تحریر: ۔محمد انور بھٹی
سحر گاہِ جہاں میں جب بھی ملوکِ وقت اور بساطِ اقتدار کے کارپردازوں کی جانب سے تنخواہوں اور وظائف میں اضافے کے دلفریب اعلانات سامنے آتے ہیں تو طبل و علم کے رسیا ذرائع ابلاغ پر ایک ایسا غوغا اور شورِ قیامت برپا کر دیا جاتا ہے گویا دیارِ وطن کے تمام درماندہ سرکاری ملازمین اور خستہ حال پنشنرز کی تقدیرِ برگشتہ دفعتاً پلٹ گئی ہو، جیسے شبِ تاریک کے مارے ہوئے ان شکستہ دلوں کے تاریک گھروں میں یک لخت خوشحالی اور آسودگی کے چراغِ رخشان روشن ہو گئے ہوں، جیسے غریب پرور اعلانات کے تیر سے گرانی و مہنگائی کا خونخوار عفریت ہمیشہ کے لیے مغلوب و خاک نشیں ہو گیا ہو اور جیسے زیست کی ہر جاں گسل پریشانی، ہر تنگی اور ہر اضطراب کا قصہ پارینہ بن کر ختم ہو گیا ہومگر افسوس کہ جب ہم سرابِ تمنا کے ان غبار آلود دائروں سے نکل کر تلخ حقیقت کے آئینہ خانہء صد رنگ میں ان بلند بانگ اور طفل تسلی پر مبنی دعووں کو دیکھتے ہیں تو کارگاہِ حیات کا عبرت ناک منظر اس ظاہری طمطراق کے بالکل برعکس، نہایت نوحہ کناں اور دلدوز نظر آتا ہے۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ وطنِ عزیز میں عمر رسیدہ سرکاری ملازمین اور بالخصوص گوشہ نشین پنشنرز کے ساتھ برسوں سے صریح مذاق، تمسخر اور دل آزاری کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ جاری و ساری ہے جسے کسی بھی میزانِ عدل، کسی بھی اخلاقی ضابطے یا معاشی انصاف کا نامِ نامی دینا انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہے۔جہاں مژدہء جاں فزا کے روپ میں محض سات فیصد کے معمولی اور خجالت آمیز اضافے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور مصلحت پسند میڈیا اسے ایک تاریخی اور بے نظیر کارنامے کے طور پر سرخیوں کی زینت بنا دیتا ہے مگر اربابِ حل و عقد میں سے کوئی بیدار مغز اور دردِ دل رکھنے والا انسان یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ الف لیلوی داستانوں جیسے ان کھوکھلے اعلانات کے بعد ایک ریٹائرڈ اور زار و نزار ملازم کے دستِ ناتواں میں عملی طور پر کتنے خوار و بے مایہ روپے آئیں گےاس کی شب و روز کی تلخ کشمکش میں کیا مثبت تبدیلی رونما ہوگی اور کیا اس جزر و مد سے اس کے سینے میں دفن لامتناہی مصائب کے طوفان تھم جائیں گے یا وہ مزید کسی گہرے گرداب کی نذر ہو جائے گا۔
عقل حیران اور دل خون ہوتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک کہنہ مشق اور ضعیف العمر ریٹائرڈ ملازم جس کی کل کائنات اور زیست کا واحد سہارا محض پینتیس ہزار یا چالیس ہزار روپے کی قلیل پنشن ہو وہ اس مبینہ سات فیصد کے نام نہاد اضافے کے بعد چند سو یا گنتی کے دو تین ہزار روپے حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہےلیکن اس ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ دوسری طرف اسی ایک نوٹیفکیشن کی اوٹ میں بازارِ دہر میں حیات بخش ادویات کی قیمتیں پچاس سے سو فیصد تک آسمان کو چھونے لگتی ہیں سفاک بجلی کے بل غریب کے خونِ جگر کی طرح دگنے اور تگنے ہو جاتے ہیں گیس کے نرخ ہوش ربا حد تک کئی گنا بڑھا دیے جاتے ہیں اور پانی، مکان کا کرایہ، آمد و رفت کے سفاری اخراجات، بچوں کی ناگزیر تعلیمی ضروریات اور روزمرہ زندگی کے تمام تر معاشی تقاضے مسلسل گرانی کی بیدردی سے مہنگے اور دسترس سے باہر ہوتے چلے جاتے ہیں جس کا منطقی اور المناک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس مضحکہ خیز معاشی اضافے سے پہلے بھی وہ بوڑھا انسان درماندگی، کسمپرسی اور عسرت کے عذابِ مسلسل کا شکار تھا اور اس نام نہاد ریلیف کے بعد بھی وہ اسی اندوہناک پریشانی، فاقہ کشی اور ذہنی کرب کے جانکاہ گرداب میں جوں کا توں پھنسا رہتا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں سب سے زیادہ دلخراش، تکلیف دہ اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان بے زبان اور بے بس پنشنرز کے میڈیکل الاؤنس میں گزشتہ کئی دہائیوں سے کوئی خاطر خواہ، معقول اور جاندار اضافہ نہیں کیا گیا حالانکہ عقلِ سلیم کا تقاضا ہے کہ زندگی کے اس آخری، کمزور اور ناگزیر مرحلے میں انسان کو سب سے زیادہ طبی امداد، باقاعدہ علاج معالجے، گرانیِ ادویات کے ازالے اور مستند طبی سہولیات کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ ساٹھ سال کی عمرِ رواں کی حد عبور کرنے کے بعد انسانی جسم کا نظامِ کار پہلے جیسا توانا، مستعد اور جفاکش نہیں رہتا بلکہ ضعیفی کے سائے گہرے ہوتے ہی شوگر کی جان لیوا رمق، ہائی بلڈ پریشر کی مسلسل طغیانی، دل کے پیچیدہ امراض، جوڑوں کا مفاصل شکن درد، گردوں کے جاں گسل مسائل، بینائی کی روز افزوں کمزوری، سماعت کی بتدریج خرابی اور بے شمار دیگر امراضِ کہنہ اس مظلوم انسان کا مقدر بن جاتے ہیں اور ایسے کٹھن حالات میں کسی نامور معالج کی صرف ایک وقت کی فیس ہی ہزاروں روپے کے ہندسوں کو چھوتی نظر آتی ہے جبکہ کئی ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت کی فیس دو ہزار سے پانچ ہزار روپے تک نہایت بے دردی سے وصول کی جاتی ہے۔جس کے باعث ایک معمولی سا طبی معائنہ اور چند ضروری ٹیسٹ بھی اس غریب اور نادار پنشنر کے نحیف شانوں پر ایک ایسا ناقابلِ برداشت کوہِ گراں بن چکے ہیں جس کے بوجھ تلے اس کی ہڈیاں چٹخ رہی ہیں۔
کاش کہ ہمارے سنگدل اور عافیت اندوز حکمران ذرا لمحے بھر کے لیے اپنی مخملیں مسندوں سے اتریں اور ایک ایسے ضعیف العمر بزرگ کی شب و روز کی زندگی کا دل سوز تصور کریں جس نے اپنی زندگی کی چالیس بہاریں، اپنی جوانی کی تمام تر توانائیاں، اپنی صحت کا گراں مایہ سرمایہ، اپنا قیمتی وقت اور اپنی تمام تر ذہنی و جسمانی صلاحیتیں اس ملک کے قومی اداروں کی آبیاری کے لیے بے لوث وقف کر دیں اور جب وہ اپنی طویل ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کے آخری سفر، یعنی ناتوانی اور ضعیفی کے دور میں داخل ہوا جہاں اسے ذہنی سکون، معاشرتی عزت، فلاحی تحفظ اور ریاست کی جانب سے پدری شفقت ملنی چاہیے تھی مگر صد افسوس کہ ہماری بدقسمتی اور بے حسی کے سبب اسے بوڑھے اندھے کی لاٹھی بننے کے بجائے دو وقت کی خشک روٹی، شوگر و بلڈ پریشر کی دوا اور بجلی کے ظالمانہ بل کی ہولناک فکر نے چاروں طرف سے اپنے مہیب حصار میں لے رکھا ہے چنانچہ وہ سفید ریش بزرگ جب صبحِ نو کے اجالے میں بیدار ہوتا ہے تو اس کے سامنے زندگی کے حسین خواب نہیں بلکہ تلخ حقیقتیں صف آرا ہوتی ہیں جہاں اسے شوگر کی دوا خریدنی ہوتی ہے بلڈ پریشر کی روزانہ کی گولی کا انتظام کرنا ہوتا ہےمعالج کے پاس حاضری دینی ہوتی ہے اور لیبارٹری کے گراں قیمت ٹیسٹ کروانے ہوتے ہیں مگر اس کی خالی اور تہی دامن جیب اس کی سفید پوشی کا تمسخر اڑاتے ہوئے اسے اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتی جس کا ہولناک اور چشم کشا منظر یہ ہے کہ آج وطنِ عزیز میں بے شمار غیرت مند پنشنرز ایسے ہیں جو اپنی عزتِ نفس کو بچانے کی خاطر آدھی خوراک پر فاقہ مستی کا گزارا کر رہے ہیں کئی مجبور بزرگ اپنی زندگی بچانے والی بنیادی ادویات خریدنا چھوڑ چکے ہیں اور کئی تو ایسے ہیں جو اپنی موذی بیماریوں کو اپنی تقدیرِ ازلی اور قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموشی سے جھیلتے رہتے ہیں اور بسترِ علالت پر سسکتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس عصرِ حاضر کے اس تجارتی علاج معالجے کی استطاعت اور سکت ہی باقی نہیں رہی۔
ریاست کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے منصفین اور معمارانِ قوم سے میرا یہ دردمندانہ سوال ہے کہ کیا ان معصوم بزرگوں کی بیماریوں میں اور معاشرے کے دیگر متمول و بااثر افراد کی بیماریوں میں کوئی بنیادی فرق ہوتا ہےکیا ایک ریٹائرڈ اور عمر رسیدہ ملازم کے دل کا درد کسی امیرِ شہر کے درد سے کم تر ہوتا ہے کیا اس کی زندگی بچانے والی ادویات مارکیٹ میں کسی خصوصی رعایت کے ساتھ سستی ملتی ہیں کیا اس کے جھونپڑے کے لیے واپڈا کی جانب سے بجلی کا بل کم بھیجا جاتا ہے یا کیا اس کے گھر کے چولہے کے لیے آٹا، چاول، چینی، گھی، دودھ اور سبزیاں کسی رعایتی نرخ نامے پر دستیاب ہوتی ہیں تو اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے کیونکہ گرانی اور مہنگائی کا یہ مہیب سیلاب تو معاشرے کے ہر فرد کے لیے یکساں، بیدرد اور بے رحم ہے لیکن ذرائعِ آمدن کا تفاوت یہ ہے کہ معاشی ناہمواری کے سبب غریب اور امیر کے درمیان خلیج وسیع تر ہو چکی ہے چونکہ حاضر سروس اعلٰی پوسٹ پر تعنیات ملازمین کو تنخواہ میں متواتر اضافہ بھی ملتا ہے کنوینس الاؤنس کی مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں مختلف قسم کے سفری و رہائشی الاؤنسز سے نوازا جاتا ہے ان کے سامنے ترقی اور ترفیع کے روشن مواقع بھی موجود ہوتے ہیں اور کئی صورتوں میں انہیں ٹیکسوں کے جال میں بھی خاطر خواہ ریلیف اور استثنیٰ دیا جاتا ہےمگر اس کے برعکس ایک ریٹائرڈ پنشنر کے لیے وہ چند ہزار روپے کی پنشن ہی اس کی کل کائنات اس کا کل اثاثہ اور اس کا واحد حاصلِ زیست ہوتی ہے جہاں نہ کوئی اضافی آمدنی کی سبیل ہوتی ہے نہ ترقی کی کوئی امید، نہ سالانہ بونس کا کوئی تصور، نہ کوئی ذاتی کاروبار کرنے کی سکت اور نہ ہی کوئی دوسرا ظاہری ذریعہء معاش۔
انسانی عقل اس وقت مزید دنگ رہ جاتی ہے اور دل ملوکیت کے اس نظام پر خون کے آنسو روتا ہے جب ہم اپنے حکمران طبقے، وزراء اور اشرافیہ کی شاہانہ مراعات، پرتعیش طرزِ زندگی اور بے پناہ اسراف پر نظر ڈالتے ہیں جہاں چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی و صوبائی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات میں بعض اوقات صرف ایک ہی جنبشِ قلم اور ایک ہی خفیہ نوٹیفکیشن کے ذریعے سو فیصد سے لے کر دو سو فیصد تک کا شاہانہ اور ہوش ربا اضافہ راتوں رات کر دیا جاتا ہے جہاں نہ کوئی مالیاتی خسارے کا رونا رویا جاتا ہے نہ خزانے کے