حکومت نے عالمی مارکیٹ کے اثرات اور مالیاتی خسارے کا جواز پیش کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 5 روپے 77 پیسے فی لیٹر مہنگا ہو کر 331 روپے 20 پیسے جبکہ ڈیزل 6 روپے 47 پیسے اضافے کے ساتھ 390 روپے 42 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کا تیل بھی 6 روپے 88 پیسے فی لیٹر مہنگا کر کے 296 روپے 63 پیسے کا کر دیا گیا ہے۔
اس اچانک اور بڑے اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید تیزی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مہنگائی کے اس طوفان سے پہلے ہی پریشان عوام کا کہنا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کے بغیر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والا یہ اضافہ عام آدمی کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا رہا ہے، اور غریب طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے بھی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
