کالمکار: جاوید صدیقی
اکثر و بیشتر لوگ قرض بھی لیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بڑی شرائط کیساتھ قرض ملے گا لیکن وہ قرض لینے سے قبل واپسی اور منافع کا بہترین راستہ ضرور تلاش کرکے بیٹھتے ہیں تاکہ اس ہاتھ قرض لیں دوسرے ہاتھ قرض واپس بھی کردیں گویا مقصد بھی پورا ھوجائے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو تاکہ معاشرے میں نام و وقار اور عزت میں حرف نہ آسکے عام طور پر جب کاروباری حضرات اپنے کاروبار میں شدید مندی و نقصان دیکھتے ہیں تو وہ اُسے بہتر کرنے کیلئے کوئی بھی سپلیمنٹری بزنس ساتھ ملا لیتے ہیں تاکہ دوسری جانب سے تھوڑا بہت منافع سے سہارا مل سکے اسی طرح دنیا میں ممالک بھی قرض لیتے ہیں لیکن جو ایماندار دیانتدار سچے مخلص سربراہ مملکت ھوتے ہیں وہ ملکی قرض لینے سے قبل اپنی پارلیمینٹ کے تمام اراکین سے پارلیمینٹ میں مشاورت کرتے ہیں جن میں حزب الاختلاف کو لازمی شامل رکھتے ہیں پھر عوام کو آگاہ کیا جاتا ھے کہ حکومت وقت فلاں فلاں امور کیلئے فلاں قرض لینا چاہتی ھے آپ عوام کے نمائندگان نے منظوری یا منع جو بھی صورتحال ھے اس سے عوام کو مطلع کردیا جاتا ھے۔ اچھی ریاست اور حکومت عام طور پر اپنے وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کیلئے قرض حاصل کرتی ھے جن میں ملکی قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کیلئے، ملکی اجناس کی پیداوار کو بڑھانے کیلئے، ملکی عسکری پیداوار (ٹینک میزائل جنگی جہاز آبدوز وغیرہ وغیرہ) اور ملکی تعلیمی و تحقیقی میدان میں ہونہار طالبعلوں کی مالی معاونت پہنچانے کیلئے ، ملکی شاراہیں برج موٹرویز سبک رفتار یعنی بلٹ ٹرینیں اسکے علاوہ ریاست و حکومت سورج پانی ہوا ان قدرتی نعمت سے توانائی کے ذریعے وسائل بڑھاتی ھے، اس کے ساتھ ساتھ معدنیات کے حصول جن میں پیٹرول و گیس کو تلاش کرکے ملکی و بین الاقوامی سطح پر استعمال کرنا یہ سب ایک ایماندار و دیانتدار اور سچے حکمران کی بہترین فلاحی ریاست کے بنیادی اصولوں میں شامل ہوتے ہیں۔ ھم نے جب سے آنکھ کھولی ھے اکثر و بیشتر کرپٹ، بددیانت، لالچی، خودغرض، بدکردار، جھوٹے، منافق، دھوکہ باز، عیار ہی نظر آئے ہیں جنھوں نے اپنی نااہلی کے سبب ملکی بوجھ عوام پر ہی لادے رکھا یہ آپ سب معزز قارئین حکومتی ویب سائیڈ پر بآسانی دیکھ سکتے ہیں کہ کس کس کے دور میں قرض لیا کتنا لیا اور کہاں کہاں لگا زمینی حقائق آپکو سچ اور جھوٹ کا پتا دیں گے۔ جس قدر مقروض یہ ملک ھے اگر یہاں کے سربران مملکت عقلمند، سمجھدار، دانا، عاقل، اور احساس رکھنے والے ہوتے تو سب سے پہلے وزیراعظم، صدر، آرمی سربراہ و چیف جسٹس عوام کیساتھ کھڑے ہوجاتے اور وہی قول دھراتے جو ہمارے خلفائے راشدین نے اپنے اپنے ادوار میں دھرائے اور عمل کیا تھا انھوں نے منصب سنبھالتے ہی کہا تھا کہ ھم بحیثیت امیرالمومنین اپنا مشاہراہ ایک مزدور کے برابر رکھیں گے اور یہی تسلسل نیچے تک افسران و ملازمین کا رہیگا مجھے یقین ھے کہ جب اشرفیہ، ایلیٹ جماعت، صاحب دولت چاہے سرکاری ہوں یا غیر سرکاری صرف پانچ سال کیلئے