مورخہ 14 اگست 2026 کو 79ویں جشنِ آزادی پاکستان کے پرمسرت موقع پر جامع مسجد یوسف، پنجاب کالج کنجاہ میں ایک شاندار اور فکری اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر علامہ محمد امیر القادری نے "جشنِ آزادی: ماضی کی قربانیاں اور مستقبل کی ذمہ داریاں” کے موضوع پر تفصیلی اور جامع خطاب فرمایا۔ انہوں نے حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک لازوال نظریے کی فتح تھی، اور تحریکِ پاکستان کے دوران ہماری ماؤں، بہنوں اور بزرگوں نے جو عظیم قربانیاں دیں وہ تاریخِ عزیمت کا ایک ہمیشہ روشن رہنے والا باب ہیں۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آج ہمیں اس بات کا گہرا جائزہ لینا ہو گا کہ بحیثیتِ قوم ہم نے اس ملکِ عزیز کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو بالخصوص مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اور خوشحالی کا سارا انحصار معیاری تعلیم، دیانتداری، محنت اور قومی اتحاد پر ہے، جبکہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کے تین زریں اصول "ایمان، اتحاد اور تنظیم” ہی وہ واحد راستہ ہیں جو ہمیں موجودہ ملکی و اجتماعی چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ باہر نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے بہترین انداز میں آراستہ کر کے قوم کا مفید شہری بنانا ہو گا تاکہ وہ قائد اور اقبال کی بلند امنگوں کے سچے ترجمان بن کر ملک و ملت کی خدمت کر سکیں۔
اس فکری اجتماع میں شعبہ تعلیم، صحت، وکالت، تجارت، صنعت، میڈیا اور سول سوسائٹی سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے بھرپور شرکت کی۔ اساتذہ، طلبہ، جید علماء کرام، معزز تاجر برادری اور عام شہریوں کی کثیر تعداد کی موجودگی نے تقریب کے وقار کو مزید بڑھا دیا۔
تقریب کے اختتام پر وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام، معاشی ترقی اور پوری قوم کی یکجہتی کے لیے خصوصی رقت آمیز دعائیں مانگی گئیں۔ اس کے بعد تمام شرکاء کے لیے پنجاب کالج کنجاہ کے ڈائریکٹر اور دیگر انتظامیہ کی طرف سے پرتکلف ضیافت کا شاندار اہتمام کیا گیا، جس کی جملہ نگرانی ادارے کے پرنسپل پروفیسر دلشاد حسین نے خود کی۔
