دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران افغانستان پر واضح کیا ہے کہ کابل حکومت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے یا کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ جب تک افغان حکومت ٹی ٹی پی سے اپنے تعلقات ختم نہیں کرتی، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے ساتھ ہی ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے لیے عالمی انسانی اور اقتصادی امداد کی مخالفت نہیں کرتا،تاہم امداد فراہم کرنے والے ممالک کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یہ امداد کسی بھی صورت ٹی ٹی پی یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے استعمال میں نہ آئے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون اور بحری سلامتی کی صریح خلاف ورزی ہیں، البتہ اس مقام پر جہازوں کو عسکری حفاظتی حصار فراہم کرنے کے حوالے سے ان کے پاس کوئی معلومات نہیں۔ پاک ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت اور تجارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور سرحد کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کسی بھی بین الاقوامی پابندی کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا۔