اس فارمولہ کو اپنالیں جو ہمیں حضرت عبداللہ بن عثمان ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر بن خطاب ؓ ، حضرت عثمان بن عفان ذوالنورالعین ؓ ، حضرت علی ابن طالب حیدرِ کرار ؑ ، نے طرزِ ریاست باحضور ﷺ کی سنت عملاً ادا کرکے دکھایا اور حضرت امام حسن ؑ ، حضرت امام حسین ؑ نے طآپ ﷺ کا طرزِ معاشرہ قائم رکھا یہی سبب ھے کہ آج تک روئے زمین پر ہر مذہب، لا مذہب کی حکومتیں و ریاستیں دین محمدی ﷺ کے اصولِ ریاست کی ہی پیروی کرتی چلی آرہی ہیں اور خوشحالی و ترقی انکے قدم چوم رہی ھے لیکن افسوس اسلامی جمہوری ریاست ہونے کے باوجود نجانے ہمارے مقتدر لوگ دین ﷺ سے گھبراتے ہیں اور دین کے اصولوں کو اپناتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں یہ بہت بڑے دھوکہ میں ہیں اصل کامیابی تو انہی اصولوں پر مروج ھے۔ حکومت کے اسی رویئے کے سبب آج ہر ایک جو استطاعت رکھتا ھے پاکستان سے باہر بہتر زندگی کیلئے جارھا ھے، تعلیم ہو یا روزگار یا پھر تجارت سب کے سب باہر نکلنے کے سفر میں رواں دواں ہیں کیونکہ کوئی ایک پاکستان میں بہتر نظام، بہتر انتظام، بہتر عدل و انصاف، اہلیت و قابلیت و ذہانیت کو زندہ نہیں دیکھ رھا۔ اس بدترین نظام میں کس کیلئے یہ قرض پے قرض لئے جارہے ہیں۔ اپنی ضد، نفرت، غرور و تکبر میں صاحبِ اختیار صاحبِ اقتدار بڑھ چکے ہیں کہ انہیں ریاست و ملک کو انتہائی کمزور ہونے کا احساس تک نہیں ہورہا ہر ایک اپنی ذات کا غلام اور مقید بنا ھوا ھے کسی کو بھی نہ ملک کی پرواہ نہ عوام کا احساس۔ بددل، مردہ دل، نفس حیوانیت و شیطانیت کے طابع ہوچکے ہیں نام مسلمانوں کا کام شیطانوں کا پھر وہی سوال آخر قرض کس مقصد کیلئے لیا جارھا ھے؟؟ عوام تو روز بروز بدحال ہورہی ہے۔ عمران خان نے عوامی سطح پر فلاحی امور کیلئے نہ اپنی ماں نہ باپ کا نام استعمال کیا اس نے اللہ و رسول ﷺ کا دیا ھوا نام احساس ٹرسٹ رکھا اسی طرح جنرل مشرف نے احتساب کے ادارے کو آزاد سیاست سے پاک رکھا، اینٹی کرپشن تو کرپشن کو روکنے کیلئے بنایا تھا یہی ادارہ سب سے زیادہ کرپٹ ھے یہ ادارہ اب کرپشن کی معاونت اور رشوت کیلر دودھ کی طرح سفید پاک کررھا ھے اس ادارے کو فی الفور ختم کردیا جائے کیونکہ یہ قومی خذانے پر بوجھ ھے اسی طرح اب احتساب کو سیاسی بناکر انتہائی مفلوج کمزور کردیا ھے اسے بھی ختم کردیا جائے گویا ہر وہ ادارہ ختم کرنے کی اشد ضرورت ھے جو ملک و ریاست پر بوجھ اور کرپشن لوٹ مار رشوت ستانی بدعنوانی میں بھرپور ملوث رہتے ہیں یا پھر انہیں اس قدر صاف کریں کہ ادارے کے سربراہ سے لیکر چپڑاسی تک ایماندار دیانتدار عملاً نظر آئے اس کیلئے انکی تنخواہوں اور مراعات میں بھلی اضافہ کردیں لیکن کرپشن لوٹ مار سے پاک کرنا ناگزیر بن چکا ھے۔ حکومت اگر ایسا نہیں کرتی تو تاقیامت یہ ملک اور عوام بھکاری اور گھٹیہ ہی بنی رہیگی اس لئے خدارا اس ملک پر رحم کیجئے یاد رھے کہ یہ سب بدترین بیماریاں 18 ویں ترمیم کے سبب ہیں جبتک 18 ویں ترمیم کا خاتمہ نہ ہوگا یہی تسلسل بدکاریوں کا چلتا ہی رہیگا عوام پستی رہیگی مرتی رہیگی۔۔۔!!
۔۔۔!!





