جون 17, 2026

آدمیت کی تلاش وجودِ انسان سے بقائے انسانیت تک کا سفر

تحریر: محمد انور بھٹی

کائنات کا یہ لامتناہی مادی پھیلاؤ اپنی جگہ ایک بہت بڑا عجوبہ ہے جہاں ہر لمحہ ہزاروں، لاکھوں زندگیوں کا آغاز ہوتا ہے اور ہر روز دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں کوئی نیا انسان جنم لیتا ہے مگر اس کثرتِ آبادی کے باوجود جب ہم گہرائی میں اتر کر دیکھتے ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے کیونکہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہو جاتے ہیں لیکن انسانیت کہیں کہیں جنم لیتی ہے اور یہی وہ المیہ ہے جس نے آج کے جدید اور ترقی یافتہ دور کو ایک عذاب الہی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں انسان کے پاس چاند پر قدم رکھنے کی صلاحیت تو موجود ہے مگر اپنے پڑوس میں رہنے والے لاچار بھائی کا دکھ بانٹنے کا حوصلہ بالکل ختم ہو چکا ہے اور اسی تلخ حقیقت کو سمجھنے کے لیے جب ہم روایتی زندگی کے شور شرابے سے نکل کر گہرائی میں اترتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آدم کی اولاد ہونا ایک بائیولوجیکل ضرورت یا عمل تو ہو سکتا ہے مگر آدمیت کے مرتبے پر فائز ہونا ایک کٹھن اور صبر طلب مجاہدہ ہے جس کے لیے اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے اور ہر قسم کے دنیاوی لالچ اور خود نمائی کے بتوں کو پاش پاش کرنا پڑتا ہے۔
ریلوے کالونی کے اس سرکاری کوارٹر کی چہل پہل، انجنوں کی دن رات کی سیٹیوں، کوئلے کی بو اور پٹریوں کے ارد گرد پھیلی ہوئی کسمپرسی کی زندگی سے سبکدوش ہو کر جب بندن میاں اپنی آبائی بیٹھک میں آ کر بیٹھے تو ان کا مقصد کسی صدارت کی کرسی پر متمکن ہونا یا لوگوں کو اپنی پارسائی کا یقین دلانا ہرگز نہیں تھا بلکہ وہ تو عمر بھر کے سفر کے بعد اب ایک خاموش تماشائی اور گہرے مشاہدہ کار کی حیثیت سے اس مٹی کے ڈھیر یعنی انسانی معاشرے کا اندرونی مطالعہ کرنا چاہتے تھے جہاں انہوں نے زندگی کی پٹری پر دوڑتی ہوئی انسانیت کو بارہا سسکتے اور دم توڑتے دیکھا تھا چنانچہ انہوں نے اس گوشہ تنہائی کو اپنی ذات کی تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک دیسی سکوپ بنا دیا جس کے ذریعے وہ معاشرتی رگوں میں دوڑتے ہوئے اس زہریلے خون کا معائنہ کر سکیں جو انسان کو انسان کا دشمن بنا دیتا ہے اور اسی لیے جب وہ وہاں پہلی بار آ کر بیٹھے تو انہوں نے اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیتے ہوئے یہ محسوس کیا کہ رشتوں کے نام تو اب بھی وہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے مگر ان ناموں کے پیچھے چھپی ہوئی جو روح تھی وہ مادی ترقی کی تیز رفتاری میں کہیں گم ہو چکی ہے اور اب انسان صرف اپنے فائدے اور نقصان کے ترازو میں ہر رشتے کو تولنے کا عادی ہو چکا ہے۔
ان کا یہ مشاہدہ کسی کتابی علم کا مرہونِ منت نہیں تھا بلکہ انہوں نے دیکھا کہ کس طرح صبح سویرے جب مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کام کی تلاش میں چوک پر اکٹھی ہوتی ہے تو وہاں موجود ہر شخص دوسرے کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور ان کے درمیان سگے بھائیوں جیسا کوئی رشتہ باقی نہیں رہتا بلکہ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح دوسرے کا نوالہ چھین کر اپنے پیٹ کا دوزخ بھر لے اور یہی وہ نقطہ تھا جہاں بندن میاں کی سوچ کا دھارا اس سچائی کی طرف مڑ گیا کہ محض گوشت پوست کا پتلا بن جانا کوئی کمال نہیں بلکہ کمال تو یہ ہے کہ انسان کے سینے میں دھڑکنے والا دل دوسرے کے دکھ پر تڑپ اٹھے لیکن یہاں تو صورتحال بالکل برعکس تھی کیونکہ ہر شخص اپنے ہی غم کا اسیر تھا اور کسی کے پاس دوسرے کے آنسو پونچھنے کے لیے دو منٹ کا وقت بھی میسر نہیں تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے تعلیم تو حاصل کر لی مگر تربیت کے اس شعبے کو بالکل فراموش کر دیا جو انسان کو اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر فائز کرتا ہے اور اسے یہ سکھاتا ہے کہ زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے کام آنا ہی اصل بندگی ہے۔
اس خاموش مشاہدے کے دوران جب ان کی نظریں گلی سے گزرتے ہوئے ان بچوں پر پڑتیں جو اسکول جانے کے بجائے ہاتھوں میں کچرا اٹھانے والے تھیلے تھامے کچرے کے ڈھیر پر اپنی قسمت تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو ان کا دل خون کے آنسو روتا تھا کیونکہ اسی گلی سے کچھ ایسے بچے بھی گزرتے تھے جو مہنگے لباس پہن کر بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر عالی شان اسکولوں کی طرف جاتے تھے مگر ان کے دلوں میں ان غریب بچوں کے لیے کوئی ہمدردی یا احساسِ مروت دکھائی نہیں دیتا تھا بلکہ وہ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے گزر جاتے تھے اور یہی وہ سماجی خلیج ہے جو آگے چل کر معاشرے میں نفرت اور جرم کو جنم دیتی ہے جس کا مشاہدہ کرتے ہوئے بندن میاں اکثر سوچا کرتے تھے کہ اگر ان امیر بچوں کے والدین نے انہیں صرف بڑا انسان بننے کے خواب دکھانے کے بجائے ایک اچھا انسان بننے کی تلقین کی ہوتی تو آج یہ معاشرہ اس قدر سنگدل اور بے حس نہ ہوتا جہاں ایک طرف تو امارت کا طوفان ہے اور دوسری طرف غربت کی سسکیاں ہیں جو آسمان کا کلیجہ شق کر دیتی ہیں مگر زمین پر رہنے والے انسانوں کے کانوں تک ان کی آواز نہیں پہنچ پاتی۔
معاشرتی نظام کا یہ تضاد صرف بچوں تک محدود نہیں تھا بلکہ جب وہ بڑے بوڑھوں اور معززینِ شہر کے رویوں کا مطالعہ کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ نیکی اور تقویٰ کا معیار بھی اب صرف ظاہری رسومات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جہاں بڑی بڑی عبادت گاہیں تو انسانوں سے بھری رہتی ہیں مگر ان عبادت گاہوں سے باہر نکلتے ہی وہی انسان جھوٹ، منافقت، ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ جیسے قبیح جرائم میں اس طرح ملوث ہو جاتے ہیں جیسے انہیں خدا کا کوئی خوف ہی نہ ہو اور یہی وہ سب سے بڑا دھوکہ ہے جو انسان اپنی ذات کے ساتھ کر رہا ہے کہ وہ ظاہری طور پر تو خود کو بڑا مذہبی اور اخلاقی ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر جب عملی زندگی میں کسی غریب کی مدد کرنے یا کسی مظلوم کا ساتھ دینے کا وقت آتا ہے تو وہ مصلحت کا شکار ہو کر اپنے قدم پیچھے ہٹا لیتا ہے جس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انسانیت کا جنم کسی خاص لباس یا وضع قطع سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے دل کی زمین کا زرخیز ہونا ضروری ہے جہاں ہمدردی اور محبت کی فصلیں اگ سکیں۔
