں ذمہ داری واضح ہو احتساب حقیقی ہو اور خدمت کرنے والے انسان کو اس کا حق اس وقت ملے جب اسے اس حق کی سب سے زیادہ ضرورت ہو ریلوے کی بحالی ممکن ہے مگر اس کے لیے ریلوے کی عمارتوں کو نہیں ریلوے کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔


