ستمبر 10, 2026

رٹے سے AI تک، تعلیم کا بدلتا سفر

تحریر: فیصل جنجوعہ

ایک زمانہ تھا جب والدین اسکول کا انتخاب کرتے ہوئے صرف ایک سوال پوچھتے تھے: "اس اسکول کا رزلٹ کیسا ہے؟” اگر میٹرک میں زیادہ پوزیشنیں، زیادہ A+ گریڈ اور زیادہ نمبر ہوں تو اسکول کامیاب تصور کیا جاتا تھا۔ اسکول بھی اپنی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار امتحانی نتائج کو بناتے تھے۔ لیکن اب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید علوم نے تعلیم کے روایتی تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ آج کا طالب علم صرف کتاب، کاپی اور امتحانی پرچے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہے جہاں معلومات چند سیکنڈ میں دستیاب ہیں، AI سوالات کے جواب دے سکتی ہے، تحریر تیار کر سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، ڈیٹا کا تجزیہ کر سکتی ہے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ نہیں رہا کہ بچے کو معلومات کتنی یاد ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ وہ معلومات کو استعمال کرنا، پرکھنا، سوال اٹھانا اور نئی چیز تخلیق کرنا کتنا جانتا ہے؟ تعلیم کا پرانا پیمانہ کب بدلے گا؟ ہمارے ہاں آج بھی بہت سے تعلیمی اداروں میں کامیابی کا سب سے بڑا پیمانہ امتحانی نتیجہ ہے۔ زیادہ نمبر لینے والے بچے اسکول کی کامیابی کی علامت قرار پاتے ہیں، جبکہ تعلیمی معیار کو اکثر چند فیصد نمبروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔


یقیناً اچھا رزلٹ اہم ہے۔ ایک طالب علم کا محنت کرکے اچھے نمبر حاصل کرنا قابلِ تحسین ہے۔ لیکن اگر پورا تعلیمی نظام صرف نمبر حاصل کرنے کی دوڑ بن جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم بچے کو تعلیم دے رہے ہیں یا صرف امتحان پاس کرنے کی تربیت؟ اگر ایک بچہ 95 فیصد نمبر حاصل کر لیتا ہے لیکن مسئلہ حل نہیں کر سکتا، اپنی رائے دلیل کے ساتھ پیش نہیں کر سکتا، نئی صورتحال میں فیصلہ نہیں کر سکتا، تحقیق نہیں کر سکتا اور ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے استعمال کرنا نہیں جانتا تو کیا اسے مستقبل کے لیے مکمل طور پر تیار کہا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر والدین، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ AI اسکول کا فیشن نہیں، تعلیمی ضرورت بن رہی ہےمصنوعی ذہانت کو صرف ایک جدید لفظ یا اسکول کی تشہیری مہم کا حصہ بنانا کافی نہیں۔ اگر کسی اسکول کے بروشر پر AI کا ذکر موجود ہو لیکن کلاس روم میں اب بھی بچے صرف رٹا لگا رہے ہوں، استاد صرف کتاب پڑھا رہا ہو اور طلبہ کو سوال کرنے، تحقیق کرنے اور تجربہ کرنے کے مواقع نہ مل رہے ہوں تو پھر AI کا نام صرف ایک خوبصورت نعرہ رہ جائے گا۔AI کا اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب اسے تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ مثلاً طلبہ کسی موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے مختلف معلومات کا تقابلی جائزہ لے سکتے ہیں، AI کی مدد سے مشکل تصورات کو مختلف انداز میں سمجھ سکتے ہیں، زبان سیکھنے کی مشق کر سکتے ہیں، تخلیقی منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں اور اپنے خیالات کو بہتر انداز میں پیش کرنا سیکھ سکتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی اصول بھی ضروری ہے: AI بچے کی سوچ کی جگہ نہیں لے سکتی؛ اسے بچے کی سوچ کو بہتر بنانے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ سب سے بڑا خطرہ بھی یہی ہے اگر ہم AI کو بغیر تربیت کے بچوں کے ہاتھ میں دے دیں تو ایک نیا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بچہ خود سوچنے کے بجائے ہر سوال کا جواب AI سے حاصل کرے، مضمون خود لکھنے کے بجائے AI سے لکھوائے، مسئلہ خود حل کرنے کے بجائے تیار حل حاصل کرے اور تحقیق کے بجائے صرف کاپی پیسٹ پر انحصار کرے تو ٹیکنالوجی تعلیم کو آسان تو بنا دے گی، لیکن سوچنے کی صلاحیت کمزور بھی کر سکتی ہے۔