خالی ہونے کا واویلا مچایا جاتا ہے نہ کوئی عوامی احتجاج سدِ راہ بنتا ہے اور نہ ہی میڈیا پر ان کا کوئی ٹرائل یا تنقیدی محاسبہ ہوتا ہے بلکہ انتہائی خاموشی، رازداری اور عجلت کے ساتھ یہ شاہی فیصلے صادر ہوتے ہیں اور چشم زدن میں نافذ العمل بھی ہو جاتے ہیں لیکن دوسری جانب اسی مٹی کا وہ اصل بیٹا، وہ ریٹائرڈ ملازم جس نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اس ملک کی اینٹ سے اینٹ جوڑنے میں صرف کیا وہ چند سو یا چند ہزار روپے کے جائز معاشی اضافے اور اپنے بنیادی حق کے لیے چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر پریس کلبوں کے سامنے دہائیوں تک ماتم کرتا ہے اور برسوں انتظار کی سولی پر لٹکا رہتا ہے مگر وقت کے فرعونوں اور مصلحت پسند حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور اس بوڑھے باپ کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اس کی سسکتی ہوئی فریاد اور نالہء نیم شبی ان اقتدار کے اندھے اور بہرے ایوانوں کی سنگلاخ دیواروں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی ہے اور فیصلوں کی میزوں پر بیٹھے ہوئے بے حس بیوروکریٹس اور وزراء تک اس کی نحیف آواز اور التجا کبھی پہنچ ہی نہیں پاتی۔
ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ یہ پنشنرز کوئی آسمان سے اتری ہوئی مخلوق یا زمین پر بوجھ نہیں ہیں بلکہ یہ وہ باوقار اور غیور لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری ملازمت کے دوران اپنی حلال اور خون پسینے کی آمدنی سے باقاعدگی کے ساتھ ریاست کو ٹیکس ادا کیے اپنی ماہانہ اجرت سے ایک ایک پیسہ کاٹ کر قومی خزانے کو مستحکم کیا ملکی معیشت کے پہیے کو رواں دواں رکھا اور دن رات ایک کر کے تمام سرکاری اداروں کا نظام چلایا، جنہوں نے ریلوے کی پٹریوں پر پسینہ بہایا، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں علم کی شمعیں روشن کر کے نسلوں کی آبیاری کی، اسپتالوں میں انسانیت کی خدمت کی، سرکاری دفاتر کے الجھے ہوئے معاملات کو سلجھایا، سڑکیں بنائیں، ڈیم تعمیر کیے، ترقیاتی منصوبے پایہء تکمیل تک پہنچائے اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا لہٰذا آج اگر وہ اپنی عمر کے اس انتہائی آخری، ناتوان اور خستہ حصے میں ریاست سے کچھ معاشی سہولت، طبی آسانی اور جینے کی عزت مانگ رہے ہیں تو کیا وہ حکمرانوں سے کوئی بھیک، کوئی خیرات یا کوئی احسان مانگ رہے ہیں ہرگز نہیں وہ تو صرف اور صرف اپنی اس امانت کا حق مانگ رہے ہیں جو انہوں نے اپنی جوانی میں اس ریاست کے پاس بطورِ امانت گروی رکھی تھی۔ دنیا کے تمام مہذب، جمہوری اور ترقی یافتہ ممالک پر اگر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں سینئر سٹیزنز اور ریٹائرڈ شہریوں کو معاشرے کا سب سے قیمتی اور معزز سرمایہ سمجھ کر انہیں خصوصی اہمیت و فوقیت دی جاتی ہے ان کے لیے ریاست کی جانب سے مفت اور عالمی معیار کی صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ، ریل اور ہوائی سفر میں بھاری معاشی رعایت دی جاتی ہے روزمرہ کی ادویات اور غذائی اجناس پر خطیر سبسڈی فراہم کی جاتی ہےان کے ٹیکسوں کے نظام میں انتہائی نرمی اور استثنیٰ برتا جاتا ہے اور ان کی تفریح و ذہنی سکون کے لیے خصوصی فلاحی مراکز