کالم نگار:محمد شہزاد بھٹی
کربلا کی تپتی ریت پر پیش آنے والا واقعہ حق و باطل کا وہ فیصلہ کن معرکہ ہے جس نے انسانیت کو بیداری کا نیا درس دیا، یکم محرم الحرام کو جب امام حسینؓ کا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا تو ابنِ زیاد کے حکم پر عمر بن سعد کی زیرِ قیادت یزیدی فوج نے آپؓ کا راستہ روک کر ظلم کی بنیاد رکھی، دو محرم کو امامِ عالی مقامؓ نے قیام گاہ کا انتخاب کیا، تین محرم کو یزیدی لشکر کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا گیا، چار محرم کو کوفہ سے مزید فوجی دستے اور ساز و سامان پہنچایا گیا، پانچ محرم کو یزیدیوں نے اہل بیتِ رسولؐ کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا، چھ محرم کو یزیدی فوج کی تعداد میں اضافہ جاری رہا، سات محرم کو یزیدی درندگی کا تاریک ترین باب کھلا جب دریائے فرات پر پہرہ بٹھا کر آلِ رسولؐ اور ان کے بچوں پر پانی کے تمام ذرائع بند کر دیے گئے، آٹھ محرم کو پیاس کی شدت میں اضافہ ہوا اور خواتین و بچوں کی حالت غیر ہونے لگی، نو محرم کو یزیدی فوج نے خیموں پر حملے کی دھمکی دی تو امام حسینؓ نے عبادت کے لیے ایک رات کی مہلت مانگی اور ساری رات تلاوتِ قرآن و نماز میں گزاری، پھر دس محرم کا وہ دن طلوع ہوا جو ظلم اور ایثار کی آخری حد ثابت ہوا، صبح سے دوپہر تک امام حسینؓ کے بہتر جانثاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ہاشمی نوجوانوں نے اپنے لہو سے وفا کی لازوال تاریخ لکھی، اسی دوران جب امام حسینؓ نے دیکھا کہ چھ ماہ کے شیر خوار بیٹے حضرت علی اصغرؓ پیاس کی شدت سے نڈھال ہیں تو آپؓ نے اس معصوم کو یزیدی لشکر کے سامنے پیش کرتے ہوئے پکارا کہ اس معصوم کا کیا قصور ہے، اسے تو پانی پلا دو، مگر یزیدی درندے حرملہ بن کاہل اسدی نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے اپنے کمان سے ایک تین نوکوں والا تیر چلایا جو اس معصوم کے نازک گلے کے پار ہو گیا اور حضرت علی اصغرؓ نے امام حسینؓ کے ہاتھوں میں ہی جامِ شہادت نوش کیا، یہ منظر دیکھ کر زمین و آسمان بھی لرز اٹھے، آخر میں امام حسینؓ تنہا میدان میں اترے اور زخموں سے چور ہونے کے باوجود سجدۂ حق ادا کرتے ہوئے شہید ہوئے، شمر، خولی اور سنان جیسے بدبختوں نے ظلم کی انتہا کر دی، سرِ مبارک تن سے جدا کیا، خیموں کو آگ لگائی اور بی بی زینبؓ سمیت خواتین و بچوں کو گرفتار کر کے کوفہ و شام کے بازاروں میں تشہیر کی، یہ واقعہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی بھی معمولی ہے، ظلم کے سامنے سر جھکانا بزدلی ہے اور زندگی کا اصل مقصد عزت و وقار کے ساتھ حق پر قائم رہنا ہے، دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں امام حسینؓ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، ہمیں ظالم کے خلاف حق کی آواز بننے کا حوصلہ دے اور دونوں جہاں میں اہل بیتِ اطہار کی محبت اور شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین





