کھاریاں(قاری نصیر احمد کلیار ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق کاشتکاروں کو معیاری زرعی مداخل کی فراہمی اور جعلی کھاد کے کاروبار کے خاتمے کے لیے محکمہ زراعت (توسیع) گجرات نے جعلی ڈی اے پی کھاد کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) گجرات ڈویژن ڈاکٹر عرفان اللہ وڑائچ کی نگرانی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) و اسسٹنٹ کنٹرولر فرٹیلائزر محمد اطہر لطیف نے حسن رائس ملز، موضع موہلہ، ضلع گجرات پر چھاپہ مارا، جہاں معروف برانڈ کی بوریوں میں مشتبہ ڈی اے پی کھاد برآمد ہوئی۔ کارروائی کے دوران کھاد کے نمونے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوائے گئے جبکہ موقع پر موجود 1,140 بوریاں (50 کلوگرام فی بوری)، جن کی مالیت تقریباً 1 کروڑ 82 لاکھ 40 ہزار روپے تھی، سیل کر دی گئیں۔ لیبارٹری رپورٹ میں کھاد کو جعلی قرار دیے جانے کے بعد پنجاب فرٹیلائزر کنٹرول ایکٹ 2025 کے تحت محمد عظمت سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مجموعی طور پر 1,270 بوریاں جعلی ڈی اے پی کھاد، جن کی مالیت تقریباً 2 کروڑ 3 لاکھ 20 ہزار روپے بنتی ہے، اس غیر قانونی کاروبار کا حصہ تھیں، جن میں سے بعد ازاں 1,244 بوریاں جعلی کھاد بطور مالِ مقدمہ تھانہ صدر گجرات منتقل کر دی گئیں جبکہ حسن رائس ملز کے انچارج غلام حسین کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ محکمہ زراعت (توسیع) گجرات نے واضح کیا ہے کہ جعلی کھاد، زرعی ادویات اور دیگر غیر معیاری زرعی مداخل کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ اور زرعی پیداوار میں بہتری یقینی بنائی جا سکے




