از قلم : فیصل جنجوعہ
کبھی ہمارے گھروں میں بچوں کی معصوم شرارتیں زندگی کی رونق ہوا کرتی تھیں۔ وہ آٹے سے جھنڈیاں بناتے، چھوٹے چھوٹے گھر تعمیر کرتے، مٹی میں کھیلتے اور اپنی ننھی سی دنیا میں خوش رہتے تھے۔ اس وقت والدین کی ڈانٹ بھی محبت سے بھرپور ہوتی تھی کہ "بیٹا! آٹا ضائع نہ کرو۔” آج وہی بچے جوان ہو چکے ہیں۔ مگر زندگی نے ان کے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر ذمہ داریوں کا بوجھ تھما دیا ہے۔ اب وہ آٹے سے جھنڈیاں نہیں بناتے بلکہ دن رات اسی آٹے کا انتظام کرنے کے لیے پسینہ بہاتے ہیں۔ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کی آخری ساعت تک ان کی جدوجہد صرف اس لیے ہوتی ہے کہ گھر کا چولہا ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔ یہ صرف ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی حقیقت کا آئینہ ہے۔
یہاں لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب روزگار سے محروم ہیں۔ کئی افراد دو دو نوکریاں کرتے ہیں، پھر بھی مہینے کے آخر میں اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ ہر نئی صبح کے ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، مگر آمدنی وہیں کی وہیں رہتی ہے۔ سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اپنے خوابوں پر نہیں بلکہ بلوں پر گفتگو کرتی ہے۔ ان کی سوچ نئی ایجادات، تحقیق اور کاروبار سے زیادہ مہنگائی، کرایہ، بجلی، گیس اور آٹے کی قیمتوں کے گرد گھومتی ہے۔ جب نوجوان کی تمام توانائی صرف بنیادی ضروریات پوری کرنے میں صرف ہو جائے تو وہ قوم کو نئی سمت کیسے دے گا؟ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا معیار صرف بلند عمارتیں، موٹرویز یا بڑے منصوبے نہیں ہوتے۔
اصل ترقی وہ ہوتی ہے جہاں ایک محنت کش شخص عزت کے ساتھ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کر سکے، جہاں تعلیم یافتہ نوجوان کو روزگار کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے، اور جہاں والدین اپنے بچوں کے خوابوں کو غربت کی نذر ہوتے نہ دیکھیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ معاشی دباؤ نے خاندانی رشتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ والدین بچوں کو وقت نہیں دے پاتے، نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، اور خوشیاں آہستہ آہستہ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ، جہاں ہر شخص صرف زندہ رہنے کی فکر میں ہو، وہاں تخلیقی صلاحیتیں، ادب، تحقیق اور اختراع بھی کمزور پڑ جاتی ہیں۔ پاکستان کو صرف معاشی اصلاحات نہیں بلکہ ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے
جو عام آدمی کو امید دیں۔ روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، مہارتوں کی تربیت، صنعتوں کی ترقی اور شفاف نظام ہی وہ راستہ ہیں جن سے نوجوانوں کو دوبارہ خواب دیکھنے کا حوصلہ مل سکتا ہے۔ آخر میں ایک سوال ہر صاحبِ اختیار کے لیے چھوڑنا چاہتا ہوں: کیا ہم آنے والی نسل کو بھی یہی ورثہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ بچپن میں آٹے سے کھیلیں اور جوانی میں اسی آٹے کے لیے اپنی زندگی کھپا دیں قوموں کی ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب نوجوانوں کی توانائی صرف روٹی کمانے میں نہیں بلکہ مستقبل بنانے میں صرف ہو۔ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو صرف بقا کی جنگ میں الجھائے رکھا، تو تاریخ ہمیں ترقی یافتہ قوم کے طور پر نہیں بلکہ ضائع شدہ صلاحیتوں والی قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔
