جون 27, 2026

ایران امریکہ حالیہ کشیدگی کا تجارتی اثر؛ پاکستان کی بندرگاہوں پر ایران جانیوالے ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے، ایرانی حکام کی جلد واپسی کی کوششیں

ایران پر مسلط امریکی جنگ اور حالیہ کشیدگی کے باعث مختلف ممالک سے ایرانی بندرگاہوں کو جانے والے نجی شعبے کے کنٹینرز کی ایک غیر معمولی تعداد اس وقت پاکستان میں پھنس چکی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے سینیئر حکام کے مطابق، پاکستان کی مختلف بندرگاہوں، بالخصوص کراچی پورٹ پر پھنسے ہوئے ان کنٹینرز کی تعداد بڑھ کر 13 ہزار سے 18 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ ان کنٹینرز میں چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کے لیے لازمی ضرورت کی اشیاء، مشینری کے پرزہ جات، آٹوموٹیو پرزے، گھریلو سامان، زراعت و آبپاشی کا سامان، زرعی کیڑے مار ادویات، ہیوی ٹرکوں کے ٹائر، موبائل فونز کی مرمت کا سامان، لیپ ٹاپس، کمپیوٹرز، غذائی اجناس اور طبی و سرجیکل سامان شامل ہے۔ جنگی صورتحال کے دوران چین اور دیگر ممالک سے آنے والا یہ بعض کارگو کراچی پورٹ، بن قاسم پورٹ یا گوادر بندرگاہ منتقل کیا گیا تھا، تاہم زیادہ تر سامان کراچی پورٹ پر ہی موجود ہے۔ ایرانی ٹریڈرز کی شدید خواہش ہے کہ یہ کارگو جلد از جلد ایران پہنچے تاکہ وہاں مقامی صنعتوں کا پہیہ چل سکے اور عوام کو بنیادی ضرورت کی اشیاء فراہم کی جا سکیں۔ اس سامان کی تیز ترین منتقلی کے لیے ایرانی حکام سمندری راستے کو ترجیح دے رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ گوادر کے متبادل راستے کے بجائے تمام کنٹینرز کو کراچی سے براہِ راست چاہ بہار منتقل کرنا وقت اور لاگت دونوں لحاظ سے موزوں ترین ہوگا۔ ایرانی حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات کے تناظر میں، پاکستانی حکام کے تعاون سے ان کنٹینرز کو جلد از جلد ایرانی بندرگاہوں کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