اسکرین کے قیدی بچے ، خاموشی سے برباد ہوتا بچپن

تحریر: فیصل جنجوعہ

کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ آج ہمارے بچے میدانوں میں نہیں بلکہ موبائل کی اسکرینوں میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ والدین انہیں جدید دور کا تقاضا سمجھ کر موبائل فون تو دے رہے ہیں، مگر شاید یہ بھول رہے ہیں کہ ہر سہولت، اگر اعتدال سے باہر ہو جائے، تو نعمت نہیں بلکہ آزمائش بن جاتی ہے۔ آج ایک عام منظر یہ ہے کہ چند سال کا بچہ کھانا بھی موبائل دیکھ کر کھاتا ہے، خاموش بھی موبائل سے ہوتا ہے، اور فارغ وقت بھی اسی اسکرین کے ساتھ گزارتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس کی دنیا چند انچ کی اسکرین تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ سب سے زیادہ نقصان تعلیم کو پہنچ رہا ہے۔ موبائل گیمز، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز بچوں کی توجہ کو اس قدر منتشر کر دیتے ہیں کہ کتاب کھول کر چند منٹ بھی پڑھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

مطالعے کی عادت ختم ہو رہی ہے، تخلیقی سوچ کمزور ہو رہی ہے اور امتحانات میں نمبر گر رہے ہیں۔ صرف رٹنے والا ذہن تو بن سکتا ہے، مگر سوچنے والا ذہن نہیں۔ صحت کے شعبے میں صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی آنکھوں، دماغ، نیند اور جسمانی نشوونما پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ گردن اور کمر کا درد، موٹاپا، جسمانی کمزوری اور ذہنی تھکن اب صرف بڑوں کے نہیں بلکہ بچوں کے مسائل بھی بنتے جا رہے ہیں۔ اس سے بھی بڑا نقصان بچوں کی شخصیت کو پہنچ رہا ہے۔ وہ حقیقی دوستوں سے دور اور ورچوئل دنیا کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ گھر میں سب ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں مگر ہر شخص اپنی الگ اسکرین میں گم ہوتا ہے۔

گفتگو، احترام، برداشت، ٹیم ورک اور معاشرتی آداب آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہے ہیں۔ ایک ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو ہزاروں آن لائن دوست رکھتی ہے مگر حقیقی زندگی میں چند اچھے تعلقات بھی قائم نہیں کر پاتی۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ موبائل مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، اس کا بے قابو استعمال مسئلہ ہے۔ اگر موبائل تعلیم، تحقیق اور مثبت سیکھنے کے لیے استعمال ہو تو یہ ایک بہترین ذریعہ ہے، لیکن اگر یہ صرف تفریح اور وقت ضائع کرنے کا وسیلہ بن جائے تو یہی آلہ مستقبل کو دیمک کی طرح کھا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے اہم کردار والدین کا ہے۔

بچوں کے لیے موبائل استعمال کرنے کا وقت مقرر کیا جائے، سونے سے پہلے موبائل بند کرایا جائے، کھانے کی میز پر موبائل کے استعمال سے گریز کیا جائے، اور بچوں کو کھیل، کتاب بینی، ورزش، باغبانی، ڈرائنگ اور خاندانی گفتگو جیسی مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر والدین کو خود بھی موبائل کے استعمال میں اعتدال کی مثال قائم کرنا ہوگی، کیونکہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر آج ہم نے اپنے بچوں کو اسکرین کی قید سے آزاد نہ کیا تو کل ہمارے پاس ڈگریاں تو ہوں گی، مگر کردار، تخلیقی صلاحیت، برداشت اور سماجی شعور سے محروم نوجوان ہوں گے۔بچپن کو موبائل نہیں، محبت، تربیت، کتاب، کھیل اور والدین کا وقت چاہیے۔ اگر آج بچپن بچا لیا تو کل مستقبل خود بخود سنور جائے گا۔

Exit mobile version