طویل مشاہدات کے اس سفر میں انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح رشتوں کی حرمت پامال ہو رہی ہے اور جہاں باپ اور بیٹے کے درمیان صرف پیسے کا رشتہ رہ گیا ہے اور بھائی بھائی کا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کرتا محض اس لیے کہ زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا یا چند روپے کی جائیداد ان کے نزدیک خونی رشتوں سے زیادہ معتبر ہو چکی ہے اور جب ایسے کیس ان کے سامنے سے گزرتے یا وہ محلے کے جھگڑوں کا احوال سنتے تو انہیں شدت سے احساس ہوتا کہ ہم نے مادی چیزوں کو اتنی اہمیت دے دی ہے کہ انسان کی اپنی قیمت ان چیزوں کے سامنے بالکل ہیچ ہو کر رہ گئی ہے اور یہی وہ زوال کی انتہا ہے جہاں کوئی بھی معاشرہ پہنچ کر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ جب تک انسان کی عزت اور اس کی جان و مال کی حفاظت کا احساس دلوں سے ختم ہو جائے تو پھر وہ معاشرہ انسانوں کی بستی نہیں رہتا بلکہ جنگل کا قانون وہاں نافذ ہو جاتا ہے جہاں صرف طاقتور کو جینے کا حق ہوتا ہے اور کمزور پاؤں تلے مسل دیا جاتا ہے۔
بندن میاں نے اپنے اس خاموش گوشے میں بیٹھ کر جو تیسرا بڑا مشاہدہ کیا وہ عورت کے مقام اور معاشرتی رویوں کا تھا جہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف تو عورت کو گھر کی ملکہ اور عزت کا نشان کہا جاتا ہے مگر دوسری طرف اسی معاشرے کے مرد اپنی انا اور تسکین کے لیے اس کی تذلیل کرنے سے باز نہیں آتے اور گلی محلوں میں ہونے والے گھریلو جھگڑے اس بات کا ثبوت تھے کہ ہم نے اپنے اندر کے وحشی کو اب تک قابو نہیں کیا بلکہ موقع ملتے ہی وہ وحشی انسان کے روپ سے باہر نکل کر کمزور پر اپنی طاقت کا مظاہرہ شروع کر دیتا ہے اور یہ سب دیکھتے ہوئے جب وہ گہری سوچ میں ڈوب جاتے تو انہیں اس بات کا یقین ہو جاتا کہ انسانیت کا درس صرف تقریروں یا کتابوں کے ذریعے نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے عملی نمونہ بننا پڑتا ہے اور جب تک ہر شخص انفرادی طور پر اپنے گھر سے اس اصلاح کا آغاز نہیں کرے گا تب تک کوئی بھی بڑی تبدیلی آنا ممکن نہیں ہے۔
زندگی کے اس تماش گاہ میں جہاں ہر روز نئے چہرے اور نئے رنگ دیکھنے کو ملتے تھے وہاں ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ لوگ نیکی تو کرنا چاہتے ہیں مگر اس نیکی کے پیچھے بھی ان کی اپنی شہرت اور نام و نمود کی خواہش چھپی ہوتی ہے جیسے اگر کوئی شخص کسی غریب کو چند روپے یا راشن کا تھیلا دیتا ہے تو اس کے ساتھ دس تصویریں کھنچوا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیتا ہے تاکہ دنیا کو اس کی سخاوت کا علم ہو سکے اور یہی وہ خود نمائی ہے جو نیکی کے اصل اثر کو ختم کر دیتی ہے کیونکہ جب نیکی میں اخلاص نہ رہے اور وہ صرف دکھاوے کا ذریعہ بن جائے تو پھر وہ دلوں کو بدلنے کے بجائے ان میں مزید حسد اور کینہ پیدا کرتی ہے اور اس مشاہدے نے بندن میاں کو یہ سکھایا کہ حقیقی انسانیت تو وہ ہے جو دائیں ہاتھ سے دی جائے تو بائیں ہاتھ کو بھی اس کی خبر نہ ہو کیونکہ جب آپ کسی کی مجبوری کا تماشا بناتے ہیں تو آپ اس کی مدد نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس کی خودداری کا خون کر رہے ہوتے ہیں جو کہ انسانیت کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔
معاشرے کی اس اخلاقی پستی کا ایک اور پہلو وہ نوجوان نسل تھی جو مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اپنی روایات اور اقدار کو بھلا چکی تھی اور جن کے نزدیک بزرگوں کا احترام اور والدین کی خدمت اب ایک فرسودہ روایت بن چکی تھی اور جب وہ گلیوں میں نوجوانوں کو بزرگوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے یا ان کا مذاق اڑاتے دیکھتے تو ان کا سر شرم سے جھک جاتا تھا کیونکہ جو قوم اپنے بڑوں کا احترام کھو دیتی ہے وہ کبھی دنیا میں سرخرو نہیں ہو سکتی اور ان کا یہ مشاہدہ بالکل درست تھا کیونکہ نوجوان نسل ہی کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتی ہے اور اگر اس مستقبل کی بنیادیں ہی اخلاقی زوال پر رکھی جائیں تو عمارت کا گرنا یقینی ہو جاتا ہے اس لیے وہ ہمیشہ اس بات پر کڑھتے تھے کہ کاش ہمارے تعلیمی اداروں میں ڈگریوں کے ساتھ ساتھ انسان سازی پر بھی توجہ دی جاتی تاکہ یہ نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھیں تو صرف اچھے پروفیشنل نہ ہوں بلکہ اچھے انسان بھی ثابت ہوں جو معاشرے کے لیے نفع بخش بن سکیں۔
اس طویل اور گہرے مشاہداتی سفر کا جو حاصل تھا وہ یہ تھا کہ انسانیت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے اور نہ ہی یہ بازار سے خریدی جا سکتی ہے بلکہ یہ تو وہ صفت ہے جو انسان کے اندر تب پیدا ہوتی ہے جب وہ اپنے نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور دوسروں کے حقوق کو اپنے حقوق پر ترجیح دیتا ہے اور جب تک یہ سوچ عام نہیں ہوگی تب تک انسان چاہے جتنے بھی بڑے محلات بنا لے یا جتنی بھی سائنسی ایجادات کر لے وہ اندر سے ہمیشہ کھوکھلا اور مفلس ہی رہے گا کیونکہ سچی دولت تو دل کا سکون ہے اور وہ سکون صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب آپ کی وجہ سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئے یا کسی بھوکے کو روٹی میسر ہو جائے اور یہی وہ اصل اصلاحی پیغام ہے جو اس پوری تحریر کا نچوڑ ہے کہ ہمیں اپنے اندر کے انسان کو بیدار کرنا ہوگا اور اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد صرف اپنی ذات کی حد تک جینا نہیں بلکہ اس کائنات کے حسن کو بڑھانا اور خدا کی مخلوق سے بے غوض محبت کرنا ہے تاکہ جب ہم اس دنیا سے جائیں تو لوگ ہمیں ہماری دولت یا عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری انسانیت اور اخلاق کی وجہ سے یاد رکھیں۔
بندن میاں کی اس خاموش نشست نے انہیں یہ بھی سکھایا کہ وقت کی رفتار بہت تیز ہے اور جو لمحہ گزر جاتا ہے وہ کبھی واپس نہیں آتا اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر دن کو غنیمت سمجھے اور جتنا ہو سکے نیکی اور بھلائی کے کاموں میں حصہ لے کیونکہ آخر کار انسان کے ساتھ صرف اس کے اعمال ہی جاتے ہیں اور دنیا کا یہ جاہ و حشم یہیں خاک میں مل جاتا ہے اور یہی وہ سچائی تھی جس نے ان کے مشاہدات کو ایک نئی وسعت دی اور انہوں نے یہ جان لیا کہ دنیا کی سب سے بڑی عبادت انسان کی خدمت ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو اور جب کوئی شخص اس راز کو پا لیتا ہے تو پھر اس کی زندگی کا مقصد بدل جاتا ہے اور وہ ہر قسم کے تعصب، نفرت اور لالچ سے پاک ہو کر صرف اور خود کو انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کر دیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان واقعی اشرف المخلوقات کہلانے کا حقدار بنتا ہے ورنہ اس کے بغیر تو وہ صرف ایک عام جاندار ہے جس کی پیدائش اور موت کے درمیان کوئی بڑا فرق نہیں ہوتا۔