قائم کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ باشعور قومیں اس آفاقی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جو معاشرہ اپنے بزرگوں کی قدر نہیں کرتا جو قوم اپنے محسنوں کی خدمات کو فراموش کر دیتی ہے وہ کبھی بھی زوال کے اندھیروں سے نہیں نکل سکتی اور نہ ہی کبھی بابرکت و ترقی یافتہ کہلانے کی مستحق ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں بھی اب وہ وقت آ گیا ہے کہ طفل تسلیوں، لفاظی اور کھوکھلے وعدوں کے مروجہ کلچر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پنشنرز کے ان سنگین اور جاں گسل مسائل کو مستقل اور سنجیدہ بنیادوں پر دیکھا جائے کیونکہ محض سالانہ بجٹ میں چند فیصد کے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر اضافے سے یہ مہیب معاشی مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا بلکہ اب وقت کی پکار اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پینشن کی شرح کو ملک میں جاری اصل اور حقیقی مہنگائی کے اشاریے (Consumer Price Index) کے ساتھ مستقل اور قانونی طور پر منسلک کر دیا جائے تاکہ جب بھی مارکیٹ میں مہنگائی کا طوفان اٹھے اور اشیاء کی قیمتیں بڑھیں تو پنشنرز کا وظیفہ بھی خودکار نظام کے تحت اسی تناسب سے بڑھ جائے تاکہ انہیں کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل الاؤنس میں فی الفور نمایاں اور دور رس اضافہ کیا جائے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کے لیے مفت اور ترجیحی بنیادوں پر علاج معالجے کے لیے کارڈ جاری کیے جائیں ادویات کی خریداری پر پچاس فیصد سے زائد مستقل سبسڈی فراہم کی جائے، بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں ان سینئر سٹیزنز کے لیے پچاس فیصد کا خصوصی ریلیف پیکیج دیا جائے تمام عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ میں ان کے لیے بالکل مفت یا انتہائی رعایتی سفر کی سہولت قانوناً نافذ کی جائے اور خصوصاً ایسے ادنیٰ درجے کے ریٹائرڈ ملازمین جن کی ماہانہ پینشن اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر یعنی انتہائی قلیل ہے ان کی بقا اور زندگی کو بچانے کے لیے فوری طور پر ایک معقول اور مستقل فلاحی امدادی پیکیج متعارف کروایا جائے۔
ہم اس تحریر کے توسط سے جنابِ صدرِ مملکت، وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیرِ خزانہ کی بند قباؤں اور ان کے ضمیر کے بند کواڑوں پر دستک دیتے ہوئے نہایت ادب، دردمندی اور خلوصِ دل کے ساتھ یہ پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ خدا کے لیے ان لاکھوں سسکتے ہوئے بوڑھے پنشنرز کی آہ و فغاں اور فریادِ نیم شبی کو سنیں، ان ضعیف اور برگزیدہ بزرگوں کی دل سے نکلی ہوئی دعائیں لیں اور ان کی سفید داڑھیوں، جھریاں بھرے مضمحل چہروں، بیماریوں سے چور نحیف جسموں اور حسرت و یاس سے تھکی ہوئی غمزدہ آنکھوں میں چھپی ہوئی آخری امید کی شمع کو مایوسی کے سیاہ اندھیروں میں تبدیل نہ ہونے دی کیونکہ یہ وہی جفاکش لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی تمام تر رعنائیاں اور جوانیاں اس مٹی کے ماتھے کا جھومر بنانے کے لیے قربان کر دیں، لہٰذا آج جب وہ زندگی کے آخری کنارے پر کھڑے ہیں تو انہیں ریاست کی طرف سے دلاسے، معاشی تحفظ، آبرو مندانہ سکون اور اس احساس کی شدید ضرورت ہے کہ یہ مملکتِ خداداد انہیں بھولی نہیں ہے بلکہ ان کی خدماتِ جلیلہ کی دل سے قدر کرتی ہے۔ مہنگائی کے اس قیامت خیز طوفان اور ہوش ربا معاشی بحران کے دور میں موجودہ پنشن یکسر ناکافی، بے مایہ اور مذاق بن کر رہ گئی ہے، غریب کی قوتِ خرید مٹ چکی ہے گھروں کے چولہے ایندھن اور اناج نہ ہونے کے باعث ٹھنڈے پڑ چکے ہیں بوڑھے ماں باپ کے لیے دوائیں اب ایک ادھورا خواب بنتی جا رہی ہیں اور بنیادی علاج معالجہ غریب کے لیے ایک ناقابلِ رسائی عیاشی محسوس ہونے لگا ہے تو ایسے کٹھن اور روح فرسا حالات میں اگر یہ اسلامی فلاحی ریاست اپنے ان بزرگ اور لاچار شہریوں کا آخری سہارا نہیں بنے گی تو پھر ان کا پرسانِ حال کون ہوگا اور وہ کس کے آستانے پر جا کر اپنا سر پیٹیں گے۔
ہم بآوازِ بلند یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پنشنرز کی پنشن میں فوری طور پر ان کی ضروریاتِ زندگی کے مطابق خاطر خواہ اور جاندار اضافہ کیا جائے اسے مہنگائی کے حقیقی تناسب سے قانونی طور پر مشروط کیا جائےمیڈیکل الاؤنس کو موجودہ دور کے علاج کے اخراجات کے برابر لایا جائے سینئر سٹیزنز کے لیے ایک جامع اور مستقل قومی فلاحی پیکیج مرتب کیا جائے اور بجلی، گیس، پانی سمیت تمام یوٹیلیٹیز اور دواؤں میں انہیں خصوصی و قانونی مراعات دی جائیں تاکہ ان کی معاشی اور نفسیاتی مشکلات کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک پائیدار اور ٹھوس ریاستی پالیسی مرتب ہو سکے کیونکہ یہ غیور لوگ ریاست سے کوئی خیرات نہیں مانگ رہے یہ کسی کے سامنے کشکول لیے بھیک نہیں مانگ رہے یہ اپنے فرائض کے بدلے کسی پر کوئی احسان نہیں جتا رہے بلکہ یہ تو صرف اور صرف اپنا وہ جائز، قانونی اور آئینی حق مانگ رہے ہیں جو چالیس سالہ بے لوث قومی خدمت کے صلے میں صریحاً ان کا استحقاق بنتا ہے اور جو ان کی عمر بھر کی محنت، دیانت، شب بیداریوں اور لازوال قربانیوں کا ثمر ہے۔ خدارا وقت کے فرماں رواؤ اور اقتدار کے نشے میں چور حاکموان معصوم اور بے زبان بزرگوں کے حالِ زار پر رحم کھائیے ان کی باقی ماندہ چند روزہ زندگی کو آسان بنائیے ان کے سینوں میں دفن دکھ درد اور تکالیف کا مداوا کیجیے ان کے مفت علاج معالجے کا پائیدار بندوبست کیجیے اور ان کی پنشن کو وقت کی بے رحم مہنگائی کے مطابق بڑھا کر ان کے مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ لائیے اور ان کی دل سے نکلی ہوئی دعائیں سمیٹیے کیونکہ یاد رکھیے کہ ایک مظلوم کی عرش ہلا دینے والی آہ اور ایک سچے بزرگ کی دل سے نکلی ہوئی بددعا دونوں میں اس کائنات کو بدل دینے کی بڑی ہولناک طاقت ہوتی ہے، لہٰذا یہ بات ہمیشہ کے لیے اپنے ذہنوں کے افق پر نقش کر لیجیے کہ پنشن کوئی بھیک یا خیرات نہیں بلکہ عمر بھر کی جاں گسل قومی خدمت کا ایک نہایت باوقار، معزز اور آبرو مندانہ صلہ ہےپنشن کوئی احسان نہیں بلکہ ایک مسلمہ اور قانونی حق ہےاور تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشروں میں حقوق دیے جاتے ہیں تو وہ قومیں سرخرو ہوتی ہیں اور جہاں حقوق کو حیلوں بہانوں سے ٹالا جاتا ہے وہاں پھر زوال اور تباہی کا ایسا سیلاب آتا ہے جو بڑے بڑے تاج و تخت کو تنکے کی طرح بہا لے جاتا ہے۔




