از قلم : فیصل جنجوعہ
جب اسکول بند ہوں گے تو قومی جذبہ کہاں پروان چڑھے گا؟
ہر سال 14 اگست آتا ہے، قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، ملی نغمے گونجتے ہیں اور محبتِ وطن کے خوبصورت پیغامات سوشل میڈیا پر گردش کرتے ہیں۔ مگر اس سال ایک سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں جنم لے رہا ہے: جب اسکول بند ہیں تو یومِ آزادی کی تقریبات آخر کہاں اور کیسے منعقد ہوں گی؟ آخر وہ بچے، جو اس ملک کا مستقبل ہیں، اگر اپنے تعلیمی اداروں میں موجود ہی نہیں ہوں گے تو انہیں آزادی کی تاریخ، قربانیوں اور قومی ذمہ داری کا شعور کون دے گا؟ کیا صرف ایک سرکاری تعطیل منانا ہی یومِ آزادی کا مقصد رہ گیا ہے؟ تعلیمی ادارے صرف پڑھائی کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی، حب الوطنی اور قومی شعور کی نرسریاں بھی ہوتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں بچے قومی ترانہ پڑھتے ہیں، تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں، ملی نغمے گاتے ہیں، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور پاکستان کی آزادی کی جدوجہد سے واقف ہوتے ہیں۔
اگر اسکول بند ہوں تو یہ تمام سرگرمیاں محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قومیں صرف تعطیلات سے نہیں بلکہ تعلیم اور تربیت سے بنتی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل پاکستان سے محبت کرے، اس کے آئین، اس کے پرچم اور اس کے نظریے کا احترام کرے، تو ہمیں انہیں اس ماحول سے بھی جوڑنا ہوگا جہاں یہ جذبہ عملی صورت اختیار کرتا ہے۔ ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ تعلیمی حکام سے مؤدبانہ مطالبہ کرتے ہیں کہ یومِ آزادی کے موقع پر تعلیمی ادارے کھولے جائیں، کم از کم چند گھنٹوں کے لیے ہی سہی، تاکہ بچے اپنے اسکولوں میں جمع ہو کر بھرپور انداز میں جشنِ آزادی منا سکیں۔
اس موقع پر پرچم کشائی، قومی ترانہ، تقریری مقابلے، ملی نغمے، شہداءِ پاکستان کو خراجِ عقیدت، شجرکاری اور قومی یکجہتی پر مبنی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ بچوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔ یومِ آزادی صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک ذمہ داری اور ایک عہد کا نام ہے۔ اگر ہم اس دن کو صرف چھٹی تک محدود کر دیں گے تو نئی نسل آزادی کی روح سے دور ہوتی چلی جائے گی۔
آئیے اس سال ایک نئی روایت قائم کریں۔ اسکول آباد ہوں، بچے قومی پرچم کے سائے تلے جمع ہوں، پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجیں، اور انہیں بتایا جائے کہ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں بلکہ اس کی حفاظت، ترقی اور خدمت کا عہد بھی ہے۔ یومِ آزادی کو صرف تعطیل نہیں، قومی تربیت کا دن بنائیے۔