اس پورے منظر نامے کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ معاشرتی اصلاح کے لیے کسی بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک چھوٹے سے احساس کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر انسان کے دل میں پیدا ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھے اور کسی کی دل آزاری نہ کرے کیونکہ دلوں کو توڑنا سب سے بڑا گناہ ہے اور دلوں کو جوڑنا ہی سب سے بڑی نیکی ہے اور اسی فلسفے کو جب ہم اپنی زندگیوں میں شامل کر لیں گے تو ہمارا معاشرہ امن اور محبت کا گہوارہ بن جائے گا جہاں کوئی کسی کا استحصال نہیں کرے گا اور ہر شخص کو اس کا جائز حق ملے گا اور یہی وہ خواب تھا جو بندن میاں اپنے خاموش مشاہدات کے ذریعے دیکھا کرتے تھے اور جس کی تعبیر کے لیے وہ ہمیشہ دعاگو رہتے تھے کہ کاش اس زمین پر رہنے والے تمام انسان اپنی اصل حقیقت کو پہچانیں اور انسانیت کا وہ نور اپنے اندر پیدا کریں جو پوری کائنات کو روشن کر دے۔
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے رشتوں کے درمیان جو خلوص تھا اسے مادیت کی نذر کر دیا ہے اب کوئی کسی سے بغیر مطلب کے نہیں ملتا اور نہ ہی کسی کی خوشی میں سچے دل سے شریک ہوتا ہے بلکہ ہر ملاقات کے پیچھے کوئی نہ کوئی مفاد چھپا ہوتا ہے اور جب مفاد ختم ہو جاتا ہے تو وہ رشتہ بھی دم توڑ دیتا ہے اور اس مشاہدے نے یہ ثابت کیا کہ جب تک ہم اپنے تعلقات کو مادی مفادات سے پاک نہیں کریں گے تب تک ہم ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد نہیں رکھ سکتے کیونکہ رشتوں کی بنیاد خلوص اور محبت پر ہونی چاہیے نہ کہ لین دین پر اور یہی وہ بات تھی جو بندن میاں اکثر اپنے ذہن کے نہاں خانے میں دہرایا کرتے تھے کہ انسان کو اپنے اخلاق کا معیار اتنا بلند کرنا چاہیے کہ کوئی اس کی ذات سے مایوس نہ ہو بلکہ جو بھی اس سے ملے وہ اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی محسوس کرے اور یہی وہ سچی انسانیت ہے جو کسی کسی کے حصے میں آتی ہے اور جو انسان کو امر کر دیتی ہے۔
زندگی کے اس تماشے میں جہاں ہر روز نت نئے رنگ دیکھنے کو ملتے تھے وہاں ایک بات بہت واضح تھی کہ غربت اور بیچارگی کا جو ننگا ناچ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے اس کی بڑی وجہ دولت کی غیر مساوی تقسیم اور امیروں کی بے حسی ہے کیونکہ اگر ہر امیر اپنے مال کا صحیح حصہ غریبوں میں تقسیم کرے تو کوئی بھی شخص بھوکا نہ سوئے مگر یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ امیر اپنے کتے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتا ہے مگر اپنے دروازے پر بیٹھے ہوئے فقیر کو چند سکے دینے میں بھی کنجوسی سے کام لیتا ہے اور یہ تضاد یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم کس قدر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکے ہیں جہاں جانوروں کی قیمت انسانوں سے زیادہ ہو چکی ہے اور اس سنگدلی کا علاج صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے اندر کے انسان کو جھنجھوڑیں اور اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ دوسروں کے دکھ درد میں بھی برابر کے شریک ہوں گے۔