اس لیے مستقبل کے اسکول کا کام صرف AI استعمال کرنا نہیں ہوگا بلکہ بچوں کو AI کے ساتھ سوچنا اور AI کے بغیر بھی سوچنا سکھانا ہوگا۔استاد کا کردار مزید اہم ہوگا کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت آنے کے بعد استاد کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ AI معلومات دے سکتی ہے، لیکن استاد بچے کے رویے کو سمجھتا ہے AI جواب دے سکتی ہے، لیکن استاد سوال کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ AI مضمون لکھ سکتی ہے، لیکن استاد کردار بناتا ہے۔ AI غلطی کی نشاندہی کر سکتی ہے، لیکن استاد بچے کو غلطی سے سیکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ مستقبل کا بہترین اسکول وہ نہیں ہوگا جہاں AI استاد کی جگہ لے لے، بلکہ وہ ہوگا جہاں تربیت یافتہ استاد AI کو اپنی تدریسی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کرے۔والدین کے سوالات بھی بدلنے چاہئیں اب والدین کو بھی اسکول کا انتخاب صرف عمارت، یونیفارم، فیس یا سالانہ رزلٹ دیکھ کر نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں یہ سوال بھی پوچھنے چاہئیں: کیا اسکول میں جدید ٹیکنالوجی موجود ہے؟ کیا بچوں کو AI کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دی جاتی ہے؟ کیا طلبہ کو تحقیق اور تجربات کے مواقع ملتے ہیں؟ کیا بچے سوال کر سکتے ہیں؟ کیا کلاس روم میں تنقیدی اور تخلیقی سوچ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے؟ کیا اساتذہ جدید تدریسی طریقوں سے واقف ہیں؟ کیا اسکول بچوں کو صرف امتحان کے لیے تیار کر رہا ہے یا زندگی کے لیے بھی؟ یہ سوالات مستقبل میں اسکول کے انتخاب میں اہم کردار ادا کریں گے۔ صرف AI کا نام کافی نہیں یہاں اسکول انتظامیہ کے لیے بھی ایک تنقیدی سوال ہے کیا ہم واقعی جدید تعلیم چاہتے ہیں یا صرف جدید تعلیم کا اشتہار؟ مہنگے کمپیوٹر، بڑی اسکرینیں، سمارٹ بورڈز اور AI کا نام کسی اسکول کو جدید نہیں بناتے۔ جدید اسکول وہ ہے جہاں تعلیمی سوچ جدید ہو۔ جہاں استاد بچے کو خاموش کرانے کے بجائے سوال کرنے کی اجازت دے۔ رٹا لگانے کے بجائے سمجھنے پر زور ہو۔ جہاں بچے کو صرف ملازمت کا امیدوار نہیں بلکہ ذمہ دار، باکردار اور تخلیقی انسان بنانے کی کوشش کی جائے۔


یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اچھا رزلٹ غیر ضروری ہو گیا ہے۔ تعلیمی نتائج آج بھی اہم ہیں اور رہیں گے۔ لیکن اب صرف اچھا رزلٹ کافی نہیں ہوگا۔ ایک کامیاب تعلیمی ادارے کو تعلیمی نتائج اور مستقبل کی مہارتوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ بچے کو ریاضی بھی آنی چاہیے اور مسئلہ حل کرنا بھی۔ انگریزی بھی آنی چاہیے اور مؤثر گفتگو بھی۔ سائنس بھی سمجھنی چاہیے اور تجربہ بھی کرنا چاہیے۔کمپیوٹر بھی استعمال کرنا چاہیے اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلو بھی سمجھنے چاہئیں۔ AI بھی استعمال کرنی چاہیے اور اس کے جواب پر تنقیدی نظر بھی رکھنی چاہیے۔ آنے والے کل کا والدین آج کل اسکول کا انتخاب کریں گے تعلیم کا مقابلہ اب صرف اسکولوں کے درمیان نہیں رہا۔ اصل مقابلہ مستقبل کی ضروریات اور موجودہ تعلیمی نظام کے درمیان ہے۔
جو اسکول وقت کی تبدیلی کو سمجھیں گے، اپنے اساتذہ کو تربیت دیں گے، جدید ٹیکنالوجی کو ذمہ داری سے اپنائیں گے اور بچوں میں تحقیق، تخلیق، تنقیدی سوچ، کردار اور عملی مہارت پیدا کریں گے، وہ والدین کے اعتماد کے زیادہ مستحق ہوں گے۔ اور جو ادارے صرف ماضی کے رزلٹ، پوزیشنوں اور نمبروں پر فخر کرتے ہوئے مستقبل کی تبدیلی سے آنکھیں بند کر لیں گے، ممکن ہے ایک دن والدین ان سے یہ سوال کریں: "ہمارے بچے نے ماضی کے امتحان میں کتنے نمبر لیے، یہ تو آپ نے بتا دیا؛ لیکن آپ نے اسے مستقبل کے امتحان کے لیے کتنا تیار کیا؟” یہی وہ سوال ہے جو آنے والے برسوں میں تعلیم کی سمت متعین کرے گا۔ کیونکہ مستقبل صرف زیادہ نمبر لینے والوں کا نہیں ہوگا؛ مستقبل ان کا ہوگا جو سیکھ سکتے ہیں، سوچ سکتے ہیں، سوال کر سکتے ہیں، ٹیکنالوجی کو سمجھ سکتے ہیں اور بدلتی دنیا کے ساتھ خود کو بدل سکتے ہیں۔اب اچھا رزلٹ ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ اب والدین کو نمبر نہیں، مستقبل بھی چاہیے۔