تحریر: فیصل جنجوعہ
ہر سال 14 اگست آتا ہے، سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں، گلیاں جھنڈیوں سے سجتی ہیں، ملی نغمے فضا میں گونجتے ہیں اور ہم پوری قوت سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں۔ مگر ایک لمحے کے لیے جشن سے باہر نکل کر اپنے اردگرد دیکھیں تو ایک تلخ سوال سامنے آتا ہے: کیا صرف سرحدوں کا آزاد ہونا ہی آزادی ہے؟ پاکستان کو قائم ہوئے79 برس گزر چکے ہیں۔ نسلیں بدل گئیں، حکومتیں آئیں اور گئیں، نظام بدلے، نعرے بدلے، مگر عام آدمی کے بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، مہنگائی، امن اور باعزت زندگی—یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جن کے بغیر آزادی کا تصور ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ آزادی کس کے لیے؟ اگر ایک غریب شہری اپنے بچے کی فیس ادا کرنے کے لیے پریشان ہو، اگر ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لے کر روزگار کی تلاش میں دربدر ہو، اگر ایک عام آدمی انصاف کے حصول کے لیے برسوں انتظار کرے، تو ہمیں اپنے جشنِ آزادی کے ساتھ ساتھ اپنے نظام کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی، لیکن کیا ہم ذمہ داری کی آزادی بھی حاصل کر سکے؟ ہم ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو معمول سمجھتے ہیں، ٹیکس چوری کو ہوشیاری، سفارش کو حق، رشوت کو مجبوری اور میرٹ کو اکثر ایک مشکل راستہ سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ ملک ترقی کیوں نہیں کر رہا۔ ملک صرف حکمرانوں سے نہیں بنتا؛ قوم کے اجتماعی کردار سے بنتا ہے۔ اصل مسئلہ نظام سے زیادہ رویوں کا ہے ہم ہر خرابی کی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ سیاست دانوں کو برا کہتے ہیں، اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، مگر اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ایک استاد اگر اپنا فرض پوری دیانت سے ادا نہ کرے، ایک والدین اگر بچے کی تربیت سے لاتعلق ہو جائیں، ایک تاجر ملاوٹ کرے، ایک شہری قانون توڑے اور پھر سب مل کر نظام کو ناکام کہیں تو سوال یہ ہے کہ نظام کو بہتر کون کرے گا؟ قومیں صرف اچھے قوانین سے نہیں بنتیں، اچھے کردار سے بنتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور آزاد پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو محض نمبروں، ڈگریوں اور ملازمت کے حصول تک محدود نہیں کرنا ہوگا۔ ایسی تعلیم چاہیے جو بچے کو سوال کرنا، دلیل دینا، اختلاف برداشت کرنا، قانون کا احترام کرنا، محنت کرنا اور مشکلات کا مقابلہ کرنا سکھائے۔ ہمیں ایسی نسل نہیں چاہیے جو صرف یہ جانتی ہو کہ پاکستان کب آزاد ہوا؛ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو یہ بھی سمجھتی ہو کہ آزادی کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔جشن ضرور منائیں، مگر سوال بھی کریں 14 اگست جشن کا دن ہے، اسے جشن ہی رہنا چاہیے۔ بچوں کو پرچم، قومی ترانہ، ملی نغمے اور قومی تاریخ سے جوڑنا ضروری ہے۔ لیکن جشن کے ساتھ شعور بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں سے کہنا ہوگا. پاکستان صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ پرچم صرف ہاتھ میں اٹھانے کی چیز نہیں، کردار میں اتارنے کی علامت ہے۔ قومی ترانہ صرف گانے کے لیے نہیں، اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ہے۔ اور آزادی صرف نعرہ نہیں، ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔79 سال بعد ایک سوال… آج ہمیں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے: ہم نے پاکستان سے کیا لیا اور پاکستان کو کیا دیا؟ ہم نے اپنے بچوں کے لیے کیسا معاشرہ چھوڑا؟ کیا ہم نے انہیں بہتر تعلیم دی؟ کیا ہم نے انہیں قانون کا احترام سکھایا؟ کیا ہم نے انہیں ایمانداری کا راستہ دکھایا؟ کیا ہم نے انہیں یہ سمجھایا کہ کامیابی صرف دولت اور عہدے کا نام نہیں بلکہ کردار، دیانت اور خدمت بھی کامیابی ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب کمزور ہیں تو پھر صرف جشن منانا کافی نہیں۔ پاکستان کو صرف آزادی کے نعرے نہیں، آزاد سوچ، مضبوط کردار، انصاف، علم اور ذمہ دار شہری درکار ہیں۔ 79 برس بعد شاید سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم آزادی کا جشن منانے کے ساتھ اپنے کردار کا احتساب بھی کریں۔ کیونکہ ملک تب مضبوط ہوتا ہے جب اس کے شہری صرف اپنے حقوق نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریاں بھی پہچانتے ہیں۔ آزادی ہمیں ملی تھی؛ اب اسے اپنے کردار سے ثابت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