بندن میاں کے مشاہدات کا دائرہ صرف شہر یا محلے تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ جب ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ظلم و ستم کی خبریں سنتے تو ان کا دل تڑپ اٹھتا تھا کہ کس طرح طاقتور ممالک کمزور قوموں پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے معصوم انسانوں کا خون بہا رہے ہیں اور وہاں بھی انسانیت کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا بلکہ صرف طاقت اور اقتدار کی ہوس ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور یہ سب دیکھ کر انہیں اس بات کا پختہ یقین ہو جاتا تھا کہ دنیا کا اصل مسئلہ معاشی یا سیاسی نہیں ہے بلکہ اخلاقی ہے کیونکہ جب تک انسان کے اندر اخلاقیات کا نظام مضبوط نہیں ہوگا تب تک وہ کسی بھی قانون یا ضابطے کے ذریعے سیدھے راستے پر نہیں لایا جا سکتا اس لیے سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انسانوں کے دلوں میں خدا کا خوف اور مخلوقِ خدا کے لیے محبت پیدا کریں جو کہ تمام مسائل کا واحد اور حتمی حل ہے۔
اس اصلاحی تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ پڑھنے والا ہر شخص اپنی زندگی کا محاسبہ کرے اور یہ دیکھے کہ وہ خود اس معاشرے میں کیا کردار ادا کر رہا ہے کیا وہ صرف ایک عام انسان کی طرح جیا اور مر گیا یا اس نے اپنے وجود سے کسی کی زندگی میں کوئی تبدیلی پیدا کی کیونکہ اگر ہم نے اپنی زندگی کا کوئی اعلیٰ مقصد مقرر نہیں کیا تو ہمارا جینا اور نہ جینا برابر ہے اور تاریخ صرف انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنی ذات سے بلند ہو کر انسانیت کی خدمت کی اور دنیا کے لیے ایک روشن مثال چھوڑ گئے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے نیکی کے کاموں سے شروعات کریں جیسے کسی روتے ہوئے کو ہنسانا، کسی کمزور کا سہارا بننا یا کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ دکھانا کیونکہ یہی وہ چھوٹے چھوٹے اقدامات ہیں جو آگے چل کر ایک بڑے معاشرتی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں اور انسان کو انسانیت کے اصل مرتبے پر فائز کرتے ہیں۔
آخر کار ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ زندگی ایک عارضی سفر ہے اور ہم سب کو ایک نہ ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے حقیقی خالق کے سامنے پیش ہونا ہے جہاں ہم سے ہماری دولت یا عہدے کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا بلکہ یہ سوال ہوگا کہ تم نے میری مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا اور اسی سوال کا جواب تیار کرنا ہی اصل زندگی کی کامیابی ہے بندن میاں کے مشاہدات کا یہی وہ آخری اور اہم ترین سبق تھا جو انہوں نے اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھا کہ انسان تو ہر گھر میں پیدا ہو جاتے ہیں لیکن انسانیت کا ظہور تبھی ہوتا ہے جب کوئی شخص اپنی آخرت کو سنوارنے کے لیے اس دنیا میں محبت، امن اور بھائی چارے کا پیامبر بن جاتا ہے اور اپنے وجود سے نفرتوں کے اندھیروں کو ختم کر کے ہر طرف انسانیت کا نور پھیلا دیتا ہے جو کہ اس کائنات کا سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑی نیکی ہے جس کی تعبیر کے لیے ہم سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے تاکہ یہ دنیا ایک بار پھر جنت کا نظارہ پیش کر سکے۔