اگست 6, 2026

کچھ بہتری کے آثار ۔۔پاکستان ٹیسٹ ٹیم

نذرقلم: قاضی محمد فضل عثمان

بابر اعظم کو ایک بار پھر کپتانی کا تاج پہنا کر جو جوا کھیلا گیا ، کسی حد تک کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف موجودہ سیریز کے دوران کچھ مثبت باتوں کا ظہور ہوا ہے ۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں موجودہ حالات میں تقریبا ایک ہی کیلیبر کی نظر آتی ہیں ، لیکن باؤلنگ میں ویسٹ انڈیز ہم سے بہت بہتر ہے ، ان کے پاس فاسٹ باولرز کی ایک بیٹری ہے جو مسلسل 140 پلس کی رفتار سے باؤلنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، جس کامظاہرہ انہوں نے اولین ٹیسٹ میں کیا بھی ، جہاں بنابنایا میچ پاکستان کی خراب بیٹنگ اور ویسٹ انڈیز کی بہترین باؤلنگ کے باعث ہار دیا گیا ۔ ایک دو مواقع ایسے آئے جب پاکستان گیم میں تھا ، لیکن دوسری اننگز کے بیٹنگ کے بدترین مظاہرے نے شکست کی گہری کھائی میں دھکیل دیا۔پہلے میچ میں پاکستان کی باؤلنگ بھی ایک دو مواقع کے علاوہ بہتر رہی لیکن ناتجربہ کاری اور ایکپریس سپیڈ کی کمی کے باعث وہ بڑا فرق نہیں ڈال سکے ۔


جیسے ہی پاکستان نے دوسرے میچ کے لئے پلینگ الیون کا اعلان کیا ، تو سب لوگوں نے محمد عباس کے اخراج کو محسوس کیا ،لیکن بحیثیت مجموعی ٹیم نے بہتر کارکردگی دکھا کر میچ جیت لیا اور سیریز برابر کرکے تقریبا بیس سال سےویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کی شکست سے بچنے کے ریکارڈ کو قائم رکھا ۔
دوسرے میچ میں پاکستان سپنر زنے اپنا جادو جگا دیا ، ساجد کے زندگی سے بھرپور ایکشن اور سیلیبریشن نے ٹیم کےمورال کو بلند کیا ، پھر جب بیٹنگ کی باری آئی تو پہلی بار بابر اور عبد اللہ شفیق نے بیٹنگ کرکے بتایا کہ بیٹنگ کرنا اسے کہتے ہیں ،ان دونوں کی بیٹنگ کو دیکھنا ایسے ہے جیسے خوبصورت شاعری پڑھنا ، ایان بشپ کو دوران تبصرہ کہنا پڑا کہ عبد اللہ کی بیٹنگ دیکھنا فیض ، اقبال اور پروین شاکر کی شاعری پڑھنے جیسا ہے ۔

بابر اور عبد اللہ کی شرکت نے میچ بنایا لیکن مڈل آڈر میں سلمان اور رضوان کی کارکردگی توقعات کے خلاف رہی جس کی وجہ سے پاکستان بڑی لیڈ سے محروم رہا ، لیکن یہ کمی سپین باؤلنگ سے پوری کردی گئی ، 74 کا مختصر ٹارگٹ حاصل کرنے کے لئے دو وکٹوں کی قربانی دینا دینا پڑی ۔ لیکن اچھا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے ۔ اس فتح کو انگلینڈ کے دورے لئے ایک بہتر مثال بنایا جاسکتا ہے ، امام صاحب اور رضوان سے معافی مانگ لی جائے ، خرم اور محمد علی کو باری باری کھلایا جائے ، سپنر ز دونوں رکھے جائیں حسب ضرورت ، محمد عباس کو مستقل رکھا جائے ، عبداللہ کے ساتھ آذان اوپن کرے شان ون ڈاؤن ، پھر بابر ، سلمان ، غازی غوری ، پھر باولرز ۔یہ کمبینیشن آزماجائے اور بے خوف کرکٹ کھیلی جائے۔

انشاءاللہ کامیابی مقدر ہوگی ۔جشن آزادی کے مہینے میں قوم کے چہرے پر خوشیاں لانے کا شکریہ۔پاکستان زندہ باد